”اس بیٹسمین کو تو ڈراپ کرنا چاہئے تھا لیکن۔۔۔“ راشد لطیف نے بنگلہ دیش کیخلاف ٹیسٹ سکواڈ میں کس کھلاڑی کی شمولیت کی مخالفت کر دی؟

”اس بیٹسمین کو تو ڈراپ کرنا چاہئے تھا لیکن۔۔۔“ راشد لطیف نے بنگلہ دیش ...
”اس بیٹسمین کو تو ڈراپ کرنا چاہئے تھا لیکن۔۔۔“ راشد لطیف نے بنگلہ دیش کیخلاف ٹیسٹ سکواڈ میں کس کھلاڑی کی شمولیت کی مخالفت کر دی؟

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کیخلاف راولپنڈی ٹیسٹ میچ کیلئے قومی سکواڈ سے کاشف بھٹی کو ڈراپ کئے جانے کے بجائے امام الحق کو باہر نکالنا چاہئے تھا۔

تفصیلات کے مطابق 51 سالہ راشد لطیف نے اپنے ایک بیان میں کہا ”جب آپ کوئی کھلاڑی تبدیل کرتے ہیں تو یہ مدنظر رکھتے ہیں کہ متبادل کھلاڑی پلیئنگ الیون میں فٹ ہوتا ہے یا نہیں، راولپنڈی ٹیسٹ میچ کیلئے شائد گھاس والی وکٹ کا انتخاب کیا گیا ہے، لہٰذا فاسٹ باﺅلرز کو استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اگر بلال آصف کو میچ کھلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو پھر لیگ سپنر یاسر شاہ کو ڈراپ کیا جانا چاہئے تھا۔“

ان کا کہنا تھا کہ ”بلال آصف کا ایکشن کچھ مشکوک نظر آتا ہے لیکن وہ لیب میں ٹیسٹ دے چکے ہیں اور ان کا ایکشن پرفیکٹ ہے، کاشف بھٹی کو سکواڈ میں شامل کرنا چاہئے تھا اور بلال آصف کو ٹیم میں رکھنے کیلئے امام الحق کو باہر نکالنا چاہئے تھا۔ کاشف بھٹی ہو یا بلال آصف ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) انتظامیہ نے سری لنکا کیخلاف سیریز سے قبل سلیکشن میں مستقل مزاجی لانے کا دعویٰ کیا تھا۔“

راشد لطیف نے کہا کہ ”اس منطق کو استعمال کرتے ہوئے امام الحق کے علاوہ عمران خان سینئر کو بھی موقع دیا۔ لیکن ہم بنگلہ دیش کیخلاف راولپنڈی ٹیسٹ میچ کی بات کریں تو آپ نے کاشف بھٹی کو موقع نہیں دیا، مگر ان کا متبادل نعمان علی یا ظفر گوہر بنتا ہے، آپ پی سی بی کے پرانے بیانات دیکھیں ، جب ہم نے کہا تھا کہ نعمان علی کو ٹیم میں ہونا چاہئے، تو کہا گیا کہ وہ صرف ایک سال سے کارکردگی دکھا رہا ہے جبکہ کاشف بھٹی جیسے کھلاڑی تین سال سے کارکردگی دکھا رہے ہیں اور اب آپ نے صرف ایک سال سے کارکردگی دکھانے والے بلال آصف کو ہی منتخب کر لیا ہے۔“

سابق کپتان نے مزید کہا ”فہیم اشرف کو بھی صرف فائنل میں ایک اچھی کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ ٹیم میں منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس سے مجھے ماضی کے اس دور کی یاد آ گئی ہے جب ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کا صرف فائنل میچ ہی ٹیلی ویژن پر نشر کیا جاتا تھا اور اس میں کارکردگی دکھانے والا قومی ٹیم میں شامل ہو جاتا تھا۔“

راشد لطیف کا کہنا تھا ”ہم فہیم اشرف اور بلال آصف ، دونوں کو ہی سپورٹ کریں گے لیکن میں صرف یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ پی سی بی سچ نہیں بولتا اور یہ سب کی آنکھوں میں مٹی ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو مستقبل میں ان پر کوئی یقین نہیں کرے گا، ہم پھر ان پر تنقید کریں گے اور ہم پر ہمیشہ تنقید کا الزام لگے گا۔“

مزید : کھیل