ایک سچا اور نا قابلِ یقین واقعہ

ایک سچا اور نا قابلِ یقین واقعہ
ایک سچا اور نا قابلِ یقین واقعہ

  

بلاشبہ انسانی تاریخ کے اوراق پر ایسے ایسے محیر العقول واقعات و حادثات تحریر ہیں ،جنہیں پڑھ کر انسانی عقل نہ صرف انگشت بدنداں رہ جاتی ہے، بلکہ وہ ان واقعات و حادثات کے پیچھے چھپے ہوئے عوامل و عناصر کی کوئی بھی توجیہہ پیش کرنے سے قاصر ہے۔۔۔آیئے آج میں آپ کو ایک ایسے ہی حادثہ اور واقعہ کا بلا کم و کاست ذکر سناتا ہوں جو میرے ساتھ پیش آیا۔

یہ 13 فروری 1987ء کا ذکر ہے ،جب میں اپنی بیگم، ہمشیرہ اور ممانی کے ساتھ سرگودھا شہر اپنے ایک عزیز کی شادی میں شرکت کے لئے گیا۔ یہ شادی بخیر و خوبی پایہ تکمیل تک پہنچی۔ ایک رات قیام کے بعد ہم اگلی صبح یعنی 14 فروری کو بذریعہ بس لاہور کے لئے روانہ ہوئے۔ جب لاہور پہنچے تو ہم لوگ مینار پاکستان کے بس سٹاپ پر اُتر گئے ،وہاں سے ٹاؤن شپ آنے والی 47 نمبر روٹ کی ویگن پر سوار ہو گئے۔ ہمارے پاس ایک اٹیچی کیس بھی تھا جس میں میری بڑی ہمیشیرہ کا پرانے وقتوں کا بنا ہوا سونے کا بھاری زیور، قیمتی پوشاکیں اور میری بیگم کا ایک عدد سونے کا نیکلس رکھا ہوا تھا۔ میری بیگم نے ویگن میں سوار ہوتے ہوئے مجھ سے کہا بھی کہ آپ ایک سیٹ زائد لے لیں اور یہ اٹیچی اپنے پاس رکھ لیں، مگر میں نے اُنہیں تسلی دی کہ نہیں یہ کنڈکٹر کو دیتا ہوں ،وہ اسے اوپر چھت پر رکھ دے گا ،پھر میں بھی نظر رکھوں گا۔ لہٰذا خطرے کی کوئی بات نہیں۔ میں نے اپنے کہے پر عمل کیا اور ویگن چل پڑی۔ رات کے تقریباً پونے نو بجے ہم ٹاؤن شپ پہنچے۔ اُترتے ہوئے میں نے کنڈکٹر سے کہا کہ اوپر سے ہمارا اٹیچی اُتار دو۔ اُس نے ہاتھ بڑھایا اور اٹیچی اُتار کر میرے حوالے کیا۔

سٹاپ سے چند قدموں کے فاصلے پر ہمارا گھر تھا۔ ہم گھر پہنچے ،بڑے بھائی جان اور بھابھی صاحبہ نے گھر کا دروازہ کھولا ،خوش آمدید کہا اور سفر کی روئیداد اور حال احوال پوچھنے لگے ،اسی دوران اُن کی نظر اٹیچی پر پڑی تو مجھ سے کہنے لگے کہ امتیاز یہ تو ہمارا اٹیچی نہیں لگتا۔ میں نے جواب دیا کہ نہیں بھائی جان! یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے فوراً کھول کر دیکھو ۔ہم نے جیسے ہی اٹیچی کھولا تو ہمارے اوسان خطا ہو گئے۔ اٹیچی میں کچھ زنانہ، مردانہ اور بچوں کے عام کپڑوں کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ سب سے قیمتی چیز بذاتِ خود یہ اٹیچی کیس ہی تھا۔ فوراً ذہن میں یہی بات آئی کہ ہمارا سامان کسی اور سواری کے ساتھ تبدیل ہو گیا ہے۔ میں فوراً سٹاپ کی طرف دوڑا، لیکن مجھے وہاں وہ ویگن نظر نہ آئی ۔ اس ویگن کا سب سے پچھلا ایک شیشہ ٹوٹا ہوا تھا۔ میں نے وہاں کھڑے ہوئے ایک رکشہ والے سے بات کی کہ وہ مجھے گرین ٹاؤن لے چلے۔ گرین ٹاؤن پہنچے تو وہاں آخری سٹاپ پر بھی کوئی ویگن کھڑی دکھائی نہ دی۔ لوگوں سے پوچھا تو پتہ چلا کہ اس طرح کی ایک ویگن تھوڑی دیر پہلے آئی تو تھی۔ سواریاں اُتار کر جانے کہاں گئی۔ میں دِل شکستہ، بے نیل و مرام اُسی رکشے میں گھر واپس پہنچا اور ساری صورتِ حال سے گھر والوں کو آگاہ کیا۔

اس بلائے ناگہانی پر ہم سب کی حالت دیدنی تھی۔ نقصان بہت بڑا تھا۔ خصوصاً ہمشیرہ کے زیورات جانے کا دل کو انتہائی صدمہ پہنچا۔ رات جوں توں کر کے بسر کی۔ صبح ہوتے ہی میں اسٹاپ پر جا کر کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہی ویگن مجھے آتی دکھائی دی۔ قریب آکر جیسے ہی وہ رکی تو میں کنڈکٹر کی طرف بڑھا اور اسے گزشتہ رات کی ساری بات بتائی۔ ڈرائیور بھی میری طرف متوجہ ہو گیا۔ کنڈکٹر نے تو کوئی حوصلہ افزا بات نہ کی، البتہ ڈرائیور نے بتایا کہ مینار پاکستان پر سواریاں اُٹھانے کے بعد کسی اگلے سٹاپ سے ایک مرد اور عورت، جن کے ساتھ گود میں ایک بچہ بھی تھا، ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ان کے پاس ایک اٹیچی بھی تھا جس کو انہوں نے اپنے پیروں ہی میں رکھ لیا تھا لیکن شاید اُنہیں اُس کی وجہ سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے کنڈکٹر کو اسے اوپر رکھنے کے لئے کہا اور یہ بھی بتایا کہ اسے اتنا یاد ہے کہ انہوں نے گرین ٹاؤن جانے کے لئے کنڈکٹر کو کرایہ کے پیسے دیئے تھے، جب ویگن بھیکے وال موڑ پہنچی تو انہوں نے مجھ سے ویگن روکنے کے لئے کہا اور کنڈکٹر سے بھی کہا کہ وہ ان کا اٹیچی کیس اوپر سے اُتار دے جو کہ انہیں دے دیا گیا۔

ڈرائیور نے مزید کہا کہ میں نے سوچا کہ انہوں نے تو گرین ٹاؤن جانا ہے۔ یہ لوگ یہاں کیوں اتر رہے ہیں ،جبکہ رات کیو جہ سے اس روٹ کی یہ آخری گاڑی ہے پھر میں نے سوچا کہ مجھے کیا؟ یہ جہاں مرضی اُتریں۔ اب یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ لوگ کہیں پیچھے سے آپ کا تعاقب کرتے آ رہے تھے یا یہ سب اتفاقاً ہو گیا، اس سارے حادثے کے پیچھے ہمارے ہاتھ صاف ہیں۔ ہمارا فون نمبر اور گاڑی نمبر آپ نوٹ کر سکتے ہیں۔ ہم بہر حال اس معاملے میں ملوث نہیں ہیں۔ میں اُن کی بات پر اعتبار کر کے گھر لوٹ آیا۔ گھر میں ایک سوگواری کی سی فضا طاری تھی۔ اب تک یہ سارا واقعہ خاندان میں بھی سنا جا چکا تھا۔ عزیز و اقارب اظہار افسوس اور اپنے اپنے مشوروں سے نوازنے کے لئے آنا شروع ہو گئے۔ پولیس میں رپورٹ درج کرانے کے لئے کہا گیا جو میں نے بوجہ نہ کرائی۔ البتہ فوری طور پر بھیکے وال آدمی بھیج کر وہاں کی مسجدوں سے اس بارے میں اعلان ضرور کرادیا۔ کہ شاید ’’تیرے دل میں اتر جائے، میری بات‘‘ اسی دوران کچھ مقامی اخبارات میں ’’تلاش گمشدہ‘‘ کے عنوان سے اشتہارات بھی شائع کروا دیئے گئے، جن میں اپنے گھر کے پتے کی بجائے اپنے انکل کے گھر کا پتہ لکھوایا۔

دوسری جانب میں نے اپنے طور پر اپنے جاننے والے ایک عالم با عمل اقبال زیدی کو، جو ٹاؤن شپ ہی کے رہائشی تھے۔ ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ ہمارے لئے دُعا کریں کہ ہمارا یہ نقصان ہم سے رفع ہو اور گم شدہ سامان واگزار ہو جائے۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا اور گاہے بگاہے ملاقات کرنے کے لئے بھی حکم دیا۔ چند دنوں بعد جب ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ امتیاز بھائی انشاء اللہ آپ کا سامان جلد آپ کو مل جائے گا، مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں، اُن کے اس ارشاد سے دل کو کچھ ڈھارس ہوئی۔ دنوں کو پر لگتے گئے وقت گزرتا رہا، لیکن کہیں سے کوئی اچھی خبر نہ ملی۔ تین ماہ گزرنے کے بعد میں فطری طور پر مایوسی کا شکار ہو گیا۔ اور نتیجتاً مولانا موصوف سے رابطہ منقطع رہا۔ لیکن یہ ضرور تھا کہ وہ جب کبھی کسی مجلس یا محفل میں ملتے تو پوچھتے ضرور تھے اور پھر تسلی و تشفی بھی دیتے تھے۔ بالآخر اس حادثے کے پیش آنے کے دس ماہ بعد 28 اکتوبر 1987ء کی شام گھر میں دروازے پر بیل بجنے کی �آواز آئی۔ باہر نکلا تو میرے کزن اطہر علی کا مسکراتا ہوا چہرہ سامنے آیا۔ سلام دعا کے بعد وہ مجھ سے کہنے لگے۔ امتیاز بھائی بہت بہت مبارک ہو! آپ کا دس ماہ پہلے کا گم شدہ سامان بازیافت ہو گیا ہے۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ میں نے اُن سے کہا کہ کیا آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ کہنے لگے کہ نہیں! دیکھا تو نہیں! لیکن ہمارے گھر میں دو صاحبان آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ فوری طور پر میرے ساتھ چلیں۔

اتفاق سے اُس وقت بڑی ہمشیرہ بھی گھر پر موجود تھیں۔ میں نے اُنہیں اور اپنی بیگم کو یہ خوش خبری سنائی اور دعاؤں کے لئے کہا اور خود گو مگو کی حالت میں اپنے کزن کے ساتھ اُن کے گھر ماڈل ٹاؤن روانہ ہو گیا۔ وہاں پر دونوں صاحبان موجود تھے۔ سلام دعا ہوئی، انہوں نے 47 نمبر ویگن کے ڈرائیور کے بیان کی تصدیق کی ا ور یہ بھی بتایا کہ یہ سب اتفاقی حادثہ تھا۔ آپ ہمارے ساتھ وحدت کالونی چلیں، باقی باتیں وہاں ہوں گی۔ ’’اندھا کیا چاہے دو آنکھیں‘‘ کے مصداق میں نے اپنے محترم ماموں صاحب اور کزن سے ساتھ چلنے کو کہا، انہوں نے اپنی گاڑی میں ہم سب کو بٹھایا اور وحدت کالونی کے لئے عازمِ سفر ہوئے۔ اِن لڑکوں نے ہماری رہنمائی کی اور ایک گھر کے سامنے لے جا کر کھڑا کر دیا۔ یہ ایک ڈاکٹر صاحب کا گھر تھا۔ صاحب خانہ نے ہمیں اندر ڈرائینگ روم میں بٹھایا۔ اِدھر اُدھر کی چند باتیں کیں۔ اسی دوران چائے بھی آ گئی۔ چائے پیتے پیتے ڈاکٹر صاحب ہم سے مخاطب ہوئے اور انہوں نے جو کچھ کہا، وہ اب اُن کی اپنی زبانی۔

’’یہ دو جوان جو آپ کے سامنے بیٹھے ہیں، یہ دونوں میرے عزیز ہیں۔ ان دونوں میں سے یہ جوان (انہوں نے ایک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) وقوعہ کے روز اپنی بیوی ا ور بچے کے ساتھ شہر کسی کام سے گئے ہوئے تھے۔ واپسی پر یہ اتفاق سے آپ ہی کی ویگن پر گرین ٹاؤن جانے کے لئے سوار ہوئے، لیکن راستے میں ان کے بچے کی طبیعت خراب ہونے لگی تو انہوں نے سوچا کہ یہ اپنے بچے کو مجھے دکھانے کے بعد گھر چلے جائیں گے۔ بھیکے وال موڑ پر انہوں نے جب کنڈکٹر سے اپنا اٹیچی اُتارنے کے لئے کہا تو غلطی سے اس نے آپ کا اٹیچی ان کے حوالے کر دیا۔ اس وقت شاید انہیں بھی رات کے اندھیرے کی وجہ سے اس بات کا علم نہ ہو سکا اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ دونوں اٹیچی ساخت کے اعتبار سے تقریباً ایک جیسے تھے۔ بہر حال یہ میرے گھر آئے بچے کو دکھایا۔ رات میرے ہاں ٹھہرے اور صبح اپنے گھر روانہ ہوگئے۔ گھر پہنچ کر انہیں صحیح صورت حال کا علم اس وقت ہوا جب انہوں نے سامان کھولا۔ ان کی حیرت اور خوشی کی انتہا نہ تھی، کیونکہ یہ صاحب خود تو کچھ خاص کام نہیں کرتے تھے اور ان کا اپنا گھر بھی نہیں تھا ان کا موجودہ گھر بھی میں نے انہیں اپنے طور پر رہائش کے لئے دے رکھا تھا۔ انہوں نے اس دوران کپڑے تو استعمال کئے۔ لیکن زیورات کے بارے میں فوری طور پر فیصلہ کرنے میں تذبذب کا شکار رہے۔ وقت گزرنے کا انتظار کرتے رہے اور کسی کو بھی اس بارے میں خبر نہ ہونے دی۔

ان کی شامتِ اعمال کہ میں گزشتہ روز ان لوگوں کی خیریت پوچھنے کے لئے گرین ٹاؤن چلا گیا۔ گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا میں دستک دینے کے بجائے سیدھا اندر داخل ہو گیا اندر ایک عجیب اور حیران کن منظر تھا۔ یہ اور ان کی بیوی سارا سامان بشمول زیورات اپنے سامنے سجائے بیٹھے تھے اور اس کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کے بارے میں سوچ بچار کر رہے تھے۔ مجھے اچانک اندر آتا دیکھ کر انہوں نے سامان سمیٹنے کی کوشش تو کی لیکن اب دیر ہو چکی تھی میں نے جب پوچھا کہ سچ سچ بتاؤ یہ سب کیا ہے؟ کیا تم لوگوں نے کہیں ڈاکہ مارا ہے یا چوری کی ہے؟ تو انہوں نے قسم اُٹھا کر کہا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں پھر انہوں نے سارا قصہ سنایا۔ میں نے انہیں ڈانٹا اور سارا سامان اُٹھا کر یہاں لے آیا۔ میں نے اس ساری صورت حال پر بہت سوچ بچار کیا۔ اور اس پہلو کو اس حوالے سے بھی سوچا کہ ’’یا اللہ تو مجھے سہارا دے یہ سامان تو یقیناقیمتی ہے، لیکن ایک ویگن میں سفر کرنے والے یقیناًاتنے امیر کبیر گھرانے سے تعلق نہیں رکھتے ہوں گے کہ وہ اس نقصان کو برداشت کر سکیں‘‘۔

مَیں کل ہی آنکھیں بند کئے اس بارے میں سوچ رہا تھا کہ اچانک ایک انہونی وقوع پذیر ہوئی۔ میری بند آنکھوں میں آج سے دس ماہ پیشتر پڑھے ہوئے اخباری کالم ’’تلاش گم شدہ‘‘ کی فلم چلنے لگی جس میں ویگن کے سفر کے دوران سامان کی تبدیلی کا حوالہ تھا، تب میں نے اسے ایک غیبی اشارہ سمجھتے ہوئے ان دونوں کو ماڈل ٹاؤن کے دیئے ہوئے پتے پر جانے کے لئے کہا اور شکر خدا کہ اب آپ حضرات میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے ہمارا گم شدہ سامان ہمارے سامنے رکھا۔ مَیں نے بھی ان کا اٹیچی جو میں اپنے ساتھ ہی گھر سے لے آیا تھا، ان کے حوالے کیا اور اپنے گھر واپس لوٹے ،ہمشیرہ صاحبہ اور بیگم کو اُن کا سامان حوالے کیا۔ مبارک باد دی۔ بیگم نے سامان کی بازیابی کے حوالے سے ایک منت مانی ہوئی تھی۔ اسے پورا کرتے ہوئے نیکلس بازار میں فروخت کر کے اس سے حاصل شدہ رقم اللہ کی راہ میں خیرات کی اور ہم سجدۂ شکر بجا لائے۔

مزید :

کالم -