سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تحقیقات ،دہشتگردی روکنے میں مجرمانہ رویہ اختیار کیا ،عوامی تحریک

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تحقیقات ،دہشتگردی روکنے میں مجرمانہ رویہ اختیار کیا ...

  

                                   لاہور( سٹاف رپورٹر)پاکستان عوامی تحریک نے وفاقی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر حقائق نامہ جاری کرتے ہوئے اسے انتہائی مایوس کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پانچ اہم قومی ، عوامی اور آئینی ایشوز،لوڈ شیڈنگ،بلدیاتی انتخابات،دھاندلی شکایات،ماڈل ٹاﺅن کی شفاف تحقیقات اور دہشت گردی کے ایشوز کے حل میں وفاقی حکومت نے دانستہ مجرمانہ رویہ اختیار کیا اور ان ایشوز پر حکومت ایک انچ پیش رفت نہ کر سکی،سانحہ پشاور ملکی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا مگر وفاقی حکومت اس سانحہ کے 16دن گزرنے کے بعد بھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھا سکی بلکہ اے پی سی میں جن امور پر اتفاق ہو گیا تھا حکومتی نا اہلی کے باعث وہ امور بھی بد اعتمادی کا شکار ہوئے اور اس سے قومی یکجہتی کی فضا کو دھچکا لگا ۔30 اکتوبر 2013 کو پھانسیوں کی سزا پر عمل درآمد کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس کی مدت پوری ہو گئی تھی موجود حکومت نے ایک سال تک پھانسیاں نہ دے کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ۔ملک میں سالہا سال سے انارکی،بے چینی اپنے عروج پر رہی مگر وزیر اعظم نے بیرونی ممالک کے 14دورے کئے مگر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صرف 4 بار شریک ہوئے ۔پارلیمنٹ کا فلور افواج پاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا اور حکومت قومی سلامتی کے ضامن ادارے آئی ایس آئی کے خلاف منفی مہم کا حصہ بنی ،وفاقی حکومت کرپشن کے داغ سے دامن نہیں بچا سکی،500ارب روپے کے گردشی قرضہ کی ادائیگی اور نندی پور پاور پراجیکٹ کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہی ۔جائزہ رپورٹ کے مطابق نندی پور پاور پراجیکٹ میں مبینہ کرپشن کا بظاہر کابینہ نے نوٹس لیا مگر آج تک اسکی رپورٹ پبلک نہیں کی ،بجلی کے بلوں کے ذریعے اووربلنگ کر کے حکومتی سطح پر کروڑوں عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی اور وزیر اعظم نے اعلان کے باجود آج تک بجلی کے صارفین سے وصول کی گئی اضافی رقم واپس نہیں کی۔جائزہ رپورٹ مرکزی صدر ڈاکٹر رحیق احمد عباسی ، مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور کی سر براہی میں تیار کی گئی ،کارکردگی رپورٹ کے مطابق 2014 سیاسی کارکنوں اور اس کی قیادت پر بہت بھاری ثابت ہوا،ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان پر سیاسی عناد میں دہشت گردی کے مقدمات درج کئے گئے اور انکی آواز کو ریاستی طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی اور پاکستان کے عوام کے منتخب کردہ سب سے بڑے آئینی و جمہوری ایوان کے سامنے عوامی حقوق کےلئے آواز اٹھانے والوں پر گولیاں برسائی گئیں ،خون بہایا گیااور اس ایوان کا تقدس مجروح کیا گیا ,بالخصوص پاکستان عوامی تحریک کی قیادت ،عہدیداروں اور 25ہزار کارکنوں کو حبس بے جا میں رکھا گیا،پی اے ٹی کی قیادت اور اسکے کارکنوں پر 200سے زائد مقدمات قائم کر کے مارشل لاءادوار کی یادوں کوتازہ کیا گیا ۔وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے اندر آرمی چیف پر بہتان لگا کر افسوس ناک تاریخ مرتب کی، جائزہ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت،صوبائی حکومتوں کو لاءاینڈ آرڈر میں بہتری لانے اور مہنگائی کنٹرول کرنے کے حوالے سے کوئی گائیڈ لائن دے سکی اور نہ ہی اپنا ایڈمنسٹریٹو کردار ادا کر سکی جو بیڈ گورننس کی بد ترین مثال ہے ،رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ دہشت گردی کی روک تھام سمیت مفاد عامہ کےلئے قانون سازی کرنے میں ناکام رہی ،حکومتی غفلت اور لاپروائی کے باعث 2014 میں 380دھماکے ہوئے جس میں 837 افراد شہید اور 2200سے زائد شدید زخمی ہوئے ،دہشت گردی کے خوفناک سانحات میں سانحہ پشاور اور واہگہ بارڈرکے واقعات بھی شامل ہیں ،2014 ملکی معیشت کےلئے زہر قاتل ثابت ہوا،حکومت نے ایک سال میں ملکی قرضہ 75ارب ڈالر کی ریکارڈ حد تک پہنچا دیا اور اندرونی بنکوں سے 10ہزار 9سو 7 ارب روپے کے قرضے لئے ،حکومت ایک طرف قرض پر قرض لے رہی ہے دوسری طرف ٹیکس نیٹ ،کرپشن اور نا اہلی کے باعث سکڑ رہا ہے ،پاکستان خطے کا واحد ملک ہے جہاں غربت میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے ،گذشتہ ایک سال میں لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کے باعث 62لاکھ شہری خط غربت کی لکیر سے نیچے گئے ،55 سے زائد کارپوریشنز میں میرٹ اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت تقرریاں کرنے کی بجائے حکومت نے سپریم کورٹ سے اپنی ہی رٹ پٹیشن کے فیصلے کے خلاف ایک نیا حکم نامہ حاصل کر لیا تا کہ وزیر اعظم پسندیدہ تقرریاں عمل میں لا سکیں ،وزیر اعظم یوتھ لون پروگرام کی سربراہ وزیراعظم کی بیٹی کو عدالتی حکم پر ہٹایا گیا ، پی آئی اے ،ریلوے میں بہتری کی بجائے مزید تباہی آئی ،ریلوے میں کرپشن اور بد انتظامی کو بے نقاب کرنے والے صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائی ہوئی حکومت صحافیوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ،ایک درجن سے زائد صحافی رواں سال شہید کر دئےے گئے ، پی آئی اے کے طیارے اور لاہورائر پورٹ حکومت کی بے جا مداخلت کے باعث لاری اڈے کا منظر پیش کرتا رہا ،پرائیوٹائزیشن کے نام پر اہم قومی اداروں کو 3ارب ڈالر کے ٹارگٹ کے عوض فروخت کرنے کے حوالے سے آئی ایم ایف کو تحریری یقین دہانی کروائی گئی ،اس کا ذکر آئی ایم ایف نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بھی کیا جن قومی اثاثوں کوبیچنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے ان میں بجلی کی 9تقسیم کار کمپنیاں،پی آئی اے ،نیویارک اور پیرس میں موجود دو سرکاری ہوٹل، متعدد قومی بنک شامل ہیں ،نجکاری کے خلاف پوری قوم سراپا احتجاج ہے مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ،قیمتی قومی اثاثوں کی فروخت سے قومی خزانے کو 5ارب ڈالر کے نقصان کا اندیشہ ہے،

مزید :

صفحہ آخر -