وزیراعظم کے اقدامات پر عمل درآمد کی ضرورت ہے

وزیراعظم کے اقدامات پر عمل درآمد کی ضرورت ہے
وزیراعظم کے اقدامات پر عمل درآمد کی ضرورت ہے

  

وزیراعظم محمد نواز شریف کی جانب سے بروقت اقدامات سے ملک میں عوام کا اداروں پر اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے اور لوگ مزید ایکشن کے منتظر ہیں ۔وزیراعظم نے سزائے موت سے پابندی اٹھا کر نہ صرف ایک اسلامی سزا کو نافذ کر دیا ہے ،بلکہ وہ لوگ جنہوں نے بے گناہ افراد کا خون کیا اور جو طاقتور ہوتے ہوئے سزا سے بچ رہے تھے ان غریب او ر مظلوم عوام کے گھروں میں خوشی ہے کہ ان کو انصاف مل رہا ہے جن کے عزیزوں کو کریمنلز،بھتہ خوروں اور شدت پسندوں کے ہاتھوں قتل ہونا پڑا۔دوسری جانب بڑے پیمانے پر وزیراعظم کی جانب سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سٹوڈنٹس کو دیئے جانے والے لیپ ٹاپس پر پورے سندھ اور جنوبی پنجاب میں سٹوڈنٹس کی جانب سے بہت بڑا رد عمل سامنے آرہا ہے اور طلبہ انتہائی خوش ہیں کہ ایک طرف انہیں ریسرچ کا موقع مل رہا ہے تو دوسری جانب اس کمپیوٹر کی وجہ سے وہ کچھ کرنے کے بھی قابل ہورہے ہیں اور مختلف دنیا سے رابطے کر کے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹ بنا رہے ہیں۔

وزیراعظم کا سب سے بڑا کام پشاور سانحہ کے بعد جس پر لو گ ان سے توقع کر رہے تھے انہوں نے نہ صرف پشاور کا دورہ کیا، بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو گورنر ہاؤس میں بلا کر نہ صرف قومی پالیسی پر متفق ہو گئے، بلکہ ملک میں فرقہ واریت ،دہشت گردی ،بھتہ خوری او ر جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایک وسیع اور مربوط کارروائی کا بھی فیصلہ کیاگیا ۔وزیراعظم کے فیصلے کے بعد نہ صرف کئی شدت پسندوں کو پھانسی دی گئی ،بلکہ مزید افرا د کے خلاف بھی عدالت کی کارروائی شروع ہونے والی ہے جس کے بعد عوام کو یقین ہونے لگا ہے کہ اب حکومت ماضی کی بجائے عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے ۔وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پروگرام اور دیگر تمام پالیسیاں مرتب کرنے کے بعد قوم کو پہلی بار خطاب میں ایک مربوط پالیسی دینے کا اعلان کیا ۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں قوم کو بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اٹھارہ نکات پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت ملک میں کسی مسلح گروہ کو کام نہیں کرنے دیا جائے گا ۔

نیکٹا کو مضبوط اور فعال بنانا،نفرت انگیز تقاریر اور انتہا پسند مواد کی روک تھام،دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت روکنا،کالعدم تنظیموں کو دوبارہ فعال ہونے سے روکنا،موثر انسداد دہشت گردی فورس کی تشکیل اور تعیناتی،مذہبی بنیادوں پر کسی کے خلاف کارروائیوں کی روک تھام،مدارس کی رجسٹریشن اور ریگولیشن ،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کی تشہیر پر پابندی ،آئی ڈی پیز کی فوری واپسی کے لئے فاٹا میں ترقیاتی اصطلاحات، دہشت گرد تنظیموں کے مواصلاتی نیٹ ورک کا خاتمہ،انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کا دہشت گردی کے استعمال روکنا، پنجاب میں عسکریت پسندی کے خلاف زیرو ٹالرنس، کراچی میں آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانا،بلوچستان میں سیاسی مصالحت ،فرقہ وارانہ دہشت گردی سے سختی سے نمٹا،افغان مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے جامع پالیسی،کریمنل جسٹس میں اصلاحات ،تاکہ انسداد دہشت گردی کے ادارے مضبوط ہوں شامل ہیں ۔

وزیراعظم کی جانب سے قوم سے اس اعلان کے بعد اگر اس پر صحیح معنوں میں عمل ہو گیا تو پاکستان میں بہت جلد امن قائم ہو گا، کیونکہ پاکستان میں گزشتہ بارہ سالوں کے دوران بد امنی کی وجہ سے لوگوں کا کاروبار اور لوگوں کا رہن سہن سمیت تمام نظام درہم برہم ہو گیا ہے اسی لئے وزیراعظم کے اس خطاب کے بعد لوگ فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے بہت جلد فیصلے کی امید رکھتے ہیں ،کیونکہ فاٹا میں سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے عمائدین اور سیاسی ورکرز اور طلبہ چاہتے ہیں کہ فاٹا کو صوبہ بنایا جائے اور وہاں پر لوگ اپنی مرضی کے مطابق حکومت کا انتخاب کریں اور سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کا دائرہ بھی وہاں لاگو ہو ،جبکہ فاٹا کے عوام کے منتخب کردہ نمائندے اپنے لئے قانون سازی بھی اس سیاسی حیثیت میں کر سکیں گے موجودہ فرسودہ ایف سی آر نظام میں اصلاحات ضروری ہیں، کیونکہ اس میں چند سو افراد کو فائدہ ہے اس لئے 67سالوں سے پیسوں کے بل بوتے پر لوگ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پہنچ جاتے ہیں ،جبکہ اصل نمائندے جنہوں نے اس علاقے کی ترقی کے لئے اصل جدوجہد کی ہے وہ رہ جاتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے ہیں ۔

وزیراعظم کے خطاب کے بعد لوگوں کو بہت زیادہ امید یں ہیں ،تاہم اگر وزیراعظم آئندہ دو ماہ میں اپنے اعلانات پر عمل درآمد کرانے پر کامیاب ہو جاتے ہیں تو ملک میں خوشحالی آسکتی ہے، تاہم ان اعلانات پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں صورت حال مزید گھمبیر ہو سکتی ہے اس لئے وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ بیوروکریسی کی جانب سے ماضی کی طرح اٹکائے گئے روڑے اور کارکردگی پر خصوصی نظر رکھیں، کیونکہ پولیٹیکل ایجنٹس اور بعض بیوروکریسی وزیراعظم کی اصلاحات سے اس لئے نا خوش ہیں کہ ان کے اوپر کی آمدنی فوری طور پر بند ہو جائے گی، جبکہ گورنر خیبرپختونخوا سردار مہتاب احمد خان کی جانب سے کی گئی اصلاحات کی بھی بڑے پیمانے پر پذیرائی ہو رہی ہے انہوں نے نہ صرف یکے بعد دیگرے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے، بلکہ کئی پولیٹیکل ایجنٹس کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے ،جبکہ فاٹا سیکرٹریٹ میں اصلاحات کا آغاز کر دیاہے ۔اگر گورنر پولیٹیکل ایجنٹس کو عوام کا خادم بنانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ مہتاب احمد خان کی بہت بڑی کامیابی ہو گی ۔عمران خان کی جانب سے سانحہ پشاور کے بعد دھرنا ختم کرنا سیاسی بصیرت کا تقاضا تھا عمران خان کو چاہیے کہ وہ خیبرپختونخوا میں حکومتی اصلاحات کی جانب توجہ دیں اور وفاقی حکومت سے مل کر ملک کو دہشت گردی،بیروزگاری اور غربت سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔یہاں کے عوام نے انہیں ووٹ دیکر یہ امید کرلی تھی کہ عمران خان ان کے مسائل حل کریں گے اور اب عمران خان کو چاہیے کہ ان کے مسائل کی طرف توجہ دیں ۔

مزید :

کالم -