بجلی ،گیس قیمتوں کا سال نو کا تحفہ قرار دینا مسترد کر تے ہیں ،شاہ محمود قریشی

بجلی ،گیس قیمتوں کا سال نو کا تحفہ قرار دینا مسترد کر تے ہیں ،شاہ محمود قریشی

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو پہلے سے مشکلات کی شکار قوم کیلئے سال نو کا تحفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری اور رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پشاور کے ہولناک واقعے اور دہشت گردی کے بدترین خطرات سے دو چار قوم کی مشکلات میں کمی کی بجائے انتہائی سنگدلی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان پر بے پناہ معاشی بوجھ لاد دیا ہے۔ تحریک انصاف کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات پر پہلے سے عائد شدہ 17فیصد جنرل سیلز ٹیکس کی موجودگی میں 5فیصد اضافی جی ایس ٹی کا نفاذ حکومت کی جانب سے کھلی رہزنی کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق ایسے وقت میں جب بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات سے عوام فیضیاب ہوا ہی چاہتے تھے حکومت نے ٹیکس میں اس بلاجواز اضافے کے ذریعے تیل کی قیمتوں میں کمی کے فوائد سے محروم کیا بلکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم کی بھی صریحاً خلاف ورزی کی جس میں حکومت کو انتظامی حکمنامے کے ذریعے ٹیکس کی شرح بڑھانے سے روکا گیا ہے۔ رکن قومی اسمبلی اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس سے قبل حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں 7فیصد اضافے اور گیس پر GIDCکے نفاذ کے ذریعے 140ارب اکٹھا کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ تاہم دسمبر میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے آئی ایم ایف کو بھیجے گئے میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج کے باعث حکومت کیلئے مذکورہ اقدامات اٹھانا ممکن نہ ہے۔ تاہم حکومت ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کی خوشنودی اور مزید قرضوں کے حصول کی خاطر سفاکانہ اقدامات پر اتر آئی ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم امتناعی کے باوجود پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ہی بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں کی شرح بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے نومبر میں پہلے سے مشکلات کے شکار صارفین پر ڈیڑھ روپے فی یونٹ کے حساب سے Equalisation Surchargeاور 30پیسہ فی یونٹ کے حساب سے Unit Debt Surchargeجیسے دو نئے ٹیکس نافذ کیے۔ انہوں نے مزید بتایا کیسے حکومت نے اکتوبر 2013تک بجلی کے نرخ میں 80فیصد تک اضافہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے انہی ظالمانہ اقدامات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ صارفین پر 60پیسے فی یونٹ کے حساب سے ایڈیشنل سرچارج لگا نے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ اپنی گفتگو کے دوران اسدعمر کا کہنا تھا کہ نیپر نے نومبر میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 40فیصد گراوٹ کے بعد 2اعشاریہ 97روپے فی یونٹ کمی کی سفارش کی جبکہ حکومت نے محض 2اعشاریہ 37روپے کمی کانوٹیفکیشن جاری کیا۔ تحریک انصاف کے رہنما کے مطابق 27نومبر کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے حکومت کو Debt Surchargeکی وصولی سے منع کرنے کے باوجود مذکورہ اقدامات اٹھائے گئے۔ پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف کے رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کی مد میں صارفین سے گزشتہ 5برس کے دوران 35ارب کی وصولی کے باوجود منصوبے کی عدم تکمیل اور اس کی لاگت میں مسلسل اضافے پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اربوں ڈالرز کے نندی پور منصوبے کیطرح نیلم جہلم منصوبے کو بھی سفید ہاتھی میں تبدیل کرنے کیلئے پوری طرح کمر بستہ نظر آتی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق حکومت یکم جنوری سے گیس پر اضافی سرچارج کے نفاذ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کروا چکی ہے اور اس اضافی ٹیکس کے ذریعے حکومت 140ارب کی اضافی رقوم اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -