الیکشن ٹربیونلز کے عبوری احکامات کو آئینی عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا:سپریم کورٹ

الیکشن ٹربیونلز کے عبوری احکامات کو آئینی عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا ...
الیکشن ٹربیونلز کے عبوری احکامات کو آئینی عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا:سپریم کورٹ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن)کے تین اراکین اسمبلی کی الیکشن ٹربیونل کے مختلف عبوری فیصلوں کے خلاف دائر درخواستیں خارج کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ عدالت عظمی کے حالیہ فیصلے کے بعدالیکشن ٹربیونل کے کسی عبوری حکم کو کسی آئینی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹرجسٹس اعجازاحمد چودھری پر مشتمل بنچ نے مسلم لیگ (ن)کے ایم این اے ملک ریاض ،ایم پی اے محسن لطیف اور سیف الملوک کھوکھرکی الیکشن ٹربیونل کے مختلف عبوری فیصلوں کے خلاف دائردرخواستوں پر سماعت کی،مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے اراکین اسمبلی کے وکلاءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کے عبوری فیصلوں کے متعلق ایک حالیہ تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس کے بعد الیکشن ٹربیونل کے کسی بھی عبوری حکم کو کسی ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا،اس فیصلے کے بعد تینوں اراکین اسمبلی کی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں،اراکین اسمبلی نے الیکشن ٹربیونلز کی طرف سے انتخابی عذرداریوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی،انکوائری کمیشن کے قیام سمیت دیگر فیصلوں کو سپریم کور ٹ میں چیلنج کیا تھا.

مزید :

لاہور -