صحافی کا بولنا آئینی حق۔۔۔۔

           صحافی کا بولنا آئینی حق۔۔۔۔
           صحافی کا بولنا آئینی حق۔۔۔۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اس ملک پر بہت سے احسانات ہیں جن میں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانا، پاکستانی عوام کو بولنا سکھانا، اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا، اسلامی ممالک کا گٹھ جوڑ کرنے میں عملی اقدامات اور سب سے بڑھ کر اس ملک کو 1973ء کا آئین دینا جو اس وقت کی تمام جماعتوں اور نامور وکلاء کے دستخطوں کے بعد عملی شکل میں آج ہمارے پاس موجود ہے۔اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ حالات کی نزاکت کے مطابق برسر اقتدار سیاسی جماعتیں اس آئین میں اپنی ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کرتی رہی ہیں تاہم اس آئین کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل نہیں ہو سکا۔ اس آئین پر ڈکٹیٹرز نے بھی حملے کئے لیکن آئین کی جو شقیں بنیادی حقوق کی صورت میں لکھی گئی تھیں وہ آج بھی موجود ہیں اور انہیں کوئی ڈکٹیٹر بھی نہ تو معطل کر سکا اور نا ہی ترمیم کرنے کا حوصلہ ہوا۔آئین پاکستان 1973ء میں بنیادی حقوق اس انداز میں دئے گئے کہ پاکستانی کو ہر وہ سہولت دینے کی کوشش کی گئی جو اسے قرآن پاک بھی عطا کرتا ہے جن میں کسی شخص کو آزادنہ بولنے کی اجازت اور سزا سے قبل اسے صفائی کا موقع ملنا اس کا حق ہے۔اسی آئین نے ایک پاکستانی کو بولنے کی آزادی دی ہے لیکن ساتھ ہی یہ قدغن بھی لگائی کہ بولتے وقت ایسا نا بولا جائے جس سے اس شخص کی آزادی رائے کا غلط استعمال نہ ہو سکے اور دوسرے شخص کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔گذشتہ دنوں ایف آئی اے کی جانب سے صحافیوں پر عدلیہ مخالف مہم کے سلسلے میں نوٹس جاری کئے گئے تھے اور جب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت 5 رکنی پنچ کے سامنے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران آیا تو چیف جسٹس نے ایف آئی اے کے حکام کو واضح لفظوں میں کہا کہ جن صحافیوں کو نوٹس جاری کئے گئے تھے وہ واپس لئے جائیں۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمارا آئین ہر شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری دیتا ہے اور ہر صحافی کو سچ بولنے اور لکھنے کا مکمل حق ہے اور اگر وہ تنقید کرتے ہیں تو یہ ان کو آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہ بھی کہا کہ اگر ان پر بھی تنقید کی جائے تو کوئی پرواہ نہیں کیونکہ آئین پاکستان کی بنیادی شقوں کے مطابق صحافی برادری کا حق ہے کہ عوام تک حقائق پہنچائے جائیں،

کیونکہ عوام نے انہی صحافیوں کا لکھا ہوا پڑھ کر حالات سے آگہی لینا ہوتی ہے اور اگر عوام بھی تنقید کریں تو ان کا آئینی حق ہے۔چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ صحافی عدالتی فیصلوں پر تنقید ضرور کریں لیکن کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان سمیت تمام سپیرئیر کورٹس کے جج بھی آئین کے محافظ ہیں اور اگر کسی معاملے میں کوئی ابہام پیدا ہو جائے تو ہمیشہ معاملہ سپریم کورٹ کو بھیجا جاتا ہے تا کہ آئین کی تشریح ہو سکے ماضی میں بھی ہم نے دیکھا کہ پارلیمنٹ سے آئینی معاملات کی تشریح کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔ پاکستان میں عدلیہ اور مقننہ کے بعد ”صحافت“کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے جس کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ آئین پاکستان اور قانون کی روشنی میں دئیے گئے اختیارات کا استعمال کرے اور ان سے تجاوز نہ کرے لیکن صحافی برادری میں شامل رپورٹرز اور اینکر پرسن بعض اوقات لائیو پروگرام میں ایسی باتیں بھی کر جاتے ہیں جو مناسب نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے ملکی ادارے حرکت میں آتے ہیں اور ان صحافیوں کو نوٹس جاری کئے جاتے ہیں تاکہ ان کے جواب کی روشنی میں معاملے کو دیکھا جائے اور اگر کارروائی کرنا پڑے تو کی جا سکے۔ آئینی عدلیہ ہمیشہ اپنے ملک کے باسیوں کو ان کے حقوق مہیا کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ معزز چیف جسٹس نے صحافیوں کو جاری کئے گئے نوٹس واپس لینے کے لئے حکم جاری کیا اور آئین میں دیئے گئے حقوق کے مطابق صحافیوں کو فیصلوں پر تنقید کرنے کا حق ہے تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ فیصلوں پر تنقید کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اگر صحافی برادری ان کا مذاق بھی بنائیں تو کوئی فکر نہیں۔

تاہم اب یہ صحافی برادری کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس حکم کی لاج رکھیں اور کسی کو بھی شکایت کا موقع نہ دیں۔پاکستان کے آئین میں دیئے گئے اختیارات کے تحت ہر شہری کو آرٹیکلز 4,اے 18,10، 25اور سب سے بڑھ کر 199کے تحت بہت سے ایسے حقوق حاصل ہیں جن کے ذریعے وہ کسی بھی بنیادی حق کی خلاف ورزی کو عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں اور ہماری عدالتیں ان کا موقف سننے کے بعد اس پر فیصلہ کرتی ہیں۔پاکستان کے عام شہری کے پاس آئینی لحاظ سے کئی قسم کے بنیادی حقوق ہیں جن کی خلاف ورزی کی نشاندہی پر عدالتیں اپنا کردار ادا کرتی ہیں لیکن بہت سے معاملات ادھورے بھی رہ جاتے ہیں جس کی وجہ شاید عدالتوں میں ججوں کی کمی اور مقدمات کی بھرمار ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کو عدالتی نظام کو تیز اور مزید بہتر کرنے کے لئے اقدامات کرنا چاہئیں تا کہ سائلین کو اپنے مقدمات کی پیروی کے لئے مسائل کا سامنا نا کرنا پڑے۔ ملک بھر کے ہائیکورٹس سمیت دیگر ججز کی تعداد میں موجودہ آبادی اور مقدمات دائر ہونے کے تناسب سے اضافہ کیا جانا چاہئے اور اگر اس حوالے سے مقننہ کو شامل کرنا پڑے تو آئین میں ترمیم کر کے سہولتیں پیدا کی جائیں کیونکہ عدالتی نظام انصاف ٹھیک ہو گا تو ملک کے ادارے بھی اپنے اپنی جگہ پر رہ کر صحیح کام کریں گے اور ترقی کے راستے کھلتے نظر آئیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -