پنجاب بھر میں ایک لاکھ ٹیوب ویل بائیو گیس پر منتقل کئے جائیں گے

پنجاب بھر میں ایک لاکھ ٹیوب ویل بائیو گیس پر منتقل کئے جائیں گے

  

                    لاہور(کامرس رپورٹر)صوبائی وزیر کوآپریٹو ملک محمد اقبال چنڑ نے کہا ہے کہ حکومت توانائی کے متبادل ذرائع کو ترجیح دے رہی ہے جس کے تحت پنجاب بھر میں ایک لاکھ ٹیوب ویلوں کو بائیو گیس پر منتقل کیا جائے گا۔ سٹرس ہمارا نہایت اہم پھل ہے جس کی برآمد سے ملک اربوں روپے کا زرمبادلہ کماتا ہے۔ فروٹ فلائی کے خاتمے کیلئے 227ملین روپے سے ایک پراجیکٹ پر کام جاری ہے۔ فروٹ اینڈ ویجیٹیبل منصوبے کے تحت 120فارمر فیلڈ سکول قائم کیے ہیں جہاں 3000سٹرس کے باغبانوں کو ایک سال کی عملی تربیت دی گئی ہے۔ ان حکومتی اقدامات سے ترشاوہ پھلوں کی پیداوار اور معیار میں بہتری آئے گی۔ملک اقبال چنڑ نے کاشتکاروں کے وفد سے ملاقات میں کہا کہ حکومت صوبے بھرکی منڈیوں کو شہروں سے باہر بہتر مقامات پر منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اشیائے خوردونوش کی ترسیل بہتر طور پر انجام دی جا سکے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق پنجاب کے 26اضلاع میں 1609 زرعی گریجویٹس کو 12ایکڑ سے 25 ایکڑ تک زرعی رقبہ5 سال کے لیز پر فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی جدید تعلیم کے جوہر دکھاسکیں۔ پنجاب میں کل 58ہزار نہری کھالاجات ہیں جن میں سے 43,720 کھالاجات پختہ کیے جا چکے ہیں ۔ آبپاش زراعت کی بہتری کے منصوبے پی آئی پی آئی پی کے تحت مزید 5500کھالاجات کی اصلاح بھی جلد مکمل کی جائے گی۔ انہوںنے بتایا کہ پنجاب کے تحقیقی اداروں نے گزشتہ پانچ سالوں میں پیداوار میںاضافے اور بیماریوں کے خلاف بہتر قوت مدافعت کی حامل گندم کی 11اور کپاس کی 10 نئی اقسام دریافت کی ہیں۔ ان اقسام میں پانی کی کمی اور موسمی تبدیلیوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے جن کے استعمال سے کاشتکاروں کی مجموعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کسانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے ہر اقدام اٹھائے گی۔ کاشتکاروں کے مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے حکومتی پالیسی واضح ہے۔     

     صوبائی وزیر نے کہا کہصوبہ پنجاب میں گندم اور کپاس کی پیداوار میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔بیماریوں کے خلاف بہتر قوت مدافعت کی حامل گندم کی 11اور کپاس کی 10 نئی اقسام دریافت کی ہیں۔ پنجاب میں کل 58ہزار نہری کھالاجات میں سے 43,720 کھالاجات پختہ کیے جا چکے ہیں۔سپلائی چین منصوبے کے تحت سرگودھا میں کنو اور ملتان میں آم کی منڈی بنے گی۔ورلڈ بینک کے تعاون سے سپلائی چین کا منصوبہ بنا رہے ہیں جس سے ہمارے کاشتکار ناصرف بہتر پیداوار حاصل کرپائیں گے بلکہ اپنی اجناس کی برآمد کیلئے انہیں عالمی منڈیوں تک رسائی مل سکے گی۔

مزید :

کامرس -