2014ء:ایک جائزہ

2014ء:ایک جائزہ

  

2014ء کا سورج غروب ہو گیا، آج 2015 ء کی پہلی صبح ہے، نئے سال میں امیدیں اور خواہشیں بھی نئی ہیں لیکن انہیں پورا کرنے کے لئے پچھلے سال کی کارکردگی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ ہم نے اس سال کیا کھویا ، کیا پایا اور کن معاملات میں کیا پیش رفت ہوئی؟ کونسی کامیابی ہاتھ آئی اور کب اپنی ہی کوتاہیوں کی بدولت ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا؟یہ سال پاکستان کے لئے بہت ’آئیڈیل‘ تصور نہیں کیا جا سکتا، پورا سال کبھی خوشی کبھی غم کی داستان چلتی رہی۔

2014ء میں بھی دہشت گردوں نے ہماری جڑیں ہلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 851 معصوم شہری جاں بحق ہوئے،سیکیورٹی فورسزکے320 اہلکار جان سے گئے اور 2647 دہشت گرد مارے گئے۔دہشت گردی کی کئی بڑی وارداتیں ہوئیں،اسلام آباد میں مقامی عدالتوں پر حملہ ہوا۔کراچی میں جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔حکومت نے سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کیا ،لیکن طالبان کی جانب سے حملوں کا سلسلہ نہ رکااور جب انہوں نے کراچی ائیرپورٹ پرکارروائی کی تو صبر کے سارے بند ٹوٹ گئے، 15جون کوشمالی وزیرستان میں پاک فوج نے ’ آپریشن ضرب عضب‘ کا آغاز کر دیا،یہ آپریشن ابھی تک کامیابی سے جاری ہے اور نوے فیصد علاقہ کلیئر ہو چکا ہے، جلد ہی آئی ڈی پیز کی واپسی کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔آرمی چیف کے مطابق آپریشن ضرب عضب اور خیبرون میں 2100 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔آپریشن ضرب عضب کا بدلہ لینے کے لئے دہشت گردوں نے کوئٹہ ایئر بیس کو نشانہ بنایا، نیول ڈاکیارڈ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ واہگہ بارڈر لاہور میں بم دھماکہ کر کے اپنی دھاک بٹھانے کی بھی کوشش کی لیکن پاک فوج اور قوم کا حوصلہ نہ توڑ سکے اورآپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری رہا۔ پھردہشت گردوں نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے سولہ دسمبر کوآرمی پبلک سکول پر حملہ کر کے 134معصوم بچوں کو شہید کر دیا۔یہ پاکستانی تاریخ کی بد ترین دہشت گردی تھی جس نے پوری قوم کے سینے چھلنی کر دئیے۔بہر حال شر سے خیر برآمد ہو ا اور ہماری سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے خلاف ہم آواز ہو گئی۔دہشت گردوں کاخاتمہ کرنے کے لئے باہمی اتفاق رائے سے قومی ایکشن پلان بنا لیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ تقریباً 6سال سے سزائے موت پر لگی غیر اعلانیہ پابندی اٹھا کر مجرموں کی پھانسی کا عمل بھی شروع ہو گیا۔

2014 ء میں اندرونی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھارتی اشتعال کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ بھارت میں مئی میں نریندر مودی کی حکومت قائم ہوئی لیکن پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں تلخی آ گئی۔بھارت کی جانب سے خارجہ سیکریٹری سطح پر مذاکرات منقطع کر دئیے گئے ، اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا،لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی بدترین خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا اشتعال گولے برسائے گئے۔ بھارت نے کشمیر میں نام نہاد انتخابات کا انعقاد بھی کرایا لیکن ہمیشہ کی طرح اس سال بھی مسئلہ کشمیر حل نہ ہو سکا،اقوام متحدہ کی قراداد کے مطابق کشمیر یوں کو ان کا حق خود ارادیت نہ مل سکالیکن تاریخ میں پہلی مرتبہ کشمیریوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے لند ن میں ملین مارچ کیا۔

بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی آئی لیکن افغانستان کے ساتھ اعتماد کی فضا بحال ہوتی نظر آئی۔2014ء میں افغانستان میں جمہوری حکومت قائم ہوئی، اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ نے مشترکہ طور پر حکومت سنبھال لی۔آرمی چیف نے افغانستان کا دورہ کیا تو افغان صدر بھی پاکستان آئے، سال کے آخر میں افغان آرمی چیف اور ایساف کمانڈر نے بھی پاکستان کا دورہ کر کے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور دونوں ممالک نے اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ کئے جانے کا عہد کیا۔ افغانستان نے پاکستان کے مطالبے پر اپنے علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز بھی کر دیا، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا نیا باب شروع ہو گیا۔2014 ء کے آخر میں تیرہ سال بعد نیٹو افواج نے بھی افغانستان میں جنگی مشن کے خاتمے کا اعلان کر دیا اور واپسی کا راستہ اختیار کر لیا۔طویل عرصے کی جنگ کے بعد بھی افغانستان میں مکمل طور پر امن تو قائم نہیں ہو سکا ، طالبان ابھی بھی وہاں موجود ہیں بلکہ ان کی کارروائیوں میں تیزی ہی آئی ہے لیکن نئے سال میں پاکستان اور افغانستان مل کر کام کرکے امیدکی کرن کو روشن رکھ سکتے ہیں۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی بہتری نظر آئی ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے امریکہ کا طویل ترین دورہ کیا، اہم ملاقاتیں کیں، بلا تفریق دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا یقین دلایا اور بالآخر امریکہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف بہت کچھ کر رہا ہے اسے ’ڈو مور‘ کی ضرورت نہیں ہے ۔اس سے امریکی محکمہ دفاع کی رپورٹ کی بھی نفی ہو گئی جس میں پاکستان کو بھارت اور افغانستان میں در اندازی کا ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔

سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے تو 2014 ء میں پاکستان کا سیاسی درجہ حرارت عروج پر رہا۔پاکستان تحریک انصاف نے 2013 ء کے انتخابات پر انگلی اٹھائی، انہیں دھاندلی شدہ قرار دیا اور تحقیقا ت کا مطالبہ کیا۔ بالآخر 14 اگست کو لاہور سے لانگ مارچ کا آ غاز کیا اور اسلام آباد ڈی چوک میں جا کر دھرنا دے دیا۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اکتفا نہ کیا، ان کا اصرار تھا کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں۔انہوں نے جلسے کیے، ہڑتالیں کیں، شہر بند کرائے لیکن اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔سانحہ پشاور کے بعد عمران خان نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے 129دن بعد ملکی مفاد میں اپنا دھرنا ختم کر دیا اور دہشت گردوں کو اپنے انجام تک پہنچانے کے لئے حکومت کے ساتھ بیٹھ گئے ، اور پیچھے ہٹ کر بھی عوام کے دل انہوں نے جیت لئے۔ 17جون کو حکومتی غفلت کے باعث سانحہ ماڈل ٹاون پیش آیا، جس میں 14معصوم لوگ جان سے گئے۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کینیڈا سے پاکستان آ کر14اگست کوہی انقلاب مارچ کا آ غاز کیا۔انہوں نے بھی اسلام آباد میں دھرنا دیا اور اپنی مرضی کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر کٹوانے میں کامیاب ہو گئے ۔ انہوں نے اپنا دھرنا 72 دن بعد ختم کیا۔ ہر قسم کے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا، بھکر کا ضمنی الیکشن لڑا جس میں ان کا امیدوار ہار گیا، جیت مرحوم نجیب اللہ نیازی کے بھائی انعام اللہ نیازی کے حصے میں آئی جو آزاد حیثیت میں جیتے۔

سیاسی میدان میں گرماگرمی نے معیشت کو بھی نقصان پہنچایا لیکن پھر بھی 2014 ء میں بجلی کے بحران اور معیشت کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے حکومتی اقدامات کے باعث بہتری کی امید پیدا ہو گئی۔ بین الاقوامی سطح پر یورو بانڈز کی 2ارب ڈالر کی کامیاب فروخت کے ساتھ ساتھ موڈی سمیت مختلف انٹرنیشنل ریٹنگ کمپنیوں نے بھی پاکستان معیشت میں آتی بہتری کو سراہا۔ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے بہت سے معاہدے خصوصاً چین کی جانب سے آئندہ چند سالوں میں اربوں ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری نے معیشت کی بہتری میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔یورپی ممالک کو کی جانے والی برآمدات میں جی ایس پی پلس سٹیٹس ملنے سے دو ارب ڈالر کے اضافے کی توقع کی جا رہی ہے اور مجموعی طور پر برآمدات میں تقریباًٍ تین فیصد اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات میں بھی 16فیصد اضافہ ہوا۔ کامیاب 3Gاور4G کی نیلامی سے 120ارب روپے کا کثیر سرمایہ کمایا گیا جبکہ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی اداروں نے بھی حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔بجٹ خسارہ8.8 فیصد سے کم ہو کر 5.7فیصد تک آتا نظر آیا جبکہ مہنگائی میں بھی کمی دیکھی گئی۔طویل عرصے کے بعد تیل کی مصنوعات میں کمی بھی دیکھنے میں آئی،سال کے آخری دن بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان ہوا البتہ اس شعبے پر جی ایس ٹی 5 فیصد بڑھا دیا گیا امید ہے کہ جلد ہی بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی آ جائے گی۔

2014 ء میں برطانیہ اور جرمنی کے ساتھ معاہدے ہوئے، روس کے ساتھ باہمی تعلقات کا آ غاز ہوا اور ماضی کی تلخیوں کو بھلاتے ہوئے ملٹری تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ امریکہ نے بھاشا ڈیم بنانے کے لئے سرمایہ کاری کرنے کا بھی اعلان کیا۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ 1973ء کے بعد سے اب تک پاکستانی تاریخ کا سب سے بدترین سیلاب بھی اسی سال آیا، جس میں پنجاب کے 23 اضلاع، اور آزاد کشمیر کے دس اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ، تقریباً دو سو لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔تھر کے حالات پر بھی قابو نہیں پایا جا سکا اور لوگ خصوصاً بچے قحط کا شکار ہوئے۔

2014 ء میں اچھی خبریں جو آئیں ان میں پاکستان کی بیٹی ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام کا ملنا تھا جس نے پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، اس کے ساتھ ساتھ جو بات حوصلہ افزاء رہی وہ پاکستان میں کرپشن میں کمی تھی، ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ بیس سال کے دوران پہلی مرتبہ کرپشن انڈیکس میں ایک درجے کی بہتری آئی۔

اچھے برے واقعات کے ساتھ 2014 ء تو گزر ہی گیا لیکن ہماری دعا ہے کہ 2015ء ترقی ، خوشحالی، امن اور استحکام کا سال ثابت ہو،ہم اس خطے سے دہشت گردی کا نا م و نشان بھی مٹادیں، اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور کوتاہیوں کو دہرانے سے پرہیز کریں۔خلوص نیت سے نظام کو فعال بنانے کے لئے کام کریں اور حقیقی معنوں میں روشن پاکستان کی بنیاد رکھیں۔

ہمارے تمام قارئین کو نیا سال بہت بہت مبارک ۔۔۔

مزید :

اداریہ -