سعودی عرب میں مسیحی برادری نے سادگی کے ساتھ کرسمس کا تہوار منایا

سعودی عرب میں مسیحی برادری نے سادگی کے ساتھ کرسمس کا تہوار منایا

  

 جدہ(محمد اکرم اسد سے) سعودی عرب میں مقیم مسیحی برادری نے سادگی کے ساتھ کرسمس کا تہوار منایا، قونصلیٹ جنرل پاکستان کے ہال میں ہونے والی تقریب میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین اور بچوں نے زرق برق لباس پہن کر شرکت کی، تقریب کے مہمان خصوصی قونصل جنرل پاکستان آفتاب کھوکھراور بیگم قونصل جنرل تھیں جبکہ قونصلر ویلفیئر تحیم الحق حقی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر قونصل جنرل آفتاب کھوکھرنے مسیحی برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی مسیحی برادری ایک محب وطن اور فرض شناس کمیونٹی ہے جس نے ہمیشہ وطن عزیز کو رپیش مشکل وقت میں اہم کردار ادا کیا۔ مملکت میں رہنے والے مسیحی بھائیوں نے بھی ہر موقع اور بحرانوں میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ قونصل جنرل آفتاب کھوکھر نے مزید کہا کہ کمیونٹی کی فلاح و بہبود کیلئے قونصلیٹ بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ تارکین کی سہولت کے پاسپورٹ ہال کو کشادہ کر دیا گیا ہے تاکہ قونصلیٹ آنے والوں کو دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آفتاب کھوکھر نے سانحہ پشاور کو قومی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری پاکستانی قوم افسردہ ہے۔ حکومت پاکستان دہشتگردوں سے نمٹنے کیلئے یکسو ہے اور سب کو ساتھ لیکر چل رہی ہے ان کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا پوری قوم اس اپریشن میں اپنے فوجی بھائیوں کے ساتھ ہے۔ بیگم قونصل جنرل نے مسیحی کمیونی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب ایک ہیں اور سب وطن کی محبت سے سرشار ہیں سب کی خوشیاں سانجھی ہیں۔ کرسچن کمیونٹی کے صدر پاسٹر پرویز یوسف مسیح نے اپنے خطاب میں کہا کہ سانحہ پشاور کے باعث اپنا مذہبی تہوار انتہائی سادگی سے منا رہے ہیں ۔دنیا میں امن کے پیغام کو عام کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے کوشاں ہیں۔ سانحہ پشاور میں شہید ہونے والوں کو لواحقین کیلئے دعا گو ہیں کہ رب کریم انہیں صبر عطا فرمائے۔ پرویز یوسف نے مزید کہا کہ ہم فوجی قیادت کے ساتھ ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ ملک سے دہشتگردی کے خاتمے تک ہر دم ساتھ ہیں۔قدرت نے ہمارے ملک کو بہترین نعمتوں سے نوازا ہے ۔ ہمارے دشمن یہ نہیں چاہتے کہ ہم ان قدرتی نعمتوں سے فیض یاب ہوں جس کے لئے وہ ملک میں مذہبی اور فرقہ ورانہ فسادات کرواتے ہیں مگر ہم سب ان کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے متحدہیں ۔تقریب میں سانحہ پشاور کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے لئے شمعیں روشن کی گئیں جبکہ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں سانحہ پشاور کے سبب تقریب میں روائتی کرسمس کیک نہیں کاٹا گیا۔ مسیحیوں نے دوسرے مرحلے میں پہلے عبادت کی۔ تقریب کی نظامت وکٹر سلویٹر نے اپنے خصوصی انداز میں کی۔

مزید :

عالمی منظر -