ویمن پروٹیکشن ایکٹ سے خواتین میںتحفظ کا شعور اجاگر ہوا،ہارون سلطان

ویمن پروٹیکشن ایکٹ سے خواتین میںتحفظ کا شعور اجاگر ہوا،ہارون سلطان

  

 لاہور) جنرل رپورٹر) صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال سید ہارون سلطان بخاری نے کہا ہے کہ ہراسمنٹ اگینسٹ وویمن پروٹیکشن ایکٹ 2010ءترمیم شدہ2012ءکے نفاذسے ملازمت پیشہ خواتین کو دوران ملازمت جنسی طور پر ہراسا ں کرنے کے خلاف تحفظ کاشعور اجاگرہوا ہے یہ بات انہوں نے ملازمت پیشہ خواتین کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی انہوںنے کہا کہ وویمن پروٹیکشن ایکٹ 2012ءکے ذریعے مختلف سرکاری و نیم سرکاری او رپرائیویٹ اداروں میں ملازمت کرنےوالی خواتین کو ہراساں کرنے کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا جس سے خواتین بلا خوف و خطر اپنے ملازمتی امور سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنے خاندانوں کی معاشی معاونت اور ملکی ترقی میں بھی اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں گی-

۔

انہوںنے بتایا کہ ورکنگ وویمن کو ملازمت کے دوران جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف آگہی پروگرام پنجاب میں مرحلہ وار شروع کیا گیا ہے -انہوں نے مزید کہا کہ اس آگہی پروگرام کا مقصد ملازمت پیشہ خواتین میں اپنا حقوق کے تحفظ کا شعور اجاگر کرنا، جنسی طور پر ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف آواز اٹھانا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کروانا ہے تا کہ ان عناصر کو قانون کے کہٹرے میں لایا جائے جو ملازمت پیشہ خواتین کو اپنے گھناﺅنے مقاصد پورے کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں-انہوں نے کہا کہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے جس میں مختلف قسم کی سزائیں اور جرمانے شامل ہیں -سیدہارون سلطان بخاری نے کہا کہ وویمن ایکٹ 2012ءکے تحت تمام سرکاری و نیم سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں شکایات سیل اور انکوائری کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جن میں بنک،مالیاتی ادارے ،چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز،کالجز،یونیورسٹیز،سکول اور ہسپتال شامل ہیں اور یہ تمام ادارے اس ایکٹ پر عملدر آمد کے پابند ہیں-ان اداروں میں قائم کی گئی انکوائری کمیٹیاں اور شکایات سیل ملازمت پیشہ خواتین کی شکایات پر فوری کاروائی کر کے فیصلہ کرتے ہیں-

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -