"ہمیں خلا میں روسیوں کا پیشاب ری سائیکل کرکے پینا پڑتا ہے" امریکی خلاباز کا تہلکہ خیز انکشاف

"ہمیں خلا میں روسیوں کا پیشاب ری سائیکل کرکے پینا پڑتا ہے" امریکی خلاباز کا ...

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی خلائی سٹیشن میں وقت گزارنے والے ایک امریکی خلاءباز نے ایک ایسا کراہت آمیز انکشاف کر دیا ہے کہ سن کر ہی جی متلانے لگے۔ دی سن کے مطابق امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے خلاءنورد سٹیو سوانسن 2014ءمیں بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر رہے۔ انہوں نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ کس طرح خلائی سٹیشن پر امریکی خلاءباز، روسی خلاءبازوں کا پیشاب ’ری سائیکل‘ کرکے پینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سٹیوسوانسن نے بتایا ہے کہ ”بین الاقوامی خلائی سٹیشن کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک حصہ روسی خلاءبازآپریٹ کرتے ہیں جبکہ دوسرا حصہ امریکہ دیگر کئی ممالک کے ساتھ مل کر آپریٹ کرتا ہے۔ زمین پر امریکہ اور روس کے درمیان تعلق کیسے بھی رہیں، خلاءمیں یہ بقاءکا معاملہ ہوتا ہے اور ہمیں روسی خلاءبازوں کا پیشاب پینا پڑتا ہے۔ “

سٹیو نے بتایا کہ ”خلائی سٹیشن پر امریکہ اور روس کی زمین پر مخاصمت اتنی اثرانداز نہیں ہوتی۔ خلائی سٹیشن کے دونوں حصوں میں کام کرنے والے ماہرین کو اپنی اپنی بقاءکے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا پڑتا ہے۔ جب میں خلائی سٹیشن میں تھا، اس وقت زمین پر روس کریمیا پر قبضہ کر رہا تھا اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے لیکن خلائی سٹیشن میں کوئی اس معاملے پر بات بھی نہیں کرتا تھا، وہاں ہم اس طرح اتفاق سے رہتے تھے، جیسے زمین پرایسا کچھ ہو ہی نہ رہا ہو۔“

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -