لاہور ہائیکورٹ کا آکسیجن شاٹس دینے والے کیفے کو دوبارہ کھولنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا آکسیجن شاٹس دینے والے کیفے کو دوبارہ کھولنے کا حکم

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے آکسیجن شاٹس دینے والے کیفے کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیتے ہوئے سیکرٹری صحت اور ڈی سی او لاہور سے جواب طلب کر لیا ۔مسٹر جسٹس شاہد کریم نے فاریسٹ کیفے کے ڈائریکٹر جاوید مختار چودھری کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ڈی سی او نے 28دسمبر کو یوگا اور آکسیجن تھراپی سے علاج کرنے والے بلیو لگون ہیلتھ کیئر کے زیر انتظام فاریسٹ کیفے کو سیل کر کے دو ملازمین نوید اور خالد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، انہوں نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ 28دسمبر کو ڈی سی او اور ایس ایچ او غالب مارکیٹ کیفے پر کھانا کھانے آئے ، انتظامیہ نے کھانے کا بل مانگا تو ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان اور ایس ایچ او غالب مارکیٹ نے بل دینے کی بجائے کیفے انتظامیہ کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور انتقامی کارروائی کرتے ہوئے کیفے کو سیل کر کے دو ملازمین نوید اور خالد کو گرفتار کرا دیا، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ یوگا اور آکسیجن کے ذریعے مریضوں کا جدید طریقوں سے علاج کیا جاتا ہے جو کہ حکومت سے باقاعدہ منظور شدہ طریقہ علاج ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے کیفے سیل کرنے سے قبل کوئی نوٹس بھی نہیں بھجوایا لہٰذا کیفے کو دوبارہ کھولنے اور کیفے ملازمین کے خلاف کارروائی روکنے کا حکم دیا جائے، ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے آکسیجن شاٹس دینے والا کیفے دوبارہ کھولنے اور ملازمین کے خلاف درج مقدمے کی کارروائی روکتے ہوئے سیکرٹری صحت اور ڈی سی او لاہور سے 26جنوری تک جواب طلب کر لیا۔

حکم

مزید :

صفحہ آخر -