نئی حکومت کی تشکیل کے لیے بھارتی جماعتوں کی مرکزی قیادت بھی میدان میں کود پڑی

نئی حکومت کی تشکیل کے لیے بھارتی جماعتوں کی مرکزی قیادت بھی میدان میں کود پڑی

  

 نئی دہلی (کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے بھارتی جماعتوں کی مرکزی قیادت بھی میدان میں کود پڑی ہے ۔ حکومت سازی کے عمل میں تاخیر کے بعد اب بی جے پی اور کانگریس کی اعلی قیادت نے پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید کے ساتھ براہ راست بات چیت شروع کردی ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر اور سابق نائب وزیر اعظم ایل کے ایڈوانی اور کانگریس کے سینئر رہنما و سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مفتی محمد سعید کے ساتھ فون پر رابطے قائم کئے ہیں۔ ان دونوں لیڈران نے اپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے مفتی محمد سعید کو ریاست میں حکومت سازی کی راہ میں حائل مسائل پر بات چیت کی۔ ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے ، جب ریاست میں حکومت کا حصہ بننے والی دونوں مرکزی جماعتوں یعنی بھاجپا اور کانگریس نے پی ڈی پی کو راضی کرنے کیلئے اعلی سطح پر رابطہ قائم کیا ہے۔کانگریس کی جانب سے مفتی سعید کے ساتھ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی بات جیت پر تبصرہ کر تے ہوئے پارٹی کے ریاستی صدر پروفیسر سیف الدین سوز نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کشمیر کے تئیں دلچسپی بھی رکھتے ہیں اور تجربہ کار بھی ہیں انہوں نے کہا کہ اگر چہ مجھے اس بارے میں واقفیت نہیں ہے لیکن پی ڈی پی اور کانگریس کے اتحاد کے حوالے سے اگر اس طرح کی پیش رفت پارٹی ہائی کمان نے کی ہے یا پھر ایسی پیش رفت ہورہی ہے تو میں اس کا خیر مقدم کر تا ہوں ۔ایک سوال کے جواب میں سوز کا کہنا تھا کہ اگر یہ اقدام کیا گیا ہے تو وہ اس سے پر امید بھی ہیں ۔اس دوران کانگریس پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے جموں کشمیر میں حکومت سازی کے سلسلے میں پی ڈی پی کو رضامند کرنے کے لئے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کو میدان میں اتارا ہے اور پہلے مرحلے میں ڈاکٹر سنگھ نے پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید کے ساتھ فون پر بات کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر منموہن سنگھ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پی ڈی پی لیڈرشپ بالخصوص پارٹی سرپرست مفتی محمد سعید کے ساتھ حکومت سازی کے سلسلے میں تبادلہ خیال کریں۔بتایا جاتا ہے کہ سابق وزیر اعظم نے پارٹی صدر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مفتی محمد سعید کو فون کرکے تجویز پیش کی کہ وہ کانگریس کے ساتھ سال2002کی طرز پر مخلوط سرکار کا قیام عمل میں لانے پر سنجیدگی سے غور کریں۔قابل ذکر ہے کہ 2002میں بھی ڈاکٹر من موہن سنگھ کی کوششوں کے بدولت ہی پی ڈی پی کانگریس کی مخلوط سرکار بنی تھی۔دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک مرکزی لیڈر نے بتایاجموں و کشمیر میں حکومت سازی کیلئے پی ڈی پی اور بھاجپا کے مابین جاری اتحاد کی کوششوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سابق وزیراعظم ایل کے ایڈوانی نے مفتی محمد سعید سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا نے مفتی محمد سعید کے ساتھ بات چیت کیلئے ایل کے ایڈوانی کی خدمات اسلئے حاصل کی ہیں کیونکہ دونوں لیڈران کے درمیان ماضی میں دوستانہ مراسم رہے ہیں۔مذکورہ لیڈر نے مزید بتایا کہ مفتی محمد سعید کے ساتھ بی جے پی کے کسی بھی لیڈر کا براہ راست رابطہ نہیں ہے اور چند روز قبل وزیراعظم نریندر مودی کے کہنے پر ہی ایڈوانی نے مفتی محمد سعید کے ساتھ رابطہ کیا ہے اور حکومت سازی کے حوالے سے پی ڈی پی کے شرائط پر گفت وشنید کی۔ان کا کہنا تھا کہ ایڈوانی کے ذریعے ہی پی ڈی پی کے شرائط بھاجپا تک پہنچ گئے ہیں،جس کے بعد بی جے پی کے تین بڑے لیڈروں کے ساتھ ایڈوانی کی میٹنگ ہوئی جس میں کئی شرائط ماننے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید :

عالمی منظر -