پشاور ،پرویز مشرف پر حملے کے ایک اور مجرم نیاز محمد کو پھانسی دیدی گئی

پشاور ،پرویز مشرف پر حملے کے ایک اور مجرم نیاز محمد کو پھانسی دیدی گئی

  

                           پشاور ( مانیٹرنگ ڈیسک +اے این این) سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے ایک اور مجرم کو پھانسی دے دی گئی،پاک فضائیہ کے سابق اہلکار نیاز محمد کو ہری پور جیل سے پشاور لا کر تختہ دار پر لٹکایا گیا،مجرم کا تعلق صوابی سے تھا اور وہ عدنان رشید کا قریبی ساتھی تھا،نیاز محمد کو2006میں فوجی عدالت نے سزائے موت کا حکم سنایا تھا،اسے 2003میں پرویز مشرف کے قافلے کو بم سے اڑانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیاگیا تھا،لاش لواحقین کے سپرد،صوابی میں سپرد خاک۔مشرف حملہ کیس کے مجرم نیازمحمد کو سینٹرل جیل پشاور میں پھانسی دے دی گئی۔سینٹرل جیل ہری پور میں پھانسی گھاٹ نہ ہونے کی وجہ سے مجرم نیاز محمد کو گزشتہ رات سینٹرل جیل پشاورلایا گیا تھا، جہاں پر اسے بدھ کی صبح پھانسی دے دی گئی، مجرم کاتعلق صوابی سے تھا اور وہ پرویزمشرف حملہ کیس کے مجرم عدنان رشیدکاقریبی ساتھی تھا، پھانسی کے بعد نیاز محمد کی ڈیڈ باڈی لواحقین کے سپرد کی گئی جسے بعد میں صوابی میں اس کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔نیاز محمد کو تختہ دار پر لٹکانے کے وقت سنٹرل جیل پشاور کی سکیورٹی کے انتظامات سخت کئے گئے تھے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو جیل کی جانب آنے کی اجازت نہ تھی۔ ڈاکٹروں کی جانب سے موت کی تصدیق کے بعد نیاز محمد کی لاش ورثا کے حوالے کی گئی۔واضح رہے کہ صوابی سے تعلق رکھنے والے نیاز محمد کو پرویز مشرف پر راولپنڈی میں حملے کے جرم میں 2006 میں ملٹری کورٹ نے پھانسی کی سزا سنائی تھی اور اسے چند روز قبل ہی ہری پور سے پشاور منتقل کیا گیا تھا۔نیاز محمد پاکستان ایئر فورس کا سابق اہلکار اور جونئیر ٹیکنیشن تھا اور اسے دسمبر 2003 میں راولپنڈی میں پرویز مشرف کے قافلے کو بم دھماکے سے اڑانے کے جرم میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔14 دسمبر 2003 کو راولپنڈی میں جھنڈا چیچی پل پر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے مقدمے میں فوجی عدالت نے نیاز محمد سمیت چھ مجرموں کو سزائے موت سنائی تھی جن میں عدنان رشید بھی شامل تھا۔عدنان رشید کو اپریل 2012 میں طالبان شدت پسندوں نے بنوں جیل پر حملہ کر کے فرار کروا لیا تھا جب کہ اسلام الدین شیخ عرف عبدالسلام صدیقی کو اگست 2005 میں پھانسی دے دی گئی تھی۔نیاز محمد ہری پور کی جیل میں قید تھا جہاں اس کی اپنے رشتے داروں سے آخری ملاقات کروائی گئی اور منگل کو رات دیر گئے اسے پشاور جیل منتقل کیا گیا اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کی صبح چھ بج کر چالیس منٹ پر پھانسی دی دے گئی۔

مزید :

صفحہ اول -