”جماعت اسلامی کا دورِ منور“.... تصحیح اور وضاحت

”جماعت اسلامی کا دورِ منور“.... تصحیح اور وضاحت

  

روزنامہ ”پاکستان“ کے شمارہ 5دسمبر2013ءمیں نسیم شاہد کا ایک کالم ”جماعت اسلامی کا دورِ منور“ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ واقعاتی اعتبار سے اس میں متعدد غلط بیانیاں ہیں۔ کالم نگار لکھتے ہیں: ”جماعت اسلامی کے بارے میں ہمیشہ ہی سے یہ تاثر موجود رہا ہے کہ وہ پرو امریکن اور پرو آرمی جماعت ہے۔ اس تاثر کی وجہ بھی تاریخی حقائق ہیں۔ امریکہ نے جب افغانستان سے سوویت یونین کو نکالنے کی جنگ لڑی، تو اس میں جماعت اسلامی نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا.... جماعت اسلامی نے کبھی فوج کو تنہا نہیں چھوڑا، اس کے اسی کردار کی وجہ سے اسے فوج کی بی ٹیم بھی کہا جاتا رہا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جماعت اسلامی نے فوجی آمروں کے ساتھ بھی ہمیشہ اچھی نبھائی“.... مَیں نسیم شاہد کو کوئی طعنہ دیئے بغیر قارئین کے سامنے ٹھوس واقعاتی اور تاریخی حقائق رکھتا ہوں، جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ موصوف کے الزامات میں کس حد تک صداقت ہے۔

امریکہ سے پیسے لینے کا الزام سب سے پہلے قادیانی جماعت کے ایک نمائندے خواجہ نذیر احمد نے یہ کہہ کر لگایا کہ مولانا مودودی ؒ کو امریکہ سے پیسہ ملتا ہے اور بدقسمتی سے اس الزام کو بغیر سوچے سمجھے کچھ دیگر علماءنے بھی اختیار کر لیا اور روس نواز دانشوروں اور صحافیوں نے بھی، جبکہ اس کے برعکس یہ بات ریکارڈ پرموجودہے کہ پاکستان کی تاریخ میں جماعت اسلامی وہ پہلی سیاسی پارٹی ہے، جس نے مختلف وقتوں میں امریکی معاہدوں کی شدید مخالفت کی اور سیٹو اور سینٹو کو ہدف ِ تنقید بنایا۔ اندازہ کیجئے کہ قیام پاکستان کے جلد بعد جب وزیراعظم لیاقت علی خاں نے امریکہ کا دورہ کیا، تو مولانا مودودی ؒ نے اس پر تنقید کی اور دو عالمی طاقتوں میں سے ایک کی طرف واضح جھکاﺅ کو ملک کے لئے نقصان دہ قرار دیا۔ اپریل 1953ءمیں جب گورنر جنرل ملک غلام محمد نے وزیراعظم ناظم الدین کو برطرف کر کے امریکہ میں سفیر محمد علی بوگرہ کو وزیراعظم نامزد کیا اور وہ پاکستان آئے تو کراچی کے ہوائی اڈے پر جماعت اسلامی کے سینکڑوں کارکنوں نے کالی جھنڈیوں سے ان کا استقبال کیا اور ”بوگرہ واپس جاﺅ، بوگرہ واپس جاﺅ“ کے پُرزور نعرے لگائے۔ ظاہر ہے امریکہ کا کوئی حامی یہ حرکت نہیں کر سکتا تھا۔

مولانا مودودی ؒ اور جماعت اسلامی نے امریکی ایڈ کی ہمیشہ مخالفت کی اور اسے ”ایڈز“ قرار دیا۔ جماعت اسلامی کے صف اول کے قائد اور شاعر و مصنف نعیم صدیقی نے تو اس حوالے سے ایک طویل نظم لکھ ڈالی، جس کا ٹیپ کا مصرع ہے ”ڈالر میرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا“.... جو شخص بھی اس ملک کی تاریخ سے آگاہ ہے اور انصاف کا تھوڑا سا جوہر بھی رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ مغربی اور امریکی تہذیب کی سب سے زیادہ اور تسلسل کے ساتھ مخالفت جماعت اسلامی نے کی ہے، اسی لئے تو عالم اسلام کے بارے میں لکھنے والے امریکی اور مغربی مصنفین مولانا مودودی ؒ کو اپنا سب سے بڑا مخالف قرار دیتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں یہ حقیقت بھی قابل ِ غور ہے کہ پاکستان میں لیاقت علی خاں، ملک غلام محمد، جنرل ایوب خاں اور ذوالفقار علی بھٹو امریکی لابی کے سکہ بند حامی تھے اور یہ سب مولانا مودودی ؒ اور جماعت اسلامی کے شدید مخالف تھے اور انہیں پریشان کرنے میں انہوں نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ انہوں نے بار بار مولانا مودودی ؒ کو گرفتار کیا اور جماعت اسلامی کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی اور لکھاری کو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر مولانا مودودی ؒ بھی امریکہ کے حامی تھے، تو کون جاہل اور احمق ہے جو اپنے ”پیر بھائی“ سے یہ بدسلوکی روا رکھتا ہو اور کون صاحب ِ ضمیر دانشور ہے، جو اس الزام کو قبول کرے اور اس کی تکرار کرتا رہے۔

آیئے اب جائزہ لیتے ہیں ”پرو آرمی“ والے الزام کا.... قیام پاکستان کے بعد قادیانی تحریک کے حوالے سے 6مارچ1953ءکو پنجاب میں مارشل لاءلگا دیا گیا، جبکہ 27مارچ کو مولانا مودودی ؒ کو گرفتار کر لیا گیا اور شاہی قلعہ کے عقوبت خانے میں بند کر دیا گیا، جہاں ایک ماہ تک ان سے پوچھ گچھ ہوتی رہی۔ انہیں اکثر بیدار رکھا جاتا اور سارا زور یہ ثابت کرنے میں صرف کیا گیا کہ جماعت اسلامی کو غیر ملکی امداد ملتی ہے۔ مئی کے آغاز میں ملٹری کورٹ میں مولانا کے خلاف مقدمہ چلا اور11مئی کو اس عدالت نے انہیں پھانسی کی سزا سنا دی، حالانکہ وہ قادیانی تحریک میں براہ راست شامل نہیں تھے ، انہوں نے قادیانیت کے خلاف صرف ایک کتابچہ ”قادیانی مسئلہ“ تحریر کیا تھا، مگر اسی کو بہانہ بنا کر انہیں اتنی بڑی سزا سنا دی گئی۔ مولانا نے اس سزا کے خلاف کسی بھی سطح پر کوئی اپیل نہیں کی، مگر پورے عالم اسلام میں اس کے خلاف شدید ردعمل ہوا، جس سے متاثر ہو کر حکومت نے اُن کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی اور اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ بعد میں قومی اسمبلی کی تحلیل کے نتیجے میں مولانا25ماہ کی قید کے بعد رہا کر دیئے گئے۔

27اکتوبر1958ءکو جنرل ایوب خاں نے مارشل لاءلگایا، تو مولانا مودودی ؒ اور جماعت اسلامی کے لئے ابتلا کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔ جماعت کو خلافِ قانون قرار دیا گیا اور جماعت کے سارے رفاعی ادارے ختم کر دیئے گئے، شفا خانے بند کر دیئے گئے، گشتی شفا خانوں کی گاڑیاں ضبط کر لی گئیں، جماعت اسلامی کے وہ ارکان جو سرکاری ملازم تھے، اُن کی ملازمتیں ختم کر کے انہیں برطرف کردیا گیا اور سارا نظم تباہ کر دیا گیا۔ اکتوبر1963ءمیں ایوب خاں نے گورنر امیر محمد خاں کی نگرانی میں، بیرون بھائی گیٹ کی جلسہ گاہ میں جماعت اسلامی پر بڑا ہی خوفناک وار کیا اور مولانا مودودی ؒ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر وہ مولانا کے حسن ِ تدبراور صبر و عزیمت کی برکت سے ناکام ہو گیا .... بالآخر تنگ آ کر جنوری 1964ءمیں ایوب خاں نے جماعت ِ اسلامی کو خلاف ِ قانون قرار دے دیا۔ مولانا کو اور مجلس ِ شوریٰ کے سارے ارکان کو گرفتار کر لیا گیا اور رسالہ ”ترجمان القرآن“ پر پابندی لگا دی گئی.... ان گرفتاریوں اور پابندیوں کے خلاف بالآخر اکتوبر 1964ءمیں سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا۔ مولانا اور ان کے ساتھی رہا ہو گئے اور جماعت پر سے پابندی ہٹا دی گئی۔

غرض جنرل ایوب خاں نے اپنے سارے دور میں اس ”پرو آرمی“ جماعت کو سکون کا سانس نہ لینے دیا اور طرح طرح سے اسے زچ کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی گئی۔ جنرل یحییٰ خاں کا دورہ وہ منحوس دور ہے، جب مشرقی پاکستان ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔ علیحدگی پسند بنگالیوں کی حمایت میں ہندوستان نے اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کر دیں اور محب وطن، محب ِ اسلام بنگالیوں نے ہندوستان کے مقابلے میں پاک فوج کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ ان جانباز لوگوں میں بڑی تعداد جماعت اسلامی کے وابستگان کی تھی، جنہوں نے سر پر کفن باندھ کر دفاع وطن کی جنگ لڑی اور دس ہزار کی تعداد میں قیمتی جوانوں کی قربانی پیش کر دی۔ منفی ذہنیت کے لوگ اس حوالے سے طعنہ دیتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے فوج اور یحییٰ خاں کا ساتھ دیا اور اسے ایک عمومی الزام کی صورت دے دیتے ہیں کہ جماعت ِ اسلامی نے ہمیشہ فوج کا ساتھ دیا ہے۔ کاش یہ لوگ انصاف اور حب الوطنی کے جذبے سے دیکھتے تو اِسی نتیجے تک پہنچتے کہ ان حالات میں لازماً پاک فوج کا ساتھ دینا چاہئے تھا، اس کے سوا کوئی چارہ¿ کار ہی نہیں تھا۔ پھر کیا دینی معلومات اور عمل سے لیس یہ لوگ باغیوں اور غداروں کے سامنے خاموش بیٹھے رہتے اور بھارتی فوجیوں کے گلے میں ہار ڈالتے۔ جماعت اسلامی کے لئے یہ وقت یقینا بہت بڑی آزمائش کا تھا، لیکن وہ اس آزمائش میں سرخرو رہی، راہِ وطن میں اس کی یہ قربانیاں یقینا اس کے لئے سرمایہ¿ افتخار ہیں۔

اب تجزیہ کرتے ہیں اس طعنے کا کہ جماعت نے فوجی آمر ضیاءالحق کا ساتھ دیا اور وہ افغانستان میں امریکہ کی جنگ لڑتی رہی جو ہمارے لئے لاحاصل، بلکہ نقصان دہ ثابت ہوئی، چنانچہ ضیاءالحق وہ مظلوم محسن ِ ملت ہے، جس پر ”لیفٹ“ ہی کے نہیں”رائٹ“ کے دانشور بھی تنقید کرتے ہوئے گزرتے ہیں اور کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اُس کی کردار کشی میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے، لیکن میرے نزدیک یہ صریحاً زیادتی، بلکہ ظلم اور بدترین ناشکرا پن ہے، جس کا ارتکاب ہم دھڑلے سے کر رہے ہیں اور روحانی اعتبار سے اس کا خمیازہ بھی بھگت رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ضیاءالحق دنیا بھر کے فوجی آمروں میں ایک منفرد، یکتا اور حیرت انگیز کردار کا حامل تھا اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ اپنی گو ناں گوں خوبیوں کی بنا پر موصوف پاکستان کے لئے اللہ کی بہت بڑی نعمت تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم دیگر نعمتوں کی طرح اس نعمت کی بھی قدر نہ کر سکے۔

آپ کہتے ہیں جماعت اسلامی نے ضیاءالحق کے ساتھ تعاون کر کے کسی گناہ کا ارتکاب کیا، جبکہ مجھے گلہ ہے کہ جماعت اسلامی کو موصوف کا جس قدر ساتھ دینا چاہئے تھا، وہ نہیں دیا گیا۔ خصوصاً قاضی حسین احمد نے اپنی افتادِ طبع کے مطابق جو رویہ اختیار کیا ،اُس نے ملک کو بھی ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچایا اور جماعت کے لئے بھی وبال بن گیا۔

سچی بات یہ ہے کہ افغانستان کے حوالے سے ضیاءالحق نے جس بے مثال، حیرت انگیز اور ایمان افروز کردار کا مظاہرہ کیا، اُس کی تحسین کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ یہ کہنا کہ افغانستان کی جنگ امریکہ نے شروع کی اور پاکستان نے، جماعت اسلامی نے اس کے آلہ ¿ کار کے کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا، بہت بڑی غلط بیانی، تنگ نظری اور تعصب کی بات ہے۔

 نسیم شاہد صاحب! روس افغانستان میں ایسے ہی چہل قدمی کرتے ہوئے پکنک منانے نہیں آ گیا تھا، بلکہ ڈیڑھ سو سال پہلے زارِ روس پیٹر دی گریٹ کے دور میں منصوبہ بنا تھا کہ چونکہ شمالی سمندر آٹھ مہینے منجمد رہتے ہیں اور اس دوران وہاں جہاز رانی ممکن نہیںرہتی، اس لئے بحیرہ¿ عرب اور خلیج فارس کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنی چاہئے۔ اس کے لئے ایک طویل مدت کا منصوبہ بنایا گیا اور پہلے مرحلے میں پڑوسی ملک افغانستان پر قبضہ کرنے کا پروگرام تیار ہوا، چنانچہ اس بدنصیب غریب ممالک سے گہرے دوستانہ تعلقات استوار کئے گئے، اسے ہر نوع کی وسیع امداد دی گئی، سڑکوں کا جال بچھایا گیا، ہزاروں طلبہ کو وظائف دیئے گئے اور فوج، پولیس، تعلیم اور انتظامی امور سے تعلق رکھنے والے افسروں اور عام اہلکاروں کی تربیت کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ افغانستان کو ہر طرح کی امداد دی گئی اور عوام کے دِلوں کو فتح کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی۔ مَیں1964-66ءمیں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں ایم اے کا طالب علم تھا، اس زمانے میں افغانستان کے لئے ویزے کی پابندی نہیں تھی۔ لوگ پشاور سے بسوں میں بیٹھتے اور کابل اور جلال آباد چلے جاتے تھے۔ اس زمانے میں میرے کچھ کلاس فیلو افغانستان گئے تھے اور انہوں نے واپس آ کر بتایا تھا کہ ہم نے وہاں جگہ جگہ روسی ٹرک دیکھے تھے، جو بچوں اور عورتوں میں دودھ کی بوتلیں اور دوسری کھانے پینے کی چیزیں مفت تقسیم کر رہے تھے۔

بہرحال جب روس کی اشتراکی حکومت نے اندازہ کر لیا کہ اس نے افغانستان کے مختلف سرکاری شعبوں کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور عوام کی ہمدردیاں بھی حا صل کر لی ہیں، تو27دسمبر 1979ءکو اس نے اپنی فوجیں افغانستان میں داخل کر دیں۔ ظاہر ہے اس کے بعد روس کی منزل لازماً بلوچستان تھی کہ اس پر قبضہ کئے بغیر اصل پروگرام پر عمل نہیں ہو سکتا تھا۔ بالواسطہ طور پر روس کا یہ حملہ افغانستان پر نہیں، بلکہ پاکستان پر تھا۔ تاریخ کے اس انتہائی نازک موقع پر ضیاءالحق کی فراست ، دور اندیشی اور تدبر نے فوری فیصلہ کیا اور صرف اللہ کے بھروسے پر افغان مجاہدین کی مدد سے روس کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

یاد رہے یہ وہ دور تھا جب ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے ناراض ہو کر امریکہ نے پاکستان پر ہر طرح کی امداد کی پابندی لگا رکھی تھی۔ دنیا میں کوئی ایک ملک بھی نہیں تھا، جو اس حوالے سے ضیاءالحق اور افغان مجاہدین کی پشت پر کھڑا ہو، چنانچہ پوری دنیا میں سنسنی پھیل گئی اور ہر جگہ چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ ایک سپر پاور کو للکارنے پر دیکھئے پاکستان اب کس حشر سے دوچار ہوتا ہے۔ مجھے خوب یاد ہے کہ پیپلزپارٹی کے حامی اور ”لیفٹ“ کے ہمنوا پروفیسر حضرات کالجوں کے سٹاف روموں میں بیٹھ کر ضیاءالحق کا خوب توا لگایا کرتے تھے کہا کرتے: ہاتھی کے سامنے خرگوش آ کھڑا ہوا ہے اور ایک بونا وحشی بھینسے کو چیلنج کر رہا ہے۔ وہ برملا کہتے کہ چند روز کی بات ہے، روس افغانستان کو روندتا ہوا بلوچستان میں داخل ہو جائے گا ، پھر وہ زور دار قہقہے لگاتے ہوئے جس طرح کے تجزیئے کرتے تھے، اُسے کوئی بھی حساس محب وطن فرد سننے کی تاب نہیں رکھتا تھا۔

بلاشبہ تلخ زمینی حقائق بھی یہی تھے کہ پاکستان نے افغان جہاد کے حوالے سے بہت ہی خطرناک جُوا کھیلا تھا اور بظاہر مکمل تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا، مگر تاریخ کی نظروں نے یہ معجزہ دیکھا کہ افغان مجاہدین نے صدر ضیاءالحق کی رہنمائی میں روسی یلغار کو کامیابی سے روک لیا اور چونکہ افغانستان گوریلا جنگ کے لئے موزوں ترین ملک ہے اور افغان مجاہدین اس فن کے ہیرو تھے، اس لئے روس کو یہاں بے انتہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور دو اڑھائی سال کے عرصے میں افغان مجاہدین روس کے لئے لوہے کا چنا بن گئے، حتیٰ کہ دنیا کہ اندازہ ہو گیا کہ افغانستان کا مسئلہ مذاق نہیں ہے، یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور توجہ کا طالب ہے، تب امریکہ نے مجاہدین کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کر لیا اور اسلحے اور پیسے سے ان کی امداد کرنے لگا، حتیٰ کہ حالات نے بالکل کروٹ بدل لی، تاریخ اور تقدیر نے فیصلہ افغان مجاہدین کے حق میں سنا دیا۔ تاہم یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ امریکہ کا کوئی ایک فوجی بھی افغان مجاہدین کی حمایت میں لڑنے کے لئے افغانستان نہیں آیا۔ یہ ساری جنگ انہوں نے اپنے زورِ بازو سے جنرل ضیاءالحق کی قیادت میں لڑی اور فتح یاب ہوئے۔

کاش آپ غور کریں اور تسلیم کریں کہ اس واقعے کے کس قدر وسیع اثرات مرتب ہوئے۔ اس کا پہلا تاریخ ساز نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ پاکستان کا وجود تحلیل ہونے سے بچ گیا.... (نمبر2) اگر روس خلیج فارس میں آ جاتا تو انتہائی بیوقوف ہوتا اگر آگے بڑھ کر کویت، عرب امارات اور سعودی عرب کے تیل کے چشموں پر قبضہ نہ کرتا، اس صورت میں اندازہ کیجئے کہ عالم ِ اسلام کا نقشہ مسخ ہو جاتا اور حرمین کا تقدس بھی خطرے میں پڑ جاتا....(نمبر3) روس کی کمیونسٹ ایمپائر ختم ہو گئی، کمیونزم کا جنازہ نکل گیا اور وسط ایشیا اور یوگو سلاویہ میں انقلاب آ گیا، یعنی مسلم اکثریت کی سات ریاستیں آزاد ہو گئیں.... (نمبر4) ضیاءالحق نے افغان جہاد کی آڑ میں امریکہ کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھایا اور نظر بچا کر ایٹمی پروگرام مکمل کر لیا۔ اس طرح پاکستان کا دفاع ناقابل ِ تسخیر ہو گیا.... حقیقت یہ ہے کہ صدر ضیاءالحق پاکستان اور عالم ِ اسلام کا بہت بڑا محسن تھا، اس کے تدبر، بصیرت، دور اندیشی اور جرا¿ت ِ کردار کی عہد ِ حاضر میں کوئی مثال نظر نہیں آتی۔ اپنے ذاتی کردار، سادگی، دینی عمل اور دیانت کے عتبار سے ماضی¿ قریب کی تاریخ میں وہ ایک منفرد کردار کا حامل تھا، لیکن افسوس کہ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں تنگ نظری اور ناشکرے پن کی روایت اتنی گہری ہے اور تعصبات اس قدر راسخ ہیں کہ اس طبقے کے بعض لوگوں نے غیر سنجیدگی اور غلط بیانی کو دانشوری کا لازمہ سمجھ لیا ہے۔ ٭

مزید :

کالم -