کالعدم تنظیمیں اب خود کو حقیقی معنوں میں کالعدم سمجھیں ،نواز شریف

کالعدم تنظیمیں اب خود کو حقیقی معنوں میں کالعدم سمجھیں ،نواز شریف

  

                                               اسلام آباد( آن لائن +مانیٹرنگ ڈیسک +اے این این)وزیراعظم نوازشریف نے کہاہے کہ سخت ترین اقدامات کا وقت آگیا ،پاکستان میں اب کسی مسلح جتھے کو کام کی اجازت نہیں ہوگی، کالعدم تنظیمیں اب خود کو حقیقی معنوں میں کالعدم سمجھیں،مسلح افواج سیاسی قیادت کے شانہ بشانہ ہے ، قومی عملی منصوبے پر من وعن عمل کریں گے ، آپریشن ضرب عضب دہشت گردوں پرکاری ضرب ہے ۔بدھ کوسینٹ کے اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ سانحہ پشاور نے پوری قوم کو متحد کردیا ہے ، ہم دہشت گردی ختم کرکے دم لیں گے ، پچاس ہزار پاکستانی شہید ہو چکے ہیں ، دس سال سے قوم کرب میں مبتلاءہے ، اب اس جنگ کیخلاف فیصلہ کن لڑائی کا وقت آ گیا ہے ،میں اپوزیشن جماعتوں کا مشکور ہوں جنہوں نے حکومت کا ساتھ دیا اور قومی لائحہ عمل کی تیاری میں معاونت کی ۔ کمیٹی پر بڑی تنقید ہوئی مگر اس نے ایک ہفتے میں اپنا کام مکمل کرکے دکھایا ، آخری اجلاس دس گھنٹے سے زائد جاری رہا اور 20 نکاتی منصوبہ مکمل کیا ، ریاست اس ناسور کے خاتمے کے لئے پوری قوت سے آگے بڑھے گی ۔انہوں نے کہاکہ ہم حالت جنگ میں ہیں ، غیر معمولی حالات غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں ،عبادت گاہیں ، درس گاہیں ، ایئرپورٹس محفوظ نہیں ہیں ،معصوم پھول سے بچے شہید کیے جارہے ہیں ، دہشت گردوں نے قوم کو یرغمال بنا رکھا ہے ،مگر ہم اب یہ سب کچھ نہیں ہونے دینگے ، ہم بچوں کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے اور ہم پر یہ واجب ہے ۔انہوں نے کہاکہ مسلح افواج سیاسی قیادت کے شانہ بشانہ ہے ، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اتحاد ناگزیر ہے ، قومی ایکشن پلان کےلئے بارہ ورکنگ گروپ تشکیل دیئے گئے ہیں جنہوں نے کام شروع کردیا ہے ، میں خود کام کی نگرانی کررہا ہوں ، خصوصی عدالتیں قائم ہوں گی جن کے سربراہ فوجی افسرن ہوں گے اور اس میں صرف دہشت گردی کے مقدمات چلیں گے ، حتمی منظوری پارلیمنٹ سے لی جائے گی ۔وزیراعظم نے کہاکہ اب ہم کسی مسلح جتھے یا گروہ کو کام کرنے کی اجازت نہیں دینگے ، کالعدم تنظیمیں اب کالعدم ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہاکہ میڈیا کو ذمہ دارانہ کرداراداکرنا ہوگا ، قومی عملی منصوبہ صرف سیاستدانوں کا نہیں بلکہ فوج کا بھی ہے ، آئینی ترمیم یا خصوصی عدالتوں کا فیصلہ کوئی اکیلا شخص نہیں کرےگا بلکہ پوری پارلیمنٹ کرے گی ، تمام اقدامات آئین کے دائر میں ہوں گے ، آئین سے انحراف کیا نہ کریں گے ، عدلیہ کی آزادی کےلئے جدوجہد کی ہے ، سخت ترین اقدامات کا وقت آگیا ہے ، ہم کسی کے انسانی حقوق کو پامال نہیں ہونے دینگے ، ہم ملک کو جنگل نہیں بناسکتے ۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھے وزارت عظمیٰ کا منصب قوم کی حفاظت کیلئے دیا گیا ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کو پروان نہیں چڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ اس ڈر سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے کل کو میرا بھی فوجی عدالت میں ٹرائل نہ ہو۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے غیر معمولی حالات غیر معمولی اقدامات کے متقاضی تھے۔ کیا یہ غیر معمولی نہیں کہ پھول جیسے بچوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے۔ کیا یہ غیر معمولی نہیں کہ دہشتگرد پوری قوم کو یرغمال بنا لیں۔ بچوں کے خون کے قطرے کا حساب لینا ہم پر واجب اور قرض ہے۔ ہماری منزل دور نہیں، دہشتگردی کے خلاف عوام کی تائید ہمارے ساتھ ہے۔ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -