کیا مرنا ضروری ہے؟
بھاٹی گیٹ حادثہ والی جگہ پر سڑک تنگ کرکے، پیدل گزرگاہ ختم کرکے غیرقانونی پارکنگ چلائی جا رہی تھی۔ ایسی ہی سینکڑوں غیرقانونی پارکنگز لاہور سمیت دیگر شہروں کی ہر سڑک پر قائم ہیں۔ انتظامیہ کی رشوت ستانی کی وجہ سے تمام اہم شاہراہوں پر کار شورومز اور ورکشاپس سڑکوں پر قائم ہیں۔ تجاوزات کے خاتمے کو صرف جعلی فوٹو سیشنز تک محدود کر دیا گیا ہے۔
شدید دھند کے دنوں میں گھروں کے باہر اور بازاروں میں بنائے گئے غیرقانونی ریمپ، گھروں کے باہر سڑک پر رکھے گئے پتھر، اضافی گرین بیلٹ اور غیرقانونی گارڈ رومز سے ٹکرا کر سینکڑوں حادثات ہوئے، لیکن ان تجاوزات کے خلاف کوئی ایکشن نہیں، کیونکہ صرف زخمی ہونا کافی نہیں تھا، حکمرانوں تک آواز پہنچانے کے لیے مرنا ضروری ہے۔
واسا، ایل ڈی اے، پی ایچ اے اور میونسپل کارپوریشن کے افسران کی اربوں روپے کے بجٹ میں ڈاکہ زنی کے راستے تلاش کرنے کے علاوہ دوسری سوچ ہی نہیں۔
واسا، پی ایچ اے اور ڈی سیز چین کی رنگ برنگی بتیوں کے ساتھ ایک ویڈیو بنا کر چیف منسٹر کو ٹیگ کرکے شاباش بھی لے لیتے ہیں اور کروڑوں روپے کی گیم بھی ڈال لیتے ہیں، جبکہ اسی جگہ سمیت باقی سارا شہر اور ضلع کھنڈر بنا ہوتا ہے۔ سرکاری میلوں، سیمینارز اور جشنِ بہاراں جیسی سرگرمیاں کمائی کا اہم ذریعہ ہیں۔
شعبۂ صحت کا بیڑا غرق ہو چکا ہے، لوگ مر رہے ہیں اور افسران جیبیں بھر رہے ہیں۔
سرکاری طور پر تقسیم کیے گئے مفت ہیلمٹ اور موٹر بائیک روڈز کے بل دیکھ کر آپ چکرا جائیں گے کہ ہزار فیصد ایکسٹرا ریٹ لگائے جاتے ہیں، اور اگر تعداد ایک لاکھ بتائی جاتی ہے تو حقیقت میں بیس ہزار تقسیم کی جاتی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے بیس ہزار والی ریڑھی ساٹھ کی اور ساٹھ ہزار والی ایک لاکھ ساٹھ میں تیار کروا کر ریڑھی بازاروں کے نام پر خوب کمائی کی۔ پھر وہی ریڑھیاں دینے کے لیے بھی بیس سے تیس ہزار کی دیہاڑی لگائی گئی۔ پھر انہی ریڑھیوں سے روزانہ بھتہ بھی لیا جاتا ہے۔ سرکاری ریڑھی بازار کے بالکل سامنے سڑک پر پرائیویٹ ریڑھیوں اور ٹھیلوں کو بھی رشوت کے عوض دکانداری کی اجازت ہے۔
یعنی سرکاری ملازمین کی ساری توجہ فراڈ اسکیموں اور پیسہ بنانے پر ہوتی ہے، عوام مرتی ہے تو مر جائے، ان کی دیہاڑی لگنی چاہیے۔
انکروچمنٹ کے خاتمے کے بجائے تجاوزات کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ تجاوزات مافیا سرعام کہتا ہے کہ ہم مفت میں نہیں بیٹھے، ضلعی انتظامیہ، ایل ڈی اے، ایم سی ایل، ٹریفک پولیس اور پیرا کو ”پروٹیکشن منی“ دیتے ہیں۔
اس سے بڑھ کر لاقانونیت اور شرمناک بات کیا ہو سکتی ہے کہ جس فورس کو قانون کی عملداری کے لیے بنایا جاتا ہے وہ خود قانون شکنی کی ساری حدیں پار کر رہی ہوتی ہے۔
گھر کے باہر زیادہ سے زیادہ 2 فٹ تک گرین بیلٹ ہوتا ہے، لیکن لاہور سمیت تمام شہروں میں پانچ سے پندرہ فٹ تک گرین بیلٹ، پارکنگ اور گارڈ روم کے نام پر جگہ، جگہ قبضہ کیا گیا ہے۔ گارڈ روم والی بدمعاشی سرکاری کن ٹٹوں نے کی ہوئی ہے۔ ہر سرکاری افسر گھر کے باہر سڑک پر گارڈ روم بنانا، بدمعاشی دکھانا اپنا استحقاق سمجھتا ہے۔ بہت سارے افسران نے جی او آر کی تصاویر اور ویڈیوز بھیجی ہیں کہ ان کے ساتھی افسران کس طرح بدمعاشی کرکے راستہ بند کر دیتے ہیں اور گلی پر قبضہ کرکے پختہ تعمیرات کی ہوئی ہیں۔ جو اپنے گھر سرکاری کالونی سے تجاوزات ختم نہیں کروا سکتے، وہ باہر کیا کریں گے۔
سب سے بدترین تجاوزات لاہور میں ہیں، جہاں سڑکوں پر گاڑی چلانا جبکہ بازاروں میں پیدل چلنا بھی محال ہے۔
خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار، متعدد بار شکایات کے باوجود کارروائی نہیں کی جا رہی۔ صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہیے، لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے سرکاری افسران نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔
لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراہوں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کر ماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات ماہانہ کروڑوں کی انڈسٹری ہے۔
لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز، ریپئرنگ ورکشاپس اور ریسٹورنٹ مافیا نے ”پروٹیکشن منی“ دے کر سڑکوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ سرکاری اور پرائیویٹ چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگا کر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔ گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10 فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔
سرکاری گاڑیوں کی اکثریت بغیر نمبر پلیٹ ہے یا نمبر کے آگے راڈ لگا کر چھپایا ہوتا ہے۔ عام پبلک کا آن لائن چالان اور ان سرکاری بدمعاشوں کو کھلی چھٹی کیوں؟
رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو دو ہزار روزانہ پر بغیر نمبر پلیٹ چلانے کی اجازت ہے، کیونکہ مجموعی طور پر یہ رقم 60 کروڑ روزانہ سے زائد ہے۔
عام شہریوں کو ان قانون شکن اور بدمعاش سرکاری و پرائیویٹ مافیا سے انصاف اور حق لینے کے لیے مرنا ضروری ہے کیا؟
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
