اس ملک میں احتساب کا کوئی نظام نہیں ہے :لاہور ہائی کورٹ

اس ملک میں احتساب کا کوئی نظام نہیں ہے :لاہور ہائی کورٹ
اس ملک میں احتساب کا کوئی نظام نہیں ہے :لاہور ہائی کورٹ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے انارکلی آتشزدگی کی تحقیقات کے لئے کمیشن قائم کرنے اور مجرمانہ غفلت برتنے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لئے دائر درخواست میں پنجاب حکومت ،ایل ڈی اے اور ڈی سی او لاہور کونوٹس جاری کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ اس ملک میں احتساب کا کوئی نظام ہی نہیں ہے۔
مسٹر جسٹس شاہدکریم نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی طرف سے دائر اس درخواست کی سماعت کے دوران مزید ریمارکس دیئے کہ ملک میں سانحہ پشاور جیسا افسوسناک واقعہ ہوگیا مگر کسی کوذمہ دار نہیں ٹھہرایاگیا اور نہ ہی کسی کا احتساب ہوسکا،ایسی صورتحال میں انارکلی آتشزدگی جیسے واقعات کا کیا بنے گا، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انارکلی آتشزدگی کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شہرمیں عمارتوں کی تعمیرات کے دوران بلڈنگ بائی لاز پر عمل درآمدنہیں ہورہا ،حکومتی اداروں کی غفلت کی وجہ سے ایسے سانحات میں قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں،انھوں نے مزیدموقف اختیار کیا کہ شہر میں بننے والے پلازوں اور عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات نہ ہونے کے باوجود ضلعی انتظامیہ انکے نقشے منظور کر دیتی ہے ۔
درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے مزید کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر قائم فائر سیفٹی کمیشن کی سفارشات کے باوجود ضلعی انتظامیہ اور پنجاب حکومت نے شہر میں قائم پلازوں میں حادثات کے بچاﺅ اور امدادی کارروائیوں کے مناسب انتظامات نہیں کئے ہیں،انھوں نے استدعا کی کہ انارکلی آتشزدگی کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کیا جائے اور ذمہ داروں کیخلاف مجرمانہ غفلت کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا جائے۔
فاضل جج نے مدعاعلیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت عالیہ کے رجسٹرار آفس کو ہدایت کی ہے کہ اس نوعیت کے تمام مقدمات یکجاکرکے مزید سماعت کے لئے مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کی عدالت میں پیش کئے جائیں۔

مزید :

لاہور -