طلبہ قوم کا سرمایہ ہیں کیا؟

طلبہ قوم کا سرمایہ ہیں کیا؟
طلبہ قوم کا سرمایہ ہیں کیا؟

  

طلبہ قوم و ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ملک کی معیشت ہو، زراعت ہو، صنعت ہو یا کوئی بھی شعبہ ہو اس کی باگ ڈور طلبہ ہی نے مستقبل میں سنبھالنی ہوتی ہے۔ معیشت کا نقصان ہو یا افراطِ زر، وہ تو پاکستان کے باشندے برداشت کر سکتے ہیں۔ ملک کی تمام چیزیں جو اُتار چڑھاؤ کا شکار ہوتی ہیں، ان کی درستگی تو ممکن ہے، لیکن طلبہ کا تعلیمی نقصان طلبہ کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ کورونا کے سبب چھوٹے بچے، جو پریپ تا میٹرک کے طلبہ ہیں۔ کرکٹ، ہاکی، بیڈ منٹن جیسے صحت مندانہ کھیلوں کو چھوڑ کر پب جی جیسی گیمز میں مصروف ہو گئے اور اپنی ذہنی صلاحیتوں کو غلط سمت کی طرف لے گئے۔ دہشت گردی جیسی ذہنی تربیت اس گیم سے ہوتی ہے۔ اب بچے تعلیم کی طرف متوجہ نہیں ہو رہے، بلکہ سیشن میں انہوں نے جو چار ماہ پڑھائی کی تھی، وہ بھی بھولتے جا رہے ہیں۔

کورونا میں آن لائن کلاسوں کے سبب بھی طلبہ کی ذہنی صلاحیتیں زنگ آلود ہوئی ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں کے مالکان نے نہ صرف کلاسیں آن لائن لیں، بلکہ واٹس ایپ کے ذریعے تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے طلبہ میں پڑھائی کی سنجیدگی پر بہت فرق پڑا ہے۔ ان سکولوں نے طلبہ کے والدین پر بوجھ بھی ڈالا ہے اور پڑھائی کے بغیر ہی فیسیں مسلسل وصول کر رہے ہیں۔ طلبہ کی پڑھائی میں کورونا کے سبب دو گیپ آئے ہیں، جن کی وجہ سے محکمہ تعلیم کو بچوں کے سلیبس پر کٹ لگانا پڑا ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے احتجاج بھی کیا ہے کہ ان کی کلاسیں آن لائن لی گئی ہیں، لیکن امتحانات آن لائن نہیں لئے جا رہے۔ 

آن لائن کلاسوں میں طلبہ کو پڑھائی میں بے شمار مشکلات درپیش ہیں، جن کے سبب طلبہ ذہنی و جسمانی تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔ پھر والدین پر فیسوں کی ادائیگی کا بوجھ بھی الگ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ طلبہ قوم کا سرمایہ ہیں تو اس سرمائے کو ضائع کیوں کیا جا رہا ہے۔ ذہین طلبہ ابھی مطالعہ نہ کرنے کے سبب مشکلات کا شکار ہیں۔ پھر ایف ایس سی میں اس سال جو طلبہ امتحان دیتے ہیں، میڈیکل اور انجینئرنگ میں داخلہ میں بھی ان کے ساتھ بے انصافی ہوگی، کیونکہ سیکنڈ ایئر میں حاصل کردہ نمبروں کے تناسب سے فرسٹ ایئر کے نمبروں کا شمار ہونا ہے۔ اس سے ایک تو میڈیکل میں میرٹ اثر انداز ہوگا اور تعلیم میں مزید مشکلات پیدا ہونے کے خطرات بھی ہیں۔ بورڈ کے امتحانات کی روٹین اور شیڈول خراب ہو گیا ہے۔ میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے علاوہ دیگر پروفیشنل اور نان پروفیشنل اداروں میں داخلوں کا شیڈول تبدیل ہونا ہے اور میرٹ پالیسیاں بھی تبدیل ہونی ہیں۔

طلبہ قوم کا سرمایہ ہیں ان کی تعلیم کو درست سمت میں رکھنا اور نظام تعلیم کو موثر اور بامقصد بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مستقبل میں طلبہ ہی نے قوم و ملک کا بوجھ سنبھالنا ہے۔ ملک کی پولیس، تعلیم، بیوروکریسی اور سیاست میں مستقبل میں داخل ہو کر ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے کام کرنا ہے۔ اب دیکھیں ایف اے، ایف ایس سی، میٹرک کے امتحانات مارچ اپریل کی بجائے جون جولائی میں چلے گئے ہیں۔ گھر میں بیٹھ بیٹھ کر اور آن لائن کلاسوں کے سبب طلبہ کی ذہنی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ ان کی دلچسپی کے رجحانات تبدیل ہوئے ہیں۔ ذہین و فطین طلبہ بھی کورونا کے سبب اپنی ذہنی صلاحیتوں سے پڑھنے کے عمل کو زنگ آلود کر چکے ہیں۔ مختلف کھیلوں اور نقصان دہ غیر ضروری مصروفیات میں ان کی دلچسپی بڑھ چکی ہے۔ پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کی بلڈنگیں بھی کرایہ کی ہیں، ان کے لئے کرایہ اور اساتذہ کی تنخواہیں دینا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے تعلیمی ادارے جو برسوں سے ترقی کی طرف گامزن تھے، اب معاشی مشکلات کے سبب پستی کا شکار ہیں اور ان کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 

کورونا کے سبب جہاں معاشی، معاشرتی اور اموات کا نقصان ہوا ہے، دنیا بھر کے لاکھوں افراد کورونا میں مبتلا ہوئے ہیں۔ اس کا ازالہ تو کسی نہ کسی روز شاید ہو جائے، لیکن تعلیمی اداروں اور طلبہ کی تعلیم کا جو ہرج ہوا ہے، اس کے اثرات نہ صرف ملکی حالات، بلکہ خاندانوں پر بھی شدت سے پڑے ہیں۔ طلبہ پر والدین نے جو سرمایہ کاری کی اور ان کے روشن مستقبل کے خواب دیکھے تھے، وہ چکنا چور ہو گئے ہیں۔ حصولِ تعلیم اور پڑھائی کے رجحانات میں شدید کمی آئی ہے۔ تعلیمی ادارے بند رہنے سے طلبہ کی روٹین اور ان کا تعلیم کے حصول پر توجہ دینے کا ذہنی توازن بگڑ کر رہ گیا ہے۔ کورونا کی وجہ سے والدین بچوں کی توجہ تعلیم پر قائم رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ فروری میں تعلیمی ادارے کھلنے ہیں، لیکن اب بچوں کا سکول جانے کو دل نہیں کر رہا ہے۔ ان کے میلانات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک میں پاکستانی خاندان جو آباد تھے، وہ کورونا کے ایام میں کسی نہ کسی طریقے سے پاکستان آ گئے ہیں۔ ان کے بچے بھی نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوا ہے کہ ٹیکنالوجی، موبائل، کمپیوٹر، نیٹ، فیس بک، واٹس ایپ کے استعمال میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔

اس اضافے میں زیادہ تر تعداد طلبہ یعنی چھوٹی کلاسوں کے طلبہ کی ہے۔ پب جی جیسی خطرناک گیم میں دلچسپی کی شرح بڑھنے سے بے شمار بچوں نے خود کشی کی ہے۔ ان کے ذہنی توازن اور ذہنی تناؤ میں اضافے سے دماغی امراض بڑھنے لگے ہیں۔ بچے عادی مجرم کی طرح پب جی گیم کے دیوانے ہو گئے ہیں، جس کے سبب ان کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ 

حال ہی میں فیصل آباد سمندری کے 16 سالہ بچے نے پب جی کھیلتے وقت مطلوبہ نتائج نہ نکلنے پر ذہنی دباؤ اتنا شدید ہوا کہ اس کے دماغ کی شریانیں پھٹ گئیں اور وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ حکومت پاکستان کو سوچنا چاہیے اور پی ٹی اے کو دوبارہ اس خطرناک اور چھوٹے بچوں کا مستقبل تباہ کرنے والی گیم پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔ بچوں کی اس موذی گیم میں دلچسپی ختم کرنے کے لئے بھی اقدامات کرنے چاہئیں، جس سے ہمارا حقیقی سرمایہ یعنی قوم کے بچے و طلبہ بچ سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -