حمل کے دوران کمر بَل سونے سے بچے کے مردہ پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، سائنسدانوں نے سخت وارننگ دے دی

حمل کے دوران کمر بَل سونے سے بچے کے مردہ پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، ...
حمل کے دوران کمر بَل سونے سے بچے کے مردہ پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، سائنسدانوں نے سخت وارننگ دے دی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) حمل کے دوران خواتین کو کس پوزیشن میں سونا چاہیے؟ سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سیدھا سونے کے متعلق حاملہ خواتین کو خبردار بھی کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یونیورسٹی کالج لندن کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ حمل کے آخری تین ماہ کے دوران خواتین کاسیدھا، پشت پر سونا بچے کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور ان کا حمل ضائع بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس پوزیشن میں سونے سے بچے کو خون کی فراہمی بہت کم ہو جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 22حاملہ خواتین پر تجربات کیے۔ انہوں نے ان خواتین کو 20سے 25منٹ تک پشت کے بل ایم آر آئی مشین میں لیٹنے کو کہا۔ صرف اتنا وقت پشت کے بل لیٹنے سے ان کے پیٹ میں پرورش پاتے بچے کو خون کی فراہمی پہلو کے بل لیٹنے کی نسبت 11.2فیصد کم ہو گئی تھی۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ پروفیسر اینا ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ خواتین کو حمل کے آخری تین ماہ کے دوران پہلو کے بل سونا چاہیے۔ یہ بچے کی صحت کے لیے بہترین پوزیشن ہے جس میں بچے کو ’ناف کی نالی‘ کے ذریعے خون کی فراہمی سب سے زیادہ ہوتی ہے اور اس کی نشوونما بہترین طریقے سے ہوتی ہے۔

مزید :

تعلیم و صحت -