لاہور بار کے مسائل اور سا لانہ انتخابات

لاہور بار کے مسائل اور سا لانہ انتخابات
لاہور بار کے مسائل اور سا لانہ انتخابات

  



لاہور بار ایسو سی ایشن جوایشیاءکی سب سے بڑ ی بار کہلا تی ہے، کے ممبر ان کی تعداد سترہ ہز ارسے بھی زیا دہ ہے ۔ لا ہور بار کے مختلف عہدوں کے لئے سا لا نہ انتخا بات ہوتے ہیںجن کا انعقا د عمو ما جنو ری کے دوسر ے ہفتے میں ہوتا ہے ۔ لاہور بار کے انتخا بات کے شیڈول کا اعلا ن کر دیا گیا ہے ،ا علا ن کر دہ شیڈ ول کے مطابق 11جنو ری بروز ہفتہ کو تقر یبا 13134 ووٹر اپنے رائے حق دہی کا استعما ل کرتے ہو ئے اگلے ایک سال کے لئے ایک صد ر ، دو نائب صد ور ،ایک نائب صد ر ماڈل ٹاﺅن کے لئے ،دو جنرل سکیر ٹر ی ،ایک فنا نس سیکر ٹر ی اور ایک جو ائنٹ سیکر ٹر ی کو منتخب کر یں گے۔پچھلے انتخابات کی طر ح اس دفعہ بھی لاہور بار کے صد ر کے عہد ے کے لئے دو امید واروں، چو دھر ی اشتیا ق اور جی اے خان طارق میںون ان ون مقابلہ ہے ۔ چو دھر ی اشتیا ق جو پچھلی دفعہ انتخاب ہار گئے تھے ایک دفعہ پھر میدان میں ہیں۔ ان کا تعلق جناب حامد خان گر وپ سے ہے اور ان کے مطا بق انہیں مسلم لیگ اور جما عت اسلا می کی حما یت بھی حاصل ہے جبکہ جی اے خان طارق کاتعلق میڈم عاصمہ جہا نگیر گر وپ سے ہے اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کی حما یت کے دعو ید ار ہیں ۔

دونو ں امید وارو ں کے حامیو ں میں جو ش و جذ بہ دید نی ہے اور اپنے اپنے امیدواروں کو جتو انے کی سر تو ڑ کو شش کر رہے ہیں ۔جبکہ صد ر اتی امید واروں کے علا وہ باقی عہد وں کے امیدوار بھی اپنی اپنی کامیا بیو ں کے لئے سول و سیشن عدالتوں میں اپنے حامیو ں کے ساتھ مل کر اپنی طاقت کا مظاہر ہ کر تے نظر آرہے ہیں اور عدالتی وقت ختم ہو نے کے بعد تما م امیدوار مختلف علا قو ں میں واقع وکلا ءچیمبر ز کے طو فانی دورے کررہے ہیںاوراپنی حما یت اور جیت کو یقینی بنا نے کی کو شش میں مصروف ہیں خیر آخر ی فیصلہ تو 11جنو ری کی شام کوبیلٹ بکسو ں کے کھلنے کے بعد ہی ہو گا ۔ہر سال کی طر ح اس بار بھی امیدواروں کی طرف سے وکلاءکو وہی روایتی خواب دکھا ئے جارہے ہیں ، مثلاہاوسنگ سو سائٹی ، ہسپتا ل ، دفاتر ، باررومز ، جد ید کمپیو ٹر ز لیب ، لائبریر یو ں کے قیا م کے علاوہ نئے آنے والے نو جو ان وکلا ءکے لئے بار کی طر ف سے وظائف ، خواتین وکلا ءکی حو صلہ افزائی کے متعداد اقدامات کر نے کے نعر ے بھی با آسانی سنا ئی دیے جاسکتے ہیں ۔

 یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ دعو ے ، نعر ے اور وعدے دسمبر کی آخری اور جنو ری کی پہلی سر د شامو ں میں ہرسا ل کیے جاتے ہیں جبکہ بار کے مسائل نو جو ان وکیلو ں کی مشکلا ت ، خواتین وکلاءکے لئے ناخو شگوار ماحو ل ، ہسپتا ل کی عد م مو جودگی ، ڈسپنسر ی میں ناقص ادویا ت ، ڈاکٹر ز کی کمی ، پینے کا صا ف پانی ،بارکی کینٹین کے باسی اور آلو دہ کھانے کی شکایا ت ، پارکنگ اور سکیورٹی جیسے گھمبیر مسا ئل میں اضافہ ہی ہو ا ہے ۔ ہر سال انتخا بات ہو نے کے باوجو دبھی بد قسمتی سے مند رجہ بالا مسائل آج بھی حل طلب ہیں ۔

لاہور بار ایسو سی ایشن کا نمائند ہ تر جما ن رسالہ ”باراینڈ بنچ “ 2012-13(سال میں ایک مر تبہ چھپتا ہے)میر ے سامنے پڑ ا ہے اور اس میں موجو د2012-13کی سا لانہ کارگر دگی رپورٹ (2013-14کی سالا نہ رپورٹ پر مبنی رسالہ آنے والے الیکشن سے ایک دو دن پہلے آئے گا )میں سو ل کورٹس، سیشن کو رٹس، ضلع کچہر ی ،کینٹ کو رٹس اور ماڈل ٹاﺅ ن کو رٹس میں کروائے گے تر قیا تی کا مو ں کی تفصیل مو جو د ہے اورمیں اس رپورٹ سے اختلا ف نہیںکر تا لیکن جسے کہتے ہیںناAction speaks louder than words وہ بات نظر نہیں آرہی۔

 مثال کے طور بار کے نمائند ہ تر جما ن ر سالے میں مو جو د سا لا نہ کارگر دگی رپورٹ کے پہلے صفحے کی آخر ی لا ئن میں لکھا ہو ا ہے کہ ”ضلع کچہر ی میں عدالتی کارروائی کے تسلسل کے لئے کامیاب کو شش کر کے جنر یٹر لگو ائے گئے ©© “ اور یہ بات بھی درست ہے کہ جنر یٹر لگو ائے گئے لیکن وہ جنر یٹر کبھی چلتے ہوئے نظر نہیں آئے ۔اب یہ نہیں پتا کہ ان جنر یٹر وں کو چلانے کے لئے ایند ھن خر ید نے کے پیسے نہیں تھے یا کو ئی اور وجہ تھی اب تک ضلع کچہر ی کی عدالتو ں میں کہیں جنر یٹر چلتا ہو ا دکھا ئی نہیں دیا ۔اس کے علا وہ دلچسپ بات یہ ہے کہ لاہور بارکے اس نمائندہ تر جما ن رسالہ میںبارکے بار ے میں دو صفحا ت پر مبنی سالا نہ رپورٹ کے علاوہ چند تصا ویر کے اواراق ہیں باقی 112صفحو ں پر قصے کہانیا ں ہیں ۔خیر بات ہو رہی تھی بار کے مسائل پر تو میں یہ بتا تا چلوں کہ وفاقی حکو مت کے فنڈ ز جو زیا دہ تر سپر یم کور ٹ کے ذریعے ملتے ہیں(بار کے ریکا رڈ کے مطابق اس دفعہ یہ فنڈز پچاس لا کھ سے زیادہ تھے) ان فنڈز کے علاوہ بار کی اپنی بھی ماہا نہ آمد نی لا کھو ں میں ہے جو کینٹین کے ٹھیکوں،مختلف کر ایو ں اور نئے آنے والو ں ممبر و ں کی فیسوں کی مد میں حاصل ہو تی ہے۔

اس بار کے صدارتی امید وار جی اے خان طارق نے مجھے بتا یا کہ جب وہ 2005-6میں لاہور بار کے سیکر ٹر ی تھے تو انہو ں نے چودھر ی پر ویز الٰہی کے دور میں تقریبا دو کروڑ روپے پنجاب حکو مت سے لئے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے بعد پنجا ب حکو مت خصو صا نو ن لیگ کے دور میں کبھی بھی بار کو فنڈز نہیں دیے گئے اور اس بات کی تصد یق بار کے کئی دوسرے باوثو ق اور آزاد ذرائع سے بھی ہوئی ۔ جی اے خان طارق نے اس عز م کا اظہار بھی کیاکہ میں اس دفعہ صدر منتخب ہو کر وکلا ءکی اسائش کے لئے مزید کام کروں گا ۔ اسی سلسلے میں جب میں نے دوسرے صد ارتی امید وارچو دھر ی اشتیا ق سے پوچھا کہ ان کی نظر میںلاہور بار کا سب سے بڑ امسئلہ کیا ہے توانہوں نے کہا کہ وہ صد ر منتخب ہو کرسب سے پہلے بار اور بنچ کے درمیا ن فا صلو ں کو ختم کر یں گے اور بار کی عز ت اور وقا ر کو مز ید بحال کر نے کے لئے اقدامات اٹھا ئیں گے اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ضرور ت پڑ ی تو وہ پنجا ب حکومت سے وکلا ءکی فلا ح و بہبو د کے فنڈز کی فر اہمی کا مطالبہ بھی کریں گے کیو نکہ وکلا ءبھی اپنا ٹیکس باقا عدگی سے ادا کر تے ہیں ۔ چو دھر ی اشتیا ق کے مطابق وہ عدالتوںمیں غیر ضروری ہڑ تا لو ں کا سلسلہ ختم کر دیں گے، ان کے مطابق اگر کسی مسئلے یا کسی ناخوشگوار واقعے کے خلاف ہڑ تا ل کر نی ضر وری بھی ہو ئی تو وہ پنجا ب بار اور پاکستان بار کے ساتھ مل کرہڑ تال کے لئے ایک ہی دن تجویز کر یں گے تاکہ عدالتی کام متاثر نہ ہو اور سائلین کو مشکلا ت بھی نہ ہو ں جو کہ ایک خو ش آیند ہ بات ہے۔

 عمو ماً ایسا ہو تا ہے کہ کسی بھی ناخوشگو ار واقعے یا وکلاءبرادری کے کسی بڑے مسئلے کے خلا ف لا ہور بار علیحدہ ہڑ تا ل کا اعلا ن کر تی ہے جبکہ پاکستان اور پنجاب بار علیحد ہ علیحدہ دنو ں ہڑ تا ل کا ل کر دیتی ہیں جس سے عدالتی کام بھی شدید متا ئثر ہو تا ہے اور سائلین بھی شدید مایو سی کا شکا ر ہو کر عدل و انصاف کے نظام سے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملک کی باقی بار ایسو سی ایشنز کی طر ح لا ہور بار کے دو رحاضر کے کئی دوسر ے گو نا گو ں مسائل حل طلب ہیں ۔ ان مسائل میں سے ایک بڑ ے مسئلے کی نشاندہی میرے استا د محتر م جنا ب شیخ سہیل شکو ر صا حب جو پچھلی دو دہاہیو ں سے بار میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں نے کی ۔ انہوں نے بڑ ی خو بصو رت بات کی کہ بار کی عز ت وکیل کی عز ت سے ہو تی ہے جبکہ وکیل کی عزت عدالت اور مو کل سے ہو تی ہے اگر وکیل اپنے مو کل کو عدالتوں میں بیٹھنے کے لئے جگہ بھی نہ فر اہم کر سکے تو مو کل اس کی کیسے عز ت کر ے گا ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ عدالتوں میں وکلاءکے بیٹھے کے لئے بار روم ہیں اور جج صاحبان کے لئے ان کے چیمبر ز ہیںجبکہ اس کے بر عکس ہماری عدالتو ں میں سائلین کے بیٹھے کے لئے کو ئی جگہ نہیںہے اور سائلین سارا دن عدالتوں میں بیٹھنے کی جگہ ڈھو نڈنے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہو تے ہیں اور ان کا کو ئی پر سان حال نہیں ہوتا جس سے عام لوگو ں کا بار کے بار ے میں کوئی اچھا پیغام ہر گز نہیں جاتا ۔ ٭

مزید : کالم