حکومت بھارتی دہشتگردی کو بے نقاب اسکے ساتھ تجارت اور مذاکرات بند کرے ،مذہبی ،سیاسی رہنما

حکومت بھارتی دہشتگردی کو بے نقاب اسکے ساتھ تجارت اور مذاکرات بند کرے ،مذہبی ...

  

                     لاہور (سٹاف رپورٹر) جمعیت علماءاسلام(س)ملی مجلس شرعی اور مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان سمیت ملک بھر کی دینی و سماجی اور سیاسی جماعتوںنے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ حکومت فوری طور پر ہر قسم کی تجارت اور مذاکرات کا سلسلہ بند کرے اور اس وقت تک مذاکرات نہ کئے جائیں جب وہ گھٹنے نہیں ٹیک دیتا، بھارت کبھی بھی پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں رہا نہ ہی اس نے آج تک پاکستان کوتسلیم کیا ہے ،بھارت بیرونی قوتوں کی شہ پر نارووال سیکٹر پر جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے فوجی جوانوں کو نشانہ عالمی جنگی رولز کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھارتی جارحیت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اس کی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرے۔اگر اس موقع پر خاموشی اختیار کی گئی تووہ اپنی ان مذموم حرکتوں سے باز نہیں آئے گا، ہندوستان ہمارا زلی دشمن ہے جس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع خالی نہیں جانے دیا ۔ چھ لاکھ سے زائد ہندو فوج کشمیر میں کالے قانون کے تحت مظالم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے اور امن کے علمبردار ممالک ، این جی اوز اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، جب تک بھارت پاکستان دشمنی ختم ، کشمیر پر بامقصد مذاکرات ، آبی جارحیت اور پاکستان میں تخریبی کاروائیاں ختم نہیں کرتا اس سے نہ تو کسی قسم کی تجارت سود مند ہوسکتی ہے اور نہ ہی دوستی کامیاب ، حکومت پاکستان ورکنگ باﺅنڈری پر روایتی اور رسمی احتجاج کا سلسلہ بند کرکے بھارتی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے ملک بدر کرنے کی وارننگ دے اور عالمی سطح پر ہندوستان کا اصل چہرہ پیش کیا جائے ،جماعت اہلحدیث پنجاب کے امیر حافظ عبدالوحید شاہد روپڑی نے کہا کہ انڈیا نے ہمیشہ منہ میں رام رام اور بغل میں چھری کی پالیسی کو اختیار کیاہے ۔جمعیت علماءاسلام (س) کی طرف سے ماڈل ٹاو¿ن میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے نائب امیر مولانا عبدالرب امجدنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت بیرونی قوتوں کی شہ پر کنٹرول لائن پر بار بار جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے نہتے شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت کا سختی سے نوٹس لے اور اس کی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرے۔اگر اس موقع پر خاموشی اختیار کی گئی تووہ اپنی ان مذموم حرکتوں سے باز نہیں آئے گا، اس موقع پر پیر یوسف بخاری،مولانا ایوب ندیم،مولانا عبدروف ربانی، قاری واحد بخش مولانا عبدالرحمن اویسی اور مفتی خالد اظہر نے بھی خطاب کیا۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سیکرٹری جنرل و رکن قومی اسمبلی حافظ عبدالکریم نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں تیزی نے بھارت کو سخت پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔امریکہ کے خطہ سے نکلنے کے بعد بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ بھارت منظم سازشوں ومنصوبہ بندی کے تحت سرحدوں پر جنگ کا ماحول پیدا کر رہا ہے اور نہتے شہریوں کو نشانہ بناکردہشت گردی کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کواس مسئلہ پر کسی صورت خاموشی اختیارنہیں کرنی چاہیے۔مظلوم کشمیریوں کی مدد پوری مسلم امہ پر فرض ہے۔ جماعت اہلسنت پاکستان کے مفتئی ظفر جبار چشتی نے کہا کہ بھارت نے پچھلے بارہ برسوں میں اس خطہ میں امریکہ کی موجودگی سے بہت فائدے اٹھائے ہیں۔ کشمیر میں بھارت سرکار کی ریاستی دہشت گردی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ مسئلہ کشمیر صرف کشمیریوں کا ہی نہیں پاکستان کے لئے بھی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستانی قوم مظلوم کشمیریوں کو کسی صورت اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس خطہ میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔وہ چاہتا ہے کہ ہمارے دریاﺅں سے بجلی پیدا کر کے اپنی فیکٹریوں میں سستی اشیاءتیار کرے اور پاکستان کو بھارتی منڈی بنا دیا جائے۔ یہ سب کچھ بھارت امریکی شہ پر کر رہا ہے لیکن افغانستان میں شکست کے بعد امریکہ بھارت کی پشت پناہی کے قابل نہیں رہا۔اب ان شاءاللہ ان کی سازشیں زیادہ دیر تک کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔ مرکزی جماعت اہلسنت پاکستان کے ناظم اعلیٰ پیرسید عرفان مشہدی قاضی عبدالغفار قادری سمیت دیگر نے کہا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر‘ کنٹرول لائن پر جارحیت اور دیگر امور پر بھارت و امریکہ کے کسی دباﺅ میں نہیں آنا چاہئے۔انڈیا آٹھ لاکھ فوج کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے تو دوسری طرف حریت قائدین کو مسلسل پابند سلاسل رکھا جارہا ہے ۔جے یو پی نورانی کے سیکرٹری جنرل ورکن پنجاب اسمبلی سید محفوظ مشہدی اور سردار محمدخان لغاری سمیت دیگر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ورکنگ باﺅنڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ اور اس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیاہے ۔ جماعت اسلامی کے رہنماﺅں نے کہاکہ بھارت مسلسل کئی روز سے سرحدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہاہے اوربھارت کے ساتھ تجارت اور دوستی کا دم بھرنے والوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے ، ہندوستان ہمارا زلی دشمن ہے جس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع خالی نہیں جانے دیا ۔ چھ لاکھ سے زائد ہندو فوج کشمیر میں کالے قانون کے تحت مظالم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے اور امن کے علمبردار ممالک ، این جی اوز اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، جب تک بھارت پاکستان دشمنی ختم ، کشمیر پر بامقصد مذاکرات ، آبی جارحیت اور پاکستان میں تخریبی کاروائیاں ختم نہیں کرتا اس سے نہ تو کسی قسم کی تجارت سود مند ہوسکتی ہے اور نہ ہی دوستی کامیاب ہو سکتی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -