پراپیگنڈے کا نیا طوفان

پراپیگنڈے کا نیا طوفان

  

پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خاتمے کے لئے متحد ہے۔ جمہوری قوتوں نے اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر ملک میں امن قائم کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ مگر مغربی ذرائع ابلاغ پاکستان کے امیج کو تباہ کرنے کے لئے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ امریکہ میں ہوم لینڈ نامی ایک سیریل نے غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے۔ اس کے چار حصے دکھائے جا چکے ہیں۔ صدر اوباما اس کی تعریف کر چکے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ صدر کی پسندیدہ سیریل ہے۔ اس سیریل میں ترکی ، لبنان، ایران، پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے مسلمان ممالک کی بھیانک تصویر پیش کی جا رہی ہے۔ پراپیگنڈے کے ہتھکنڈے نئے انداز سے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کے امیج کو خراب کرنے کے لئے اس سیریل میں وہ سب کچھ موجود ہے، جسے امریکی اور یورپی بڑے ذوق و شوق سے دیکھتے ہیں،لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ محض فلم یا ڈرامہ ہے۔ وہ ذہنی طور پر اسے ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیتے ہیں۔ مغرب میں عام لوگ رائے حقائق کی بجائے ان فلموں اور ڈراموں کی بنیاد پر بناتے ہیں اور ان کا مقصد بنیادی طور پر یہ ہوتا ہے کہ اسلامی دنیا میں ہونے والے ہر ظلم و ستم کو جائز قرار دیا جائے اور اس سلسلے میں کسی انداز سے بھی مغرب کی جنگی کارروائیوں کو ہدف تنقید نہ بنایا جا سکے۔

’’ہوم لینڈ‘‘ کو ہاورڈ گورڈن اور الیکس گینا پیش کر رہے ہیں ،یہ ایک اسرائیلی سیریل HATUF IM (جنگی قیدی) پر مبنی ہے۔ اس میں ایک امریکی فوجی نکولس بروڈی کو عراق میں القاعدہ قیدی بنا لیتی ہے۔ اس قیدی کو چند سال بعد رہا کرا لیا جاتا ہے،پھر وطن واپسی پر اس کا ایک ہیرو کی طرح استقبال ہوتا ہے۔ مگر اس سیریل کی ہیروئن کیری میتھسن کو شبہ ہوتا ہے کہ نکولس بروڈی کو القاعدہ نے اپنا ساتھی بنا لیا ہے۔ کیری میتھسن کا کردار 35 سالہ کلیری ڈینزنے ادا کیا ہے۔ وہ اس سیریل میں سی آئی اے کی ایجنٹ ہے۔ وہ ایک متلون مزاج، ضدی، ہٹ دھرم اور جرات مند آفیسر ہے۔ اس سیریل کے پہلے حصے میں وہ ہنگلے ورجینیا میں کاؤنٹر ٹیررازم کی سینئر انچارج ہے۔ اپنے سینئر افسران کی خواہش کے برعکس وہ نکولس بروڈی پر نظر رکھتی ہے۔ بروڈی اس سیریل کے پہلے حصے میں امریکہ کے نائب صدر کو خودکش حملہ آور کے طور پر قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر اس کی بیٹی ڈرامائی طور پر راستے میں آجاتی ہے اور وہ اپنے منصوبے میں ناکام رہتا ہے، تاہم کیری کا شبہ پختہ ہو جاتا ہے کہ بروڈی دہشت گرد ہے۔

اس شو کا دوسراحصہ زیادہ ہنگامہ خیز ہے۔ اس میں کیری القاعدہ کے بڑے دہشت گرد ابونذیر کو پکڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ بروڈی سے القاعدہ اور اس کے رہنما ابونذیر کے متعلق قیمتی معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ بروڈی اس مرحلے پر ڈبل ایجنٹ کا کردار ادا کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس دوران بروڈی نائب صدر کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس حصے میں بروڈی کے متعلق پتہ چل جاتا ہے کہ اس کا القاعدہ سے گہرا تعلق ہے ،وہ بھاگ جاتا ہے۔ تیسرے حصے میں بروڈی وینزویلا میں روپوش نظر آتا ہے۔ یہاں اسے محبوس کر لیا جاتا ہے مگر بعدازاں اسے ایران بھجوا دیا جاتا ہے۔ یہاں اس نے انقلابی گارڈ کے سربراہ دانش اکبری کو قتل کرنا ہوتا ہے۔ ایران پہنچ کر وہ وہاں سیاسی پناہ کی درخواست کرتا ہے۔ اس وقت تک وہ سی آئی اے ہیڈکوارٹر پر بم دھماکہ کرنے کے حوالے سے بدنام ہو چکا ہوتا ہے۔ مگر وہ کوشش کے باوجود اکبری کے قریب جانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ اس مرحلے پر سی آئی اے ہیڈکوارٹر کی طرف سے اس کو قتل کا حکم ملتا ہے۔ مگر کیری اس کی مدد کرتی ہے اور اسے اپنا مشن مکمل کرنے کا دوسرا موقع ملتا ہے۔ وہ ایرانی حکام کو یقین دلاتا ہے کہ اس کے پاس خفیہ معلومات ہیں جن سے انہیں فائدہ ہو سکتا ہے۔اس ملاقات کے دوران بروڈی اکبری کو گلا دبا کر ہلاک کر دیتا ہے۔ اس مرحلے پر صدر امریکہ کے خصوصی حکم سے سی آئی اے ایران میں اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے ایرانی حکام کو بروڈی کے خفیہ ٹھکانے کی خبر دے دیتی ہے، یوں بروڈی کو سرعام پھانسی دے دی جاتی ہے۔ کیری اس پھانسی کو ہجوم میں دیکھتی ہے۔ چار ماہ بعد سی آئی اے ڈائریکٹر کیری کو ترکی میں سٹیشن چیف کے عہدے کی پیش کش کرتا ہے، جسے وہ قبول کر لیتی ہے۔ اس شو کے چوتھے حصے میں کیری اسلام آباد میں سی آئی اے کی اسٹیشن چیف تعینات ہوتی ہے اور خفیہ کارروائیوں میں حصہ لیتی ہے۔

اس کالم میں اس سیریل کے متعلق زیادہ تفصیلات فراہم کرنا ممکن نہیں ہے، مگر اس سیریل کے ذریعے لبنان کی اتنی خوفناک تصویر پیش کی گئی کہ بیروت میں سیاحت کم ہو گئی اور لبنان کے وزیر سیاحت نے اس پر باقاعدہ مقدمہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس حصے میں یہ بتایا گیا تھا کہ پرانا بیروت واپس آ گیا ہے ،جہاں دھماکے ہوتے ہیں، گولیاں چلتی ہیں اور لوگ اغوا ہوتے ہیں۔ اہل لبنان اس پر سراپا احتجاج تھے کہ بیروت کی یہ غلط تصویر کیوں پیش کی گئی ہے؟ اس کے بعد جب ترکی کے متعلق سیریل کا آغاز ہوا تو اس میں ترکی میں کرپشن اور دوسرے جرائم کی تصویر دکھائی گئی۔امریکہ میں جب یہ سیریل دکھائی جا رہی تھی تو اس وقت ترکی حکومت میں کرپشن کا ایک سکینڈل منظر عام پر آیا جس میں ایک ایرانی اسی طرح ملوث تھا، جس طرح سیریل میں دکھایا گیا تھا۔ ترکی میں اس سیریل پر کڑی تنقید کی گئی اور اسے عالم اسلام کا امیج تباہ کرنے کے لئے یہودی سازش قرار دیا گیا۔

اس سلسلے کا چوتھا حصہ پاکستان کے متعلق ہے اور اس میں اسلام آباد کو ایک بنجر، ویران، جنگ زدہ شہر دکھایا گیا ہے، جہاں بموں کے دھماکے سنائی دیتے ہیں، گولیاں موت تقسیم کرتی ہیں اور ہر طرف لاشیں بکھری نظر آتی ہیں۔ اس پر واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے زوردار احتجاج کیا ہے اور اسے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستانیوں نے ہزاروں کی تعداد میں جو قربانیاں دی ہیں، یہ سیریل ان کی توہین کرتی ہے۔ پاکستانی حکام نے اس سیریل کے پروڈیوسروں سے سخت احتجاج کیا ہے ،مگر انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔اس سیریل میں کیری پاکستان کے متعلق انتہائی توہین آمیز الفاظ استعمال کرتی ہے۔ اس میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ اس سیریل میں جھوٹ کے جو شاہکار تخلیق کئے گئے ہیں اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں پاکستان والے حصے کو جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں فلمایا گیا ہے۔ اسلام آباد ایک خوبصورت اور پُرامن شہر ہے۔ فلم میں پیش کی جانے والی تصویر حقیقت سے قطعی طور پر متضاد ہے۔

امریکہ میں یہ سیریل بے حد مقبول ہوئی ہے۔ اس کو بے شمار ایوارڈ ملے ہیں اور اس کی ہیروئن نے عالمی شہرت حاصل کر لی ہے، مگر اس سے امریکہ میں مسلمانوں کا امیج بہت خراب ہوا ہے۔ 11ستمبر سے پہلے اسلام امریکہ میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن چکا تھا، مگر اب ہر مسلمان کے متعلق سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ داڑھی اور برقعے کو انتہا پسندی کی تصویریں قرار دیا جا رہا ہے۔ ہم اس معاملے کو نظر انداز بھی کر سکتے ہیں اور اس پر خاموشی کو ہی بہتر حکمت عملی قرار دے سکتے ہیں، مگر جب تک سانحہ پشاور جیسے واقعات ہوتے رہیں گے، ہوم لینڈ جیسی ٹی وی سیریلز اور فلموں کی پذیرائی ہوتی رہے گی۔ ہم انہیں محض سازش قرار دے کر مستقبل کے خطرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ ہر مسلمان اسلام کو امن کا مذہب قرار دیتا ہے اور حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے متعلق اس کا ایمان ہے کہ وہ تمام جہانوں کے لئے رحمت بن کر آئے تھے۔ ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم سچے مسلمان ہیں ،سچا مسلمان پُرامن ہوتا ہے اور دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی وجہ بنتا ہے۔ہمارا عمل ہی پراپیگنڈے کے ان طوفانوں کے سامنے ایک محکم دلیل بن کر کھڑا ہو سکتا ہے۔

مزید :

کالم -