ایک جانب قیمتیں کم کر کے دوسرے ہاتھ سے رعایت میں کمی کی جارہی ہے

ایک جانب قیمتیں کم کر کے دوسرے ہاتھ سے رعایت میں کمی کی جارہی ہے
ایک جانب قیمتیں کم کر کے دوسرے ہاتھ سے رعایت میں کمی کی جارہی ہے

  

تجزیہ، چودھری خادم حسین

 ہمارا پیاراملک ایسے بھنور میں پھنس گیا کہ اس سے نکل ہی نہیں پا رہا اور ماضی سے سبق سیکھنے کے دعویدار سیاسی رہنما اسے درخوار اعتنا نہیں جان رہے، جبکہ حکومت کی رٹ تاحال کمزوری کا شکار ہے اور یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکمران ٹھوس فیصلے کرنے کی اہلیت نہیں پا رہے۔ کُل جماعتی پارلیمانی اجلاس میں جو کچھ حاصل کیا گیا تھا وہ ضائع ہوتا نظر آ رہا ہے کہ شرکاءجماعتیں دہشت گردی کے موضوع پر تو قائم ہیں، لیکن دوسرے امور پر اختلاف ابھر آئے ہیں۔ اس کی دو مثالیں ہیں ایک فوجی عدالتوں کے قیام کی ہے تودوسری مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے مذاکرات کی ناکامی کے خدشات کی ہے کہ فریقین کے موقف میں لچک نہیں آ رہی اب پھر مرکزی قیادت کی مداخلت ہو گی۔

مذاکراتی ٹیم کے رکن اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ جو تحریک انصاف والے مانگتے ہیں وہ نہیں دیا جا سکتا اور ان کی بات مان کر عدم استحکام پیدا ہو جائے گا۔ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں بہت ہو گیا، بڑی لچک دکھا دی گئی، اب کوئی رعایت نہیں ہو گی، اس کے بعد بھی اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ معجزہ ہی ہو گا۔ سینیٹ میں دھواں دھار تقریروں کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام کی تجویز مسترد کر دی گئی ہے، بعد میں کوئی تبدیلی آ جائے تو کہا نہیں جا سکتا۔ فی الحال تو تحریک انصاف17جنوری سے پھر عوامی ردعمل کا اظہار کر رہی ہے۔ بات نہ بنی تو پھر سے تحریک شروع ہو گی۔اب تو موقع ہے کہ حالات کو سنبھال لیا جائے۔

بلوچستان میں کچھ عرصہ سے تخریب کاری میں کمی آئی تھی۔اگرچہ بم دھماکے ہوئے، لیکن مجموعی طور پر حالات قدرے بہتر تھے، لیکن حال ہی میں دو مرتبہ پائپ لائنیں اڑائی گئیں اور یہ دونوں پنجاب کو گیس فراہم کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ بھی تخریب کاری ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر مالک مذاکرات کامیاب نہیں کرا سکے یہ اور بھی زیادہ تشویش کی بات ہے۔

سابق وزیر داخلہ اور پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کے چیف سیکیورٹی آفیسر عبدالرحمن ملک بار بار ”داعش“ کا ذکر کرتے اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس کے خلاف کارروائی کے لئے خصوصی فورس تشکیل دی جائے، حکومت اور سیکیورٹی اداروں والے کہتے ہیں کہ داعش کا وجود نہیں، وال چاکنگ کوئی اور کر رہا ہے۔ یہ اس حد تک درست ہے کہ اب تک کی تحقیق و تفتیش اور گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کا نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ صرف یہ نکتہ سامنے آیا کہ کالعدم تنظیم حزب التحریر کے کارکن وال چاکنگ کر رہے ہیں۔ اس کالعدم تنظیم کا انچارج نوید بٹ پہلے ہی زیر حراست ہے۔ یہ تنظیم عرصہ سے نظام خلافت کے لئے تحریک چلا رہی تھی اب صرف یہ کرنا ہے کہ جو گرفتار ہو چکے ان کے توسط سے باقی کارندے بھی پکڑے جائیں، ویسے حالات حاضرہ میں سراغ لگا کر گرفتاری لازمی ہے۔

مزید :

تجزیہ -