چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت کے تاثر کی نفی کر دی

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت کے تاثر کی نفی کر دی ...

  

                   لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس خواجہ امتیاز احمد نے انسداد دہشت گردی کی موجودہ عدالتوں کی کارکردگی پر اظہار اطمینان کرکے بالواسطہ طور پر فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت کے تاثر کی نفی کردی۔گزشتہ روز چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس خواجہ امتیاز احمد کی سربراہی میں ہونے والے خصوصی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتیں روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کریں گی ۔اجلاس میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے انتظامی جج مسٹر جسٹس منظور اے ملک سمیت انسداد دہشت گردی کی تمام عدالتوں کے ججوں نے شرکت کی ۔چیف جسٹس نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔انہوں نے مجوزہ فوجی عدالتوں کا ذکر کئے بغیر کہا کہ انسداد دہشت گردی کی موجود ہ عدالتیں ٹھیک کام کررہی ہیں اور ان کی کارکردگی تسلی بخش ہے ۔چیف جسٹس نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو ہدایت کی کہ وہ جلد ازجلد مقدمات نمٹانے کے لئے قانون کی منشا کے مطابق کام کریں ۔مزید یہ کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتیں استغاثہ ،تفتیشی اداروں اور وکیل صفائی کوعدالتی کارروائی میں شرکت کا پابند کریں تاکہ دہشت گردی کے مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوسکے۔قانونی حلقوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی کی موجودہ عدالتوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرکے مجوزہ فوجی عدالتوں کی ضرورت کے تاثر کی نفی کردی ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -