2014،اہم ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں محفوظ کرنے کا عمل شروع کیا گیا

2014،اہم ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں محفوظ کرنے کا عمل شروع کیا گیا

  

لاہور(عامر بٹ سے)2014میںڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کی ہدایت پر صوبے بھر میں قائم ریجنز میں موجود درخواستوں ،مقدمات انکوائریوں اور دیگر اہم نوعیت کے ریکارڈ کی ڈیٹا انٹری کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں فیڈنگ کا کام شروع کیاگیا ،2010سے لیکر 2014تک ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں محفوظ کیا گیا ، سرکاری ملازمین سے رابطے اور اہم کیسز کی لیکجز سمیت ملزمان سے ساز باز کے الزامات کے تحت اینٹی کرپشن ملازمین کی سموں کا ریکارڈ ڈیٹا منگوا کر تحقیقات کی گئیں جو کہ بعد ازاں نا معلوم وجوہات کی بناءپر روک دی گئیں ،اشتہاری سرکاری ملازمین کی گرفتاریوں کےلئے سپیشل سکواڈتشکیل دئیے گئے،اینٹی کرپشن لیگل ونگ کے ناتجربہ کار افسران کی عدم توجہ کے باعث ہزاروں مقدمات اور انکوائریاں کاغذی کارروائی تک محدود رہیں ،اینٹی کرپشن لاہور ریجن کرایہ پر لئے جانے والی بوسیدہ عمارت میں داخلی راستوں سے ہوا کا گزر نہ ہونے اور شدید حبس کے باعث متعدد ملازمین بے ہوش ہوئے ، ریکارڈ بکھرا اور درہم برہم نظر آیا،متبادل عمارت کےلئے کی جانے والی کوششیں بھی رائیگاں گئیں تمام تر دعوﺅں اور کوششوں کے باوجود اس سال بھی محکمہ اینٹی کرپشن اپنی نئی عمارت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکااور ایک بار پھر جھوٹی تسلیوں پر گزارا کیا ،وراثتی انتقالات کا بائیکاٹ کر دیا،اینٹی کرپشن میں پرائیویٹ افراد کی تعیناتی کامحتسب پنجاب نے نوٹس لیا اور محکمے سے پرائیویٹ عملے کو باہر نکال دیا گیا،126سے زائد اشتہاری ملازمین کی گرفتار ی عمل میں لائی گئی،محکمہ ریونیو کے ایک ایکسپرٹ کے طور پر ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور طارق محمود اورڈائریکٹر لاہور نورمحمد اعوان کی تعیناتی کے بعد محکمہ کی پراگرس میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور کئی کئی سالوں سے پینڈنگ ریونیو کیسز کی شنوائی ہوئی،میگا کرپشن کیسز میں ملوث سرکاری ملازمین کی گرفتاریوں کی بجائے الٹا انہیں بھر پور تحفظ فراہم کیا گیا،کسی ایک بھی بڑے کیس میںپیش رفت نہ ہوسکی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -