پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا قومی اسمبلی سے واک آﺅٹ، حکومت فوری طور پر فیصلہ واپس لے: خورشید شاہ

پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا قومی اسمبلی سے ...
پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا قومی اسمبلی سے واک آﺅٹ، حکومت فوری طور پر فیصلہ واپس لے: خورشید شاہ
کیپشن: khurshid shah

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں 5 فیصد اضافہ غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس میں 5 فیصد اضافے کے خلاف قومی اسمبلی سے واک آﺅٹ کیا۔ ایم کیو ایم کے اراکین نے جی ایس ٹی نامنظور کے نعرے لگائے جبکہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس میں اضافہ غیر آئینی ہے جس کی حمایت نہیں کی جا سکتی اور پارلیمینٹ بھی حکومت کے غیر آئینی اقدامات کا تحفظ نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات پرسیلز ٹیکس میں پانچ 5 اضافہ قبول نہیں کریں گے، حکومت فوراً اپنا فیصلہ واپس لے، بے شک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دیں مگر اضافی جی ایس ٹی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو اوگرا کو آگے کر دیا جاتا ہے لیکن جب تیل کی قیمت کم ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے قوم کیلئے تحفہ ہے، یہ عجیب تحفہ ہے کہ حکومت 4 روپے تیل کی قیمت کم کر کے 5 روپے سیلز ٹیکس لے رہی ہے۔ ہمارے دور میں سیلز ٹیکس کو جگا ٹیکس کہنے والے اب کہاں ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سیلز ٹیکس کی مد میں پیٹرولیم مصنوعات پر عوام سے 110 روپے وصول کر رہی ہے لیکن عوام کے مسئلے پر آج کوئی ایوان میں آنے کو بھی تیار نہیں ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماءرشید گوڈیل کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی نااہلی کا بدلہ غریب عوام سے رہے ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس میں اضافے غیر آئینی ہے اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔

مزید :

قومی -Headlines -