نیٹو کی ایجنسیاں دنیا بھر انتہا پسندوں کو اپنے مقاصد کےلئے استعمال کر رہی ہیں، مجاہد کامران

نیٹو کی ایجنسیاں دنیا بھر انتہا پسندوں کو اپنے مقاصد کےلئے استعمال کر رہی ...

  

لاہور ( ایجوکیشن رپورٹر)وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا ہے کہ نیٹو کی ایجنسیاں دنیا بھر میں دہشتگردی کا انجن چلا رہی ہیں اور انتہا پسندوں کو اپنے مقاصد کےلئے استعمال کر رہی ہیں وہ پنجاب یونیورسٹی کے الرازی ہال میں سانحہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے میں زندہ بچ جانےوالے بچوں کے پنجاب یونیورسٹی کے دورہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے معروف برطانوی صحافی رچرڈ کاٹریل کی کتاب ”گلیڈیو“سے چند اقتباس پڑھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک میں ایسی ایجنسیاں کام کر رہی ہیں جو دنیا بھر میں دہشتگردی کے بڑے واقعات کی ذمہ دار ہیں اور انتہاپسندوں اور مذہبی جنونیوں کو اپنا آلہ کار بناتی ہیںانہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا علاج صرف فوجی آپریشن نہیں بلکہ اس کا ذہنی طور پر بھی سدِ باب کرنا ہو گا اور انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اسلام کے صحیح مفہوم سے کوسوں دور ہیں اور ملائیت کا شکار ہو چکے ہیں اور ہماری اسی کمزوری سے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ آزادی کے بعد آج تک ہمارے ملک میں تعلیم کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ اگر ہمارے پاس ایک نظام تعلیم ہوتا تو معاشرے میں یہ خلفشار نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان بے علم ہونے کی وجہ سے بے حیثیت ہو گئے ہیں۔تقریب میں دہشت گردی کے ظالمانہ واقعے میں بچ جانے والے دسویں جماعت کے طالبعلم ارباب کریم نے واقعے کا حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد جب آڈیٹوریم کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو ہم آڈیٹوریم میں تھے۔ دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ میرے آٹھ کلاس فیلوز موقع پر شہید ہو گئے میں نے بھاگ کر جان بچائی۔ ارباب کریم نے کہا کہ وہ بڑا ہو کر فوج میں جائے گا اور دہشت گردوں سے بدلا لے گا۔ پہلی جماعت کے طالبعلم ارباز ذلن نے کہا کہ انہیں کلاس پڑھائی جا رہی تھی اور ان کی آرٹس و سائنس کی نمائش جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آواز آئی۔ ہمارے اساتذہ نے کہا کہ چھپ جاو¾ پھر میرے بھائی اور کزن آگئے ہم واش روم میں چھپ گئے۔ پھر چوتھی اور پانچویں کلاس کے بچے آگئے کچھ دیر بعد فوج نے وہاں آکر ہمیں نکالا۔ بچوں کے والد نے کہا کہ ہمیں جب خبر ملی تو ہم گاو¾ں میں تھے اور ہنگامی حالت میں باہر آئے ہمیں سخت پریشانی ہوئی اور میرا بڑا بیٹا اڑھائی گھنٹے تک اندر پھنسا رہا جب وہ باہر آیا تو کپڑے خون سے سرخ تھے۔ متاثرہ بچوں کے کزن ارباب حمزہ نے کہا کہ اگر دہشت گرد اگر سمجھتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو ٹارگٹ کر کے ہمیں سکول جانے سے روک سکتے ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ ہمارا جذبہ اور بڑھا ہے اور ہم ڈٹ کر ان کا مقابلہ کریں گے۔ تقریب کے اختتام پر سانح پشاور میں جاں بحق ہونے والے شہداءکے لئے دعا کی گئی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -