آئینی ترمیم کی بجائے موجودہ فوجی عدالتوں کے اختیار سماعت میں اضافہ کیا جائے: اعتزاز احسن

آئینی ترمیم کی بجائے موجودہ فوجی عدالتوں کے اختیار سماعت میں اضافہ کیا جائے: ...
آئینی ترمیم کی بجائے موجودہ فوجی عدالتوں کے اختیار سماعت میں اضافہ کیا جائے: اعتزاز احسن

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء اور سینئر قانون دان سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ حکومت فوجی عدالتوں کے قیام کیلئے آئین میں ترمیم کرنا چاہتی ہے جبکہ وکلاء کی اکثریت کا خیال ہے کہ صرف آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے پہلے سے کام کرنے والی فوجی عدالتوں کے اختیار سماعت میں اضافہ کر دیا جائے تاکہ وہ دہشتگردی کے مقدمات بھی سن سکیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کی مشروط حمایت سامنے آٗی تھی جس کے بعد قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کا کام ان عدالتوں کو قائم کرنے کا آئینی جواز ڈھونڈنا تھا مگر اس کمیٹی میں تاحال کوئی ا تفاق رائے نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے اکثر ارکان کو حکومت کی طرف سے پیش کر دہ مجوزہ آئینی ترمیم کے مسودے پر اعتراض تھا کیونکہ اس میں فوجی عدالتوں کو حد سے زیادہ اختیارات دیئے گئے تھے مگر کمیٹی میں یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ آئین میں ترمیم کی ضرورت نہیں ، آرٹیکل 245 جو فوج کے فرائض سے متعلق ہے , اس میں ترمیم کر کے فوجیوں سے تحقیقات کرنے واکی عدالتوں کے اختیارات میں اضافہ کر دیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے مقابلے کیلئے خصوصی عدالتیں تو وقت کی ضرورت ہیں مگر ہمیں ان کے اختیار سماعت میں کم سے کم اضافہ کرنا ہے کیونکہ آئین میں باقاعدہ ترمیم کرنا ایسا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی۔

شہدائے پشاور کا پیغام ہے کہ ہمارے بعد اندھیرا نہیں، اجالا ہونا چاہئے: سراج الحق

سینئر وکیل رہنماء کا کہنا تھا کہ اگر صرف آرمی ایکٹ میں ترمیم کی جائے تو انسانی حقوق کی بات کرنے والے بھی مطمئن رہیں گے کیونکہ وکلاء کا یہ مشترکہ خیال ہے کہ آئین میں ایسی کوئی ترمیم نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس معاملے پرکمیٹی کے ارکان کی تجویز سے تاحال اتفاق نہیں کیا مگر مجھے امید ہے کہ جلد اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جائے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -