2014پاکستانی صحافیوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک رہا‘ 14صحافی قتل

2014پاکستانی صحافیوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک رہا‘ 14صحافی قتل

  

نیویارک(این این آئی)2014پاکستانی صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک سال رہا۔ دوران ڈیوٹی چودہ صحافیوں کو قتل کر دیا گیا ٗ2014 میں ہی دنیا بھر میں ایک سو اٹھارہ صحافیوں کو قتل کیا گیا۔انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2014 میں 118 صحافی مختلف پر تشدد کارروائیوں میں مارے گئے۔ 17 صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران قدرتی آفات سے ہلاک ہوئے۔ 2014 پاکستانی صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ملک ثابت ہوا جہاں چودہ صحافی لقمہ اجل بنے۔ متعدد پر حملے ہوئے اور کئی کو حملوں کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔شام دوسرے نمبر پر ہے جہاں بارہ صحافی اپنی صحافتی ذمیداریوں کے دوران مارے گئے۔ افغانستان اور فلسطین میں نو نو صحافی دوران ڈیوٹی مارے گئے۔ عراق اور یوکرین میں آٹھ صحافی قتل کیے گئے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ کا کہنا ہے کہ صحافیوں کا قتل بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ تمام ممالک میڈیا سے وابستہ افراد کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔بین الاقوامی تنظیم آئی ایف جے نے بتایا کہ 17 صحافی دوسرے حادثات اور قدرتی آفات میں ہلاک ہوئے جب وہ اپنا کام کر رہے تھے۔ تنظیم کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق نو نو افراد افغانستان اور فلسطین کے خطے میں ہلاک ہوئے ٗ عراق اور یوکرین میں مرنے والے صحافیوں کی تعداد آٹھ آٹھ رہی۔شام اور عراق میں دولت اسلامیہ نے دو امریکی صحافیوں جیمز فولی اور سٹیون سوٹلوف کا سر قلم کیا۔تنظیم کے مطابق صحافیوں کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں اور اس نے دنیا بھر کی حکومتوں سے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کو ترجیحات میں شامل کرنے کی بات کہی ہے۔آئی ایف جے کے صدر نے کہا کہ صحافیوں کو درپیش نئے خطرات کے پیش نظر اب عمل کرنے کا وقت ہے کیونکہ انھیں اب صرف معلومات کی فراہمی پر قدغن لگانے کے لیے نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے بلکہ انھیں تاوان اور سیاسی حربے کے طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں بہت سے میڈیا ہاؤس اپنے نمائندوں کی حفاظت کی خاطر انھیں جنگ زدہ علاقوں میں روانہ کرنا نہیں چاہتے اور مقامی صحافیوں سے کام چلاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اگر میڈیا کے اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرنے میں بہتری لانے میں ناکامی ہوتی ہے تو جنگ کے میدان کی خبریں متاثر ہوں گی اور آزاد ذرائع سے خبریں مشکل ہو جاؤں گی۔

مزید :

عالمی منظر -