مصر کی عدالت نے ’یہود ‘میلے پر پابندی عائد کردی

مصر کی عدالت نے ’یہود ‘میلے پر پابندی عائد کردی
مصر کی عدالت نے ’یہود ‘میلے پر پابندی عائد کردی

  

قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) مصر کی ایک عدالت نے کئی عشروں سے جاری یہود کے ایک میلے پر مستقل طور پر پابندی عائد کردی ہے اور حکومت کو حکم دیاہے کہ اس میلے کی جگہ کا نام سرکاری مقابر ومزارات کی فہرست سے خارج کیاجائے ۔

عرب میڈیا کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ گذشتہ سال یہودی ربی یعقوب ابو حصیرہ کے مزار پر تین روزہ میلے کے دوران غیر اخلاقی سرگرمیوں کے تناظرمیں پابندی عائد کی ہے تاہم عدالتی فیصلے میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کی وضاحت نہیں کی ہے۔

 عدالت کے فیصلے کے بعد اس میلے پر مستقل پابندی لگا دی گئی ہے البتہ اگر کوئی اعلیٰ عدالت یہود کی اپیل پر اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیتی ہے تو پھر اس کا انعقاد ممکن ہو سکے گا۔

عدالت نے حکومت کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ 2001ءمیں نیل ڈیلٹا کے علاقے بحیرہ میں واقع یہودی ربی کے مزار کو سیاحتی مقام قرار دینے کے فیصلے کو بھی واپس لے اور اس کا نام تسلیم شدہ مزارات کی فہرست سے خارج کرے۔علاقے کے مکینوں نے ماضی میں میلے کے دوران امن وامان کی صورت حال خراب ہونے کی شکایت کی تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -