پاکستان میں ہلہ گلہ ، شور شرابے اورآتش بازی کیساتھ نئے سال کو خوش آمد ید کہنے کا رواج، دنیا کے کس ملک میں کیا چیز کھانے کو ترجیح دی جاتی ہے؟ حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستان میں ہلہ گلہ ، شور شرابے اورآتش بازی کیساتھ نئے سال کو خوش آمد ید کہنے ...
پاکستان میں ہلہ گلہ ، شور شرابے اورآتش بازی کیساتھ نئے سال کو خوش آمد ید کہنے کا رواج، دنیا کے کس ملک میں کیا چیز کھانے کو ترجیح دی جاتی ہے؟ حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آ ن لائن )پاکستان سمیت دنیا بھر میں سال نو کا جشن انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے ، لوگ آتشزبازی ، سیر و تفریح اور دوست احباب کے ساتھ ہلہ گلہ کر کے نئے سال کو خو ش آمدید کہتے ہیں ۔ 

ڈان نیوز کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں سال نو کو نت نئے انداز سے خوش آمدیدکہا جاتا ہے ،کہیں لوگ اپنے گھروں پر چراغاں کرتے ہیں تو کہیں حکومتوں کی طرف سے مخصوص مقامات پر نئے سال کو خوش آمدید کہنے کیلئے آتشبازی کا اہتمام کیا جاتا ہے تاہم دنیا کے بہت سے ایسے ممالک بھی ہیں جہاں کے لوگ سال کی شروعات کچھ خاص اشیاءکھا کر کرتے ہیں ۔بعض ممالک میں سال کا آغاز دال کھا کر کیا جاتا ہے، تو کہیں اس موقع پر انار کو ترجیح دی جاتی ہےاور ایسے ہی کئی ممالک کی اپنی اپنی روایات اور رسومات ہیں جنہیں سالوں سے اہمیت دی جارہی ہے۔

بیلاروس میں لوگ نئے سال کو خوش آمدید کہنے کیلئے مکئی کھاتے ہیں اور یہ تصور کرتے ہیں کہ مکئی کھا کر سال کا آغاز کرنے سے مصائب دور رہتے ہیں ۔ 

ایران میں لوگوں نے فالودہ کھا کر سال 2017ءکو خوش آمدید کہا ، ایرانی شہری ہر سال نئے سال کا آغاز اپنے گھروں اور ہوٹلز میںجا کر فالودہ کھاکر کرتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی فالودہ شوق سے کھایا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں اسے سال کے آغاز کیلئے مخصوص نہیں سمجھا جاتا ۔

اسی طرح ارجنٹائن کے لوگ نئے سال پر لوبیا پکا کر کھاتے ہیں اور اسے نیک شگون تصور کرتے ہیں ۔

آئر لینڈ میں لوگوں نے 2016ءکو بٹر بریڈ کھا کر خیر آباد اور نئے سال کو خوش آمدید کیا ۔

جاپانی شہری ہر نئے سال کو خوش آمدید کہنے کیلئے نوڈلز کھاتے ہیں ، نوڈلز کو جاپان میں ویسے بھی بہت پسند کیاجاتا ہے مگر سال نو پر گھروں اور تفریخی مقامات پر نوڈلز کےساتھ اہل خانہ کی تواضع کی جاتی ہے ۔ 

جرمنی کے رہائشی ہر سال ڈونٹ کھا کر سال کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

جبکہ سپین میں انگور کھانے کی روایت ہے ۔ لوگ انگور سے بنے جوس پیتے ہیں اور کیک بنائے جاتے ہیں جنہیں سال نو پر کھا کر روایت کو زندہ رکھا جا رہا ہے۔۔ پولینڈکے لوگوں کا سال کو خوش آمدید کہنے کا کھانا انتہائی دلچسپ اور حیران کن ہے ، پولینڈ والے اچار کھا کر نئے سال کا آغاز کر تے ہیں۔

جبکہ پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت میں مسور کی دال اور چاول کھانے کی روایت ہے۔

ہ ترکی میں انار کھائے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارکبادیں دی جاتی ہیں ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس