2014 ،بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ نے 10 لاکھ مزدور بیروز گار کردئے 12 ہزار یومیہ اجرت نہ مل سکی

2014 ،بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ نے 10 لاکھ مزدور بیروز گار کردئے 12 ہزار یومیہ اجرت نہ ...

  

                       لاہور (لیاقت کھرل) سال2014ءمیں بھی حسب ِ سابق مزدوروں کا معاشی قتل عام جاری رہا، مزدوروں کے دن پھرنے اور حالات بدلنے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، کسی مزدور (محنت کش) کے گھر میں فاقہ کشی نے ڈیرے ڈالے رکھے اور کہیں بیماری گلے پڑی رہی،جبکہ اوقات کار آٹھ گھنٹے اور کم از کم اجرت سمیت لیبر پالیسی پر عمل درآمد کے لئے مزدور تنظیمیں سراپا احتجاج بنی رہیں۔بجلی اور گیس کیس لوڈشیڈنگ سے صنعتوں کی بندش سے10لاکھ سے زائد مزدور بیروزگار، جبکہ اداروں میں سیفٹی آلات کی سہولتوں کے فقدان کے باعث حادثات میں اضافہ ہوا۔ روزنامہ ”پاکستان“ کو محکمہ لیبر اور مزدوروں کی تنظیموں سے ملنے والی معلومات کے مطابق مزدوروں کے حقوق کے لئے کی جانے والی قانون سازی محض فائلوں کی نذر ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے باعث ہر اگلا آنے والا سال مزدوروں کے لئے بھاری ہوتا ہے، جس میں سال2014ءمیں بھی مزدوروں کا حسب سابق معاشی قتل عام جاری رہا ہے، جس کے باعث مزدوروں کی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے اور فاقہ کشی، تنگدستی سے مزدوروں کی زندگیاں دوچار رہی ہیں اور مزدور تنظیموں کے سال بھر احتجاج کے باوجود مزدور کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، جس میں لیبر پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث کارخانوں اور فیکٹریوں سمیت صنعتوں میں مقرر کردہ اوقات کار آٹھ گھنٹے کی بجائے 10سے 12گھنٹے مزدوری لی گئی ہے۔اِسی طرح مزدور کی کم سے کم اجرت(مینیمم ویجز) 12ہزار تو کر دی گئی، لیکن کارخانوں، فیکٹریوں سمیت اداروں میں مزدور کر سال بھر8سے9ہزار اجرت دی گئی، جبکہ فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے والی محنت کش خواتین سے اوقات کار سے زائد جبری مشقت کا سلسلہ جاری رہا ہے اور ہوم بیسس مزدوری کرنے والی خواتین کو بھی ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، جبکہ بجلی اور گیس کی بندش سے مزدور کا اور بھی معاشی قتل ہوا، جس میں صنعتوں،کارخانوں، فیکٹریوں اور سی این جی کی بندش سے 10لاکھ سے زائد مزدور مستقل طور پر بیروزگار ہوئے ہیں جس سے جہاں مہنگائی بڑھی وہاں بیروزگاری میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے خود کشی کے واقعات نے سال پھر زور پکڑے رکھا ہے، جبکہ واپڈا، سمیت مختلف اداروں اور کارخانوں میں سیفٹی آلات کی سہولتوں کی سال بھر کمی محسوس کی گئی،جس سے گزشتہ سال2013ءکی نسبت سال2014ءمیں حادثات کی شرح بڑھی ہے، جس کے باعث سال بھر مزدوروں پر خوف کے بادل چھائے رہے ہیں، اس کے ساتھ امن و امان کی ناقص صورت حال اور دہشت گردی کی جاری لہر بھی مزدوروں کے لئے بھاری رہی ہے جس میں بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے9 مزدوروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایاگیا ہے، جس سے مزدوروں میں خوف وہراس نے زور پکڑا ہے اور مزدور تنظیموں کے سال بھر احتجاج کے باوجود انہیں اُن کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے،جس میں امن و امان کی فراہمی تو ایک مسئلہ مزدور کے بنیادی حقوق، یعنی لیبر پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے سے سال 2014ءبھی مزدور کے لئے بے سود ثابت ہوا ہے۔ا س حوالے سے مزدور تنظیموں کے نمائندوں خورشید احمد خان، فاروق طارق،روبینہ جمیل، ناصر گلزار اور محمد یوسف بلوچ سمیت عذرا شاد کا کہنا ہے کہ حکومت مزدور کے لئے قانون سازی کے لئے محض اعلان کرتی ہے اور لیبر پالیسی پر کسی قسم کا کوئی عمل درآمد تک نہیںکیا جاتا ہے،جس کے باعث مزدور کا سال بھر معاشی قتل ِ عام جاری رہتا ہے۔ حکومت مزدور کی کم سے کم اجرت25ہزار روپے مقرر کرے اور کم سے کم اجرت سمیت اوقات کار پر عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ اس سے مزدور کو اس کا بنیادی حق مل سکے گا، جبکہ محکمہ لیبر لاہور کے سربراہ چودھری محمد نعیم کا کہنا ہے کہ کم سے کم اجرت اور اوقات کار کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کروایا جا رہا ہے۔ اس میں خلاف ورزی پر باقاعدہ ایکشن لیا جاتا ہے۔

 مزدور بیروزگار

مزید :

صفحہ آخر -