گیس بحران کیخلاف صارفین کے احتجاج میں تیزی بل نذر آتش ،پوش علاقوں میں بھی پریشر کم

گیس بحران کیخلاف صارفین کے احتجاج میں تیزی بل نذر آتش ،پوش علاقوں میں بھی ...

  

                        لاہور(خبر نگار) گیس بحران سنگین ہوتے ہی شہر کے مختلف علاقوں میں صارفین کے مظاہروں میں تیزی آ گئی ہے صارفین گزشتہ روز بھی گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر مظاہرے کرتے رہےہیں لاہور میں شاہ جمال روڈ کے مکینوں نے گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہر ہ کیا اور گیس کے بلوں کو نذر آتش کیا تفصیلات کے مطابق سوئی گیس حکام کے تمام تر دعوﺅں کے باوجود گیس بحران میں ذرا بھر بھی کمی نہیں آ سکی ہے اور دھند کے ساتھ سردی کی شدت بڑھنے پر گیس کی طلب میں بھی حیرت انگیز حد تک اضافہ ہو کر رہ گیا ہے جس کے باعث پوش علاقے بھی گیس بحران کی لپیٹ میں ا ٓگئے ہیں اور گیس بحران کے سنگین ہونے پر مظاہروں میں بھی تیزی آ گئی ہے لاہور سمیت پنجاب بھر میں گیس کی لوڈشیڈنگ کی شکایات نے گزشتہ روز بھی زور پکڑے رکھا ہے۔ لاہور میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے حلقہ شاہ جمال کے مکینوں نے گیس کی بندش کے خلاف احتجاج کیا ۔ ا س موقع پر مظاہرین نے کہا کہ ان کے علاقہ میں ڈیڑھ ماہ سے گیس کا پریشر 18سے 20گھنٹے ڈاﺅن رہتا ہے۔ گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں، مظاہرہ میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی، جس میں خواتین نے کہا کہ رات گیارہ بجے بعد گیس کا بحال ہوتا ہے اور رات بھر کھانے تیار کرنے میں گذر جاتی ہے جبکہ اس کے مقابل ہمیں گیس کے بل بھی دوگنا بھجوائے جا رہے ہیں اور گیس نہ ملنے پر 180روپے سے 200روپے میںفی کلو ایل پی جی خرید کر گذارہ کر رہے ہیں اس موقع پر خواتین نے گیس کے بلوں کو نذر آتش کیا اور مکینوں نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وزیر اعظم پاکستان سے گیس کی بندش کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا، دوسری جانب لاہور کی چالیس سے زائد گنجان آبادیوں میں گزشتہ روز بھی گیس کی لوڈشیڈنگ رہی ہے جس میں شالا مار انگوری باغ سکیم، باغبانپورہ ، مدینہ کالونی، غوثیہ کالونی ، غازی آباد کی آبادیاں عثمان نگر اور ریاض پورہ سمیت ہربنس پورہ، فتح گڑھ، رشید پورہ، الفیصل پارک ، مغلپورہ اور کوٹ خواجہ سعید جیسے علاقے بھی گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف سراپا احتجاج بنے رہے ہیں دوسری جانب گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث ایل پی جی اور لکڑیوں کا اسعتمال بڑھ گیا ہے لاہور کی تقریباً تمام تر گنجان آبادیوں میں ایل پی جی کی نئی دکانیں کھل گئی ہیں جبکہ لکڑیوں کی قیمتوں میں بھی تیزی آ گئی ہے جس پر صارفین سراپا احتجاج بنے رہے ہیں اور گیس حکام سے گیس کی جاری شدید قلت کو دور کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، اس حوالے سے گیس کمپنی کے جی ایم سید جواد نسیم کا کہنا ہے کہ گیس کی طلب کے مقابلہ میں رسد میں کمی کا سامنا ہے، صارفین گیس کا کم سے کم استعمال کریں تاکہ تمام صارفین تک گیس پریشر پہنچ سکے۔

گیس بحران

مزید :

صفحہ آخر -