مردان کے آنسو

مردان کے آنسو
 مردان کے آنسو

  

میرا اٹیچی کیس ان کے سرپر اور بیگ کندھے پر تھا، میں نے کہا کہ ان میں سے ایک چیز مجھے دے دیں۔’’نہیں ، بھائی جان‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے انکار کردیا۔ میرا اصرار کسی کام نہ آیا ۔ یہ مردان میں تعینات ایک فوجی افسرتھے، ایسے افسر جن کے پاس نہ تو اپنی گاڑی تھی اور نہ وہ اپنے ادارے سے گاڑی لینا چاہتے تھے، اسی وجہ سے وہ پیدل ہی مجھے گھر سے بس سٹینڈ پہنچانے چلے تھے۔ میں ان کے ہاں تین چاردن رہا، اس سے چند ہفتے پہلے وہ میری شادی پر آئے تھے اور بعد میں مجھ سے ملنے ایک مرتبہ دبئی بھی آئے۔ میں بھی ان کی شادی پر گیا تھا، باہمی احترام ایسا جس کی کوئی مثال نہیں، پیار ایسا جس کا کوئی متبادل نہیں۔ ان کے ساتھ میرا کوئی خونی رشتہ نہیں ہے، مگر جو رشتہ ہے وہ خونی رشتے سے بڑھ کر ہے، وہ پشتو بولتے ہیں اور میں پنجابی، خود ہی سوچ لیں کہ یہ رشتہ کیسا خوبصورت ہوگا جو چالیس سال سے جاری ہے، جب میں اور وہ لڑکے تھے۔

مردان کے ساتھ میرا صرف یہی ایک رشتہ نہیں، اب وہ مردان میں نہیں ہوتے، ملازمت کے سلسلے میں کہیں اور منتقل ہوچکے ہیں ، ان کی غیرموجودگی کے باوجود میں مردان جاتارہتا ہوں، تین چار ماہ پہلے بھی گیا تھا، اس لئے جاتا ہوں کہ وہاں میرے بہت سے رشتے ہیں، غیرخونی رشتے بھی رشتے ہی ہوتے ہیں، بشرطیکہ انہیں سلیقے سے نبھایا جائے، نہ نبھائیں تو پھر خونی رشتے بھی رشتے نہیں رہتے ۔ لاہور کے باہر مردان ہی میری پہلی منزل ہوتا ہے، جب لاہور کے معمولات سے اکتاہٹ محسوس ہو اور تازہ دم ہونے کو دل چاہے تو مردان ہی جاتا ہوں، وہاں موجود میرے دوست میرا دامن محبت کے پھولوں سے بھردیتے ہیں اور میں تازہ دم ہوکر ان کی مہک لئے واپس آتا ہوں۔

مردان سے تعلق رکھنے والوں میں سے میرے ایک دوست وحید گل بھی تھے، وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں ،مگر میرے دل میں ہیں، ایسا نفیس دوست شاید ہی کبھی کسی کو نصیب ہوتا ہو ،یہ تعلق اب وحید گل کے بیٹے میرے ساتھ نبھا رہے ہیں، اگرچہ باپ باپ اور بیٹا بیٹا ہوتا ہے مگر وہ کوئی کمی نہیں چھوڑتے۔میں نے وحید گل کا تذکرہ اس لئے نام لے کر کیا ہے کہ ان کے ذکر کے بغیر میرے لئے مردان مکمل نہیں ہوتا۔ وحید گل شاعر بھی تھے، میں ان کے ایک پشتو شعر کا ترجمہ پیش کررہا ہوں ۔۔۔ ’’میں راہ چلتے گرا تو دوست جو توں سمیت میرے اوپر سے گزرگئے حالانکہ میں گرا نہیں تھا ،بلکہ دوستوں کے نزدیک اپنا تقدس آزما رہا تھا ‘‘۔

وحید گل کا نام لیا ہے تو پھر رحمن ساحر، شیرین خان اور عابد مختار کے نام لینا بھی ضروری ہوگیا ہے۔ مذکورہ فوجی افسر اور ان کے بزرگوں کا گھر مردان میں میرااپنا گھر رہا ہے، میں جاتا تو ان کے ہاں تھا مگر مردان میں میرے دوست اتنے رہے ہیں کہ اس گھر پر رہنے کی بجائے سارا دن دوستوں کے ساتھ گزارتا ۔

مردان اب بہت بدل چکا ہے، بہت ترقی کرچکا ہے، مجھے اس قصبے کی پرانی آبادیاں اور ان کی گلیاں ابھی تک یاد ہیں، اب یہ قصبہ ایک بڑا شہر بن چکا ہے، اب تو وہاں اکیلا گھوموں تو شاید کھو جاؤں۔ پرانی سبزی منڈی کی جگہ سے ہٹ کر نئی سبزی منڈی، بسوں کے پرانے اڈوں کی جگہوں سے ہٹ کر نئے اڈے ، تانگوں کی جگہ رکشا، روایتی آبادیوں کی جگہ نئی کالونیاں ، شہر کی وسعت ایسی بنی ہے کہ سمیٹے نہیں سمٹتی ۔ یہاں کے بازاروں میں پہلے بھی خاصا رش ہوتا تھا، اب بھی ہوتا ہے، خواتین پہلے بھی باپردہ ہوتی تھیں، اب بھی ہیں، مردان میرے دیکھتے ہی دیکھتے بڑا ہوا ہے جو ستر کی دہائی میں بچے تھے ،وہ اب خود اپنے بچوں کے والد کہلاتے ہیں اور ان میں سے بعض بزرگی کے دائرے میں داخل ہوگئے ۔ ’’سپن گرے ‘‘ یعنی سفید داڑھی والے ۔چند ماہ پہلے جب مردان گیا تھا تو دہشت گردی کی لہروں میں لوگوں کے حوصلے بلند پائے، پولیس والے بھی چاق وچوبند دیکھے، حتیٰ کہ وہاں ٹریفک پولیس والے بھی ڈیوٹی کے دوران کلاشنکوف سمیت کھڑے ہوتے ہیں تاکہ کسی بھی دہشت گرد کا خاتمہ کیا جاسکے۔

دہشت گرد مقابلے پر نہیں آتا، نہتے انسانوں کو نشانہ بناتا ہے، یہ دلیری نہیں، بزدلی ہے اور دہشت گرد بزدل ہی ہوتا ہے، ہتھیار کا سامنا نہیں کرسکتا۔ چند دن پہلے مردان میں خودکش حملہ آور نے نہتے شہریوں پر حملہ کیا جو شناختی کارڈ بنوانے کے لئے نادرا کے دفتر کے باہر قطار میں کھڑے تھے۔ مردان پاکستان کا بہادر بیٹا ہے اور نادرا کے دفتر میں دہشت گرد کا سامنا کرنے والا گارڈ پرویز بھی ، اس نے اپنا فرض نبھایا اور دہشت گرد کو دفتر میں داخل نہیں ہونے دیا۔ اس پر دہشت گرد نے دفتر کے باہر ہی خودکش دھماکہ کردیا اور چھبیس معصوموں کی زندگیوں کے چراغ گل کردیئے۔ اس سانحہ پر مردان آبدیدہ ہے، لاہور میں بھی ایک افسردگی رہی۔ پنجاب کی طرف سے مردان کے آنسو پونچھنے کے لئے رومال پیش ہے اور اگر آنسو نہ رکیں تو پنجاب کا کندھا حاضر ہے۔

مزید :

کالم -