ٹرین کے دو تاریخی حادثے اور ہمارے لیے سبق 

ٹرین کے دو تاریخی حادثے اور ہمارے لیے سبق 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پہلا حادثہ: جنگ عظیم اول میں اٹلی میں لڑنے والے فرانسیسی سپاہیوں کو ان کے جرنیل نے چند یوم کی چھٹی دی تا کہ وہ اپنے گھروں سے تازہ دم ہو کر آئیں۔ 12 دسمبر 1917 کو یہ لوگ ایک ٹرین میں بیٹھے جو فرانس کے اسٹیشن مارین کی طرف جانے والی تھی۔ جب انجینئر نے دیکھا کہ ٹرین میں اس کی گنجائش سے ڈیڑھ گنا زیادہ افراد سوار ہو گئے ہیں تو اس نے گاڑی آگے بڑھانے سے انکار کر دیا۔ وہاں موجود کمانڈنگ افسر نے انجینئر کو ٹرین روکے رکھنے پر سزا کی دھمکی دی جس سے خوفزدہ ہو کر وہ ریل گاڑی چلانے پر آمادہ ہو گیا۔
تقریباً ایک ہزار مسافر لے کر یہ ٹرین ایک پہاڑی علاقے سے گزر رہی تھی جہاں اسے نیچے وادی میں اترنا تھا۔ مسافروں کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹرین کی رفتار وادی میں جاتے وقت اتنی زیادہ ہو گئی کہ اسے قابو میں رکھنا ممکن نہ رہا۔ بریکیں فیل ہو گئیں اور لکڑی کی بوگیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ فوجیوں کے پاس ہینڈ گرنیڈ تھے جو حادثاتی طور پر چل گئے اور یوں پوری ٹرین آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ اس حادثے میں 900 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔دوسرا حادثہ: 6 جون 1981 کو بھارت میں ایک ٹرین مانسی سے بہار کی جانب جا رہی تھی۔ راستے میں دریائے بھاگ متی کا پل تھا جہاں شدید بارشوں کی وجہ سے سیلاب آیا ہوا تھا۔ جب ٹرین دریا کے پل پر پہنچی تو وہاں ایک چرواہا اپنی گائے لے کر پٹڑی پر جا رہا تھا۔ انجینئر نے گاڑی کی بریک لگائی۔ پٹڑی گیلی ہونے کے سبب ریل گاڑی پھسل گئی اور اس کی کئی بوگیاں بپھرے ہوئے دریا میں جا گریں۔ اس حادثے میں چھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ان دونوں حادثات کو ریل گاڑی کی تاریخ کے ہولناک ترین حادثوں میں شمار کیا جاتا ہے۔فرانس میں پیش آنے والے حادثے میں گنجائش سے زیادہ افراد کا سوار ہونا اور بھارتی حادثے میں ایک چرواہے کا پٹڑی پر آ جانا سیکڑوں اموات کے ذمہ دار تھے۔اب ان دونوں اسباب کو ہم پاکستان میں لے کر آتے ہیں۔


چونکہ ٹرین عام آدمی کی سواری ہے، سو یہاں ہر آدمی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو ریل گاڑی ہی سے سفر کرے۔ نتیجتاً ہماری گاڑیاں اوور کراؤڈڈ ہوتی ہیں۔ پاکستان ریلوے کے پاس اتنا عملہ نہیں کہ وہ مسافروں کو گاڑی کی گنجائش ختم ہونے پر روک سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اہم دنوں میں خصوصی ٹرینیں چلانے کے باوجود ریل گاڑیاں لوگوں سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ ایسی صورت حال میں اگر انجینئر گاڑی چلانے سے انکار کرے تو ریلوے کی سروس ڈیلیوری پر حرف اٹھایا جاتا ہے، اور اگر ہجوم کی وجہ سے کوئی حادثہ ہو جائے تب بھی ریلوے ہی ذمہ دار ٹھہرتا ہے۔حادثات کی ایک بڑی وجہ ریلوے لائن پر لوگوں کی آمد و رفت بھی ہے۔ پھاٹک بند ہونے کے باوجود لائنوں کے اوپر سے موٹر سائیکل گزارنا اور ہینڈز فری لگا کر ریلوے لائن کے قریب واک کرنا بعض لوگوں کے لیے قابلِ فخر ہوتا ہے۔ اس طرح کی سوچ کو تبدیل کرنا پڑے گا۔امریکی محکمہ ریل کے مطابق دنیا میں ٹرینوں کے پچاس فیصد سے زائد حادثے ریلوے کراسنگ کے قریب ہوتے ہیں۔ اگر ہم پھاٹک کھلنے کا انتظار کر لیں اور بلا وجہ پٹڑی کے قریب جانے سے احتیاط کر لیں تو ان پچاس فیصد حادثوں سے بچا جا سکتا ہے۔اسی طرح اگر ٹکٹ کی بکنگ پہلے ہی کروالی جائے تو پلیٹ فارم پر رش کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔


پاکستان ریلوے ملک کے بڑے اداروں میں سے ایک ہے۔ لیکن اس کا کل بجٹ صرف تیس ارب روپے ہے جس کا بیشتر حصہ تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے۔ بچی کھچی رقم سے حیرت انگیز اور اچانک تبدیلی ممکن نہیں محدود وسائل اور افرادی قوت کی کمی کے باوجود وزیر اور چیف ایگزیکٹو ریلوے اس کوشش میں ہیں کہ ریلوے کا خسارہ ختم کر کے اسے منافع بخش ادارہ بنایا جا سکے۔ چند روز قبل کراچی میں فریٹ ٹرین کا افتتاح اور پی ایس او کے ساتھ تیل کی ٹرانسپورٹ کے معاہدے اس حوالے سے مددگار ہوں گے۔  لیکن حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب عوام کو ریلوے کی ہدایات سے متعلق آگہی ہو گی اور وہ ان پر عمل کرنا قومی فریضہ سمجھیں گے۔ اس سے نہ صرف حادثات میں کمی آئے گی بلکہ سفر بھی محفوظ ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -