جانے کیا کچھ پڑھا دیا اس کو

جانے کیا کچھ پڑھا دیا اس کو

  

پیپلزپارٹی بلاشبہ ملک کے طول و عرض میں سیاسی اثر اور اپنے مقلدین رکھنے والی سیاسی جماعت ہے۔گو کہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب یا بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی کا سیاسی قد کاٹھ نسبتاً خاصہ بلند تھا، لیکن آج بھی سنجیدہ سیاسی کارکن اور تجزیہ کار پیپلزپارٹی کو ایک بڑی قومی جماعت کے طور پر دیکھتے ہیں.... پیپلزپارٹی کی بدقسمتی ہی سمجھئے کہ ایک قومی جماعت ہونے کے باوجود اس کی سیاست پر لسانی اور علاقائی رنگ غالب رہا ہے۔نتیجہ آج یہ کہ پیپلزپارٹی اپنے تمام شہ دماغوں کی تمام تر کوششوں اور سیاسی چالاکیوں کے باوصف پنجاب میں اپنے لئے کوئی جگہ نہیں بنا پا رہی۔ذہن نشین رہے کہ پیپلزپارٹی کی داغ بیل نو ڈیرو یا لاڑکانہ نہیں، لاہور میں ڈالی گئی تھی۔ 1971ءمیں پنجاب ہی وہ صوبہ تھا کہ جہاں سے بھٹو صاحب کو تناسب کے حساب سے سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔یہ بھی پیپلزپارٹی کی بدقسمتی ہی سمجھئے کہ ایک کاروباری گھرانے سے تعلق رکھنے والے میاں نوازشریف نے 1982ءمیں سیاست کے میدان میں قدم رکھ دیا اور 1985ءمیں پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے۔سو وہ وزارت اعلیٰ کے پانچ برس پیپلزپارٹی کو بہت مہنگے پڑے۔

میاں نوازشریف اپنی ملنساری ،ہنس مکھ طبیعت، رکھ رکھاﺅ اور پنجاب میں صنعتوں کے فروغ سے کاروباری چہل پہل پیدا کرکے اہلِ پنجاب کہ جو بھٹو اور کھر صاحب کے جیالا کلچر کا خوف ابھی ذہن سے نہ نکال پائے تھے، کے ہر دلعزیز لیڈر بن گئے۔ پیپلزپارٹی کے لئے مزید ستم ظریفی یہ کہ بعد ازاں پنجاب میاں شہبازشریف جیسے انقلابی خیالات رکھنے والے وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں رہا ہے کہ جن کی نتائج آموز انتھک محنت کے مسلم لیگ(ن) کی حریف جماعتوں کے پیروکار بھی معترف ہیں۔

بات ہو رہی تھی پیپلزپارٹی کی سیاست کے علاقائی، لسانی رنگ کی۔ایسا ہی رنگ بلاول زرداری کی گڑھی خدا بخش کی حالیہ تقریر بھی لئے ہوئے تھی۔غالباً پیپلزپارٹی بحیثیت جماعت آج بھی 2013ءکے الیکشن میں اپنی بدترین شکست کے اسباب و محرکات سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔آج بھی شاید پیپلزپارٹی یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ عوام دھماکوں اور ہلاکتوں کی خبریں سن سن کر اس قدر پکے ہو چکے ہیں کہ اب جذباتی نعرے اپنا پہلے سا اثر کھو بیٹھے ہیں۔

پرویز مشرف کی آمریت کے دور میں میڈیا عدلیہ اور چند سیاسی جماعتوں کی اصولی سیاست نے عوام کے سیاسی شعور میں بھی بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ان حقیقتوں سے شاید پہلو تہی ہی ہے کہ بلاول زرداری نے ”پنجابی اسٹیبلشمنٹ“ کی ایک متنازعہ اصطلاح گھڑ کر ایک مبہم سا پیغام دینے کی کوشش کی۔ایسی بات کرتے ”این آر او“ غالباً بلاول زرداری کے ذہن سے اس لئے اتر گیا کہ اس کا تعلق ”پنجابی“ نہیں ”عالمی اسٹیبلشمنٹ“ سے تھا،بلاول کو شاید یحییٰ خان، اسلم بیگ اور اسحاق خان کے ساتھ معاملات کے متعلق بھی نہیں بتایا گیا اور نہ ہی ”اِدھر ہم اُدھر تم “ کی تفصیلات سے۔

تحریک انصاف کو ماضی قریب میں ”اسٹیبلشمنٹ“ کی پروردہ جماعت کہا گیا، لیکن پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری کا بلاول کی تقریر کے حوالے سے بیان خاصہ حوصلہ افزا محسوس ہواکہ ”شہیدمحترمہ کی برسی پر جمہوریت کی مضبوطی کے حوالے سے ایک طاقتور پیغام آنا چاہیے تھا“۔ شیریں مزاری نے بلاول زرداری کی تقریر کے اسلوب پر بھی خاصی خفگی کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ ”بلاول کو بنیادی تمیز نہیں سکھائی گئی کہ سیاسی لیڈرز کو عزت سے پکارتے ہیں....گالم گلوچ نہیں کرتے، خاص کر اپنے بڑوں کے ساتھ! پی پی پی کے سوبر لیڈرز کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس بچے کو سمجھائیں، کوئی سیاسی ٹریننگ دیں کہ اس طرح گالم گلوچ نہیں چلتا“۔

بلاول کے اسلوب بیان پر تحریک انصاف کی مرکزی رہنما کا ردعمل ایک حوالے سے حوصلہ افزا تھا کہ دیر آید، درست آید.... پی ٹی آئی کے رہنما بھی یہ محسوس کرنے لگ گئے ہیں کہ عوام کے نمائندہ سیاسی لیڈر ایک قوم کی قیمتی متاع ہوتے ہیں۔قوم کو یکجان اور متحد رکھنے والے سیاسی قائدین کا طالع آزما ڈکٹیٹروں کے زیرِ عتاب آنا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن عوامی ،جمہوری لیڈر اگر خود ہی دیگر سیاستدانوں اور جمہوری نظام کی بھد اڑائیں تو پھر کسی اور سے کاہے کا شکوہ؟

رانا ثناءاللہ کے مشورے پر بھی آصف علی زرداری کو غور کرنا چاہیے کہ ”بلاول کی تقریر لکھنے والے کو فوری طور پر برطرف کر دینا چاہیے“۔ بلاول بھٹو زرداری کے منہ سے عوام میں مقبول جماعتوں کو دہشت گردوں کا ساتھی اور غدار کہلوانے اور ”ٹیلی پرومپٹر“ پر پڑھائی جانے والی تقریر لکھنے والوں کے ذہن سے یہ کیوں پھسل گیا کہ مملکت پاکستان کے خلاف قائم کی جانے والی پہلی باقاعدہ دہشت گرد تنظیم ”الذولفقار“ تو پیپلزپارٹی ہی کی چھتری تلے اپنے کرتب دکھاتی رہی! پاکستان میں مشرف کی شرمناک پالیسیوں کے نتیجے یا بہانے سے ملک میں پھیلنے والی دہشت گردی کے تانے بانے 1980ءکی دہائی کے افغان جہاد سے جوڑنے والے یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ 1977ءسے برسوں پہلے ذوالفقار علی بھٹو ہی کے دور میں افغان لیڈروں کو پشاور میں مہمان بنا کر مجاہدین گروہوں کو میدان میں اتار دیا گیا تھا۔پاکستان پر نظریں جمائے انہی مجاہدین گروہوں کے خلاف اپنی پروردہ حکومت کی حفاظت کے لئے روسی فوجیں افغانستان میں اتریں۔ بلاول کو یہ بھی شاید نہیں بتایا گیا کہ جب پیپلزپارٹی کے 1993-96ءکے دور میں افغان طالبان نے اپنی قوت دکھائی تو محترمہ بے نظیر بھٹو ہی ان کی سب سے بڑی اور قابل وکیل نظر آئیں....یہ الگ بات کہ نائن الیون کے بعد چند سیاسی جماعتوں کے خیال میں اقتدار کے حصول کے تقاضے شاید اور ہو گئے۔ 2013ءکے الیکشن نے یہ بات واضح کردی کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بعد عوامی حمایت اور طاقت سے بڑھ کر اور دنیا میں کوئی قوت نہیں!  ٭

مزید :

کالم -