نئے سال میں عزمِ نو کی ضرورت

نئے سال میں عزمِ نو کی ضرورت
نئے سال میں عزمِ نو کی ضرورت

  

 جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے، تب تک 2012ءرخصت اور2013ءشروع ہو چکا ہوگا۔ ہماری زندگیوں میں، ملکی تاریخ میں ایک سال اور گزر گیا، اس کے علاوہ کچھ اور فرق نہیں پڑا۔ سال 2012ءکے دوران ملک کو بجلی اور گیس کے بدترین بحران کا سامنا رہا، امن و امان کے حالات تشویشناک رہے، کراچی میں روزانہ درجنوں لاشیں گرتی رہیں، خیبرپختونخواکے سینئر وزیر بشیر احمد بلور دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے، ڈالر اور دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر کم ہوتی رہی، پاکستان کے بیرونی قرضوں کا بوجھ 66ارب ڈالر سے بھی تجاوز کرگیا۔ اس کے علاوہ بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں بے جا بھاری اضافے، صنعتی شعبے کی قابل ِ رحم حالت ، زیادہ پیداواری لاگت، معاشی حجم کا سکڑنا، امن و امان کی بدترین صورت حال، ماحولیاتی آلودگی ،غربت اور بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح جیسے مسائل بھی شدّ و مدّ کے موجود رہے۔ نیا سال آنے سے ہندسہ تو بدل جائے گا، لیکن حالات بدلنے کی کوئی خاص توقع نہیں، تاوقتیکہ ان مسائل پر قابو پا لیا جائے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔

 معاشی کمزوری کسی بھی ریاست کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے، لہٰذا نئے سال کے ساتھ ہی پالیسی سازوں کو نئے عزم کے ساتھ ان مسائل کے حل کے لئے سرگرمِ عمل ہوجانا چاہئے۔ کسی بھی ملک کی معاشی نشوونما میں توانائی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن ہمارے ہاں صنعتوں کے لئے بجلی اور گیس گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح غائب ہے۔ ایک بات جو مجھے بہت پریشان کر رہی ہے ،وہ یہ ہے کہ پنجاب کی ٹیکسٹائل، لیدر، فرٹیلائزر ، سی این جی سٹیشنوں اور دیگر صنعتوں کو گیس بالکل نہیں دی جارہی تو پھر آخر ملک میں پیدا ہونے والی گیس جا کہاں رہی ہے؟جہاں تک بجلی کے بحران کا تعلق ہے تو اس کی بنیادی وجہ روایتی ذرائع پر انحصار اور بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کرنا ہے۔ ملک میں زیادہ بجلی فرنس آئل سے پیدا کی جارہی ہے جو بہت مہنگی پڑتی ہے ، ہائیڈل پیداوار بہت کم ہے، کیونکہ گزشتہ 35سال سے ملک میں کوئی ڈیم تعمیر کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی اور کالاباغ ڈیم کو بھی سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا،جبکہ کوئلے سے بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے۔

 بجلی کے بحران اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کا سب سے اہم حل یہ ہے کہ ہائیڈل بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے، وگرنہ ہوسکتا ہے کہ آئندہ چند ہی سال میں بجلی کی قیمت 50روپے فی یونٹ تک جاپہنچے۔ حکومت کالاباغ ڈیم سمیت دیگر ڈیموں کی تعمیر فوری طور پر شروع کرے جس سے نہ صرف وافر سستی بجلی پیداہوگی، بلکہ زرعی شعبے کو وافر پانی بھی میسر ہوگا۔ پاکستان کوئلے سے صرف ایک فیصد بجلی پیدا کررہا ہے، جبکہ امریکہ میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار 80فیصد، چین میں 70 فیصد اور بھارت میں 50فیصدہے۔ کوئلے کے ذریعے بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے کیونکہ کوئلہ درآمد کرنے کے باوجود بھی فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی سے پانچ گنا سستی پڑے گی۔ حکومت توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔ اس وقت ہمسایہ ممالک بھارت ہوا کے ذریعے 9600میگاواٹ سے زائد، جبکہ چین 12,000میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کررہا ہے، لیکن پاکستان کا اِس دوڑ میں دُور دُور تک کوئی نام و نشاں نہیں۔

 بھارت نے پچھلے سال ہوا کے ذریعے توانائی کے حصول کی صلاحیت میں 1800 میگاواٹ، جبکہ چین نے 6300میگاواٹ کا اضافہ کیا ہے۔ خود انحصاری اور معاشی ترقی کی راہ پر پہلا قدم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ نہ صرف نئے قرضے لینے سے گریز کیا جائے، بلکہ 66ارب ڈالر کے قرضوں سے جان چھڑانے کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، کیونکہ بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ ان قرضوں کے سود کی ادائیگی پر صرف ہو رہا ہے، جبکہ اصل قرضے وہیں کے وہیں ہیں۔ ہر سال ایک بہت بھاری رقم ڈیبٹ سروسنگ میں استعمال ہوجاتی ہے۔ اگر حکومت قرضے نہیں لے گی تو نہ صرف سود کی مد میں خرچ ہونے والی بھاری رقم بچے گی، بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کی بجلی ، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں بھاری اضافے جیسی شرائط بھی تسلیم نہیں کرنا پڑیں گی۔ جہاں تک امداد کا تعلق ہے تو اس کے عوض حکومت کو کڑی شرائط قبول نہیں کرنی چاہئیں، کیونکہ امداد دینے والے ممالک پاکستان پر کوئی احسان نہیں کررہے ۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اُن کی امداد سے کہیں زیادہ بڑھ کر تعاون کرچکا ہے، جس سے ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستانی معیشت کو80ارب ڈالر کے لگ بھگ نقصان برداشت کرنا پڑا۔

 پاکستان نہ صرف یہ مطالبہ کرے کہ اِسے غیر مشروط امداد دی جائے،بلکہ وہ تمام ممالک پاکستانی مصنوعات کو اپنی مارکیٹوں تک ڈیوٹی فری رسائی فراہم کریں، جو پاکستانی تعاون کے بغیردہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ معاشی استحکام کے حصول کے لئے پاکستان کو برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا، جس کے لئے علاقائی تجارت کے فروغ کی جانب زیادہ توجہ دینا ہو گی۔ علاقائی تجارت کا مطلب یہ نہیں کہ دھڑا دھڑ درآمدات شروع کر کے تجارتی حجم میں اضافہ کیا جائے، بلکہ ہمیں علاقائی ممالک کو برآمدات بڑھانے پر زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ پاکستان کو وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ریلوے لنک قائم کرنا چاہئے،جس سے ان ریاستوں کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوگا۔ ہماری برآمدات اب تک صرف چند روایتی شعبوں تک محدود ہے، جس کی وجہ سے ان میں اضافے کا خواب پورا نہیں ہوسکا۔ اب یہ اشد ضروری ہوگیا ہے کہ برآمدات کے روایتی میدانوں سے نکل کر نئے شعبوں اور نئی منڈیوں کی تلاش پر توجہ دی جائے۔

 ٹیکسٹائل ملک کی سب سے بڑی صنعت ہے جسکا ک±ل برآمدات میں حصّہ 60فیصد سے زائد ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی سالانہ طلب 18 ٹریلین ڈالر ہے جس میں ہر سال 2.5فیصد کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ ٹیکسٹائل کی سالانہ تجارت میں پاکستان کا حصّہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ مزید خوفناک بات یہ ہے کہ وہ ممالک جو ہماری ٹیکسٹائل مصنوعات کے دیرینہ خریدار تھے وہ بھی چین، بھارت اور بنگلہ دیش کا رُخ کررہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے دورِ جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لوگوں کی مشاورت سے طویل المیعاد اور قلیل المیعاد پالیسیاں ترتیب دے۔ سب سے ضروری یہ ہے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ ووکیشنل اور ایجوکیشنل سنٹرز قائم کئے جائیں، جہاں ایسی ہنرمند افرادی قوت پیدا ہو جو صنعتی پیداوار میں کمی نہیں، بلکہ اضافے کا باعث بنے۔ امن و امان کی بدترصورت حال صنعت سازی اور سرمایہ کاری کے فروغ کی راہ میں حائل ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے اور صرف اسی کی وجہ سے گزشتہ سال غیرملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو معیشت کے لئے بہت بُری اطلاع ہے۔

 امن و امان کی صورت حال خصوصاً کراچی کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں کیونکہ ملک کا سب سے بڑا شہر ہونے کی حیثیت سے کراچی سرمایہ کاروں کی اوّلین ترجیح ہوتا ہے۔اس کے علاوہ حکومت کو حاصل ہونے والے کُل محاصل کا 65فیصد حصّہ کراچی سے حاصل ہوتا ہے، ملک کے تمام سرکاری و نجی بنکوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مرکزی دفاتر کراچی میں ہیں، ملک کی سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ کراچی میں ہے، سافٹ ویئر سازی کا بڑا مرکزکراچی ہے اور درجنوں صنعتی زون یہاں واقع ہیں، لیکن ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وجہ سے یہ تمام سرگرمیاں ماند پڑی ہوئی ہیں، جبکہ غیرملکی سرمایہ کاروں نے یہاں آمد کا سلسلہ تقریباً روک دیا ہے۔ حکومت اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی مشاورت سے کراچی سمیت ملک بھر میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے منصوبہ بندی کرنی اور عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

 علاوہ ازیں سرمایہ کاروں کے لئے ون ونڈو آپریشن کا اجراءکیا جائے تاکہ انہیں تمام سہولیات ایک ہی جگہ میسر ہوں جس سے کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ بھی ہوگا جبکہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ماحولیاتی آلودگی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو ایک طرف تو انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے اور دوسری طرف سنگین معاشی خطرات بھی پیدا کررہا ہے کیونکہ ترقی یافتہ دُنیا بالخصوص یورپین یونین اُن ممالک سے مصنوعات درآمد کرنے سے گریزاں ہے جو ماحولیاتی طور پر آلودہ ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے لاہور اور کراچی ایشیاکے پہلے دس شہروں کی صف میں شامل ہےں اور ظاہر ہے کہ یہ کسی طرح بھی ہمارے لئے کوئی فخر کی بات نہیں ہے۔ یورپین یونین ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستان ہرگز اسے کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتا ، لہٰذا ماحولیاتی آلودگی کے خلاف حکومت کو باقاعدہ ایک جنگ شروع کرنی چاہئے، جس سے صرف لاہور میں سالانہ 1500 سے زائد وہ قیمتی جانیں بچائی جاسکیں گی جو صرف اور صرف ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں جبکہ بے شمار معاشی فوائد بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔  ٭

مزید :

کالم -