جنوبی پنجاب اور بہاولپور کا علیحدہ تشخص ؟

جنوبی پنجاب اور بہاولپور کا علیحدہ تشخص ؟
 جنوبی پنجاب اور بہاولپور کا علیحدہ تشخص ؟

  

جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ کے تحریک انصاف کے 4دسمبرکے جلسے میں وائس چیئرمین پاکستان تحریک انصاف شاہ محمود قریشی نے کاشتکاروں کے مسائل کے علاوہ جنوبی پنجاب کے عوام کے الگ تشخص کے حوالے سے بھی بات کی، جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے 15 دسمبر کے قلعہ کہنہ قاسم باغ کے جلسے میں بھی جنوبی پنجاب صوبے کی آواز اُٹھائی۔ جنوبی پنجاب میں الگ صوبائی خود مختاری پربحث عرصے سے طول پکڑ رہی ہے، جبکہ اس حوالے سے معروف صحافی ضیا شاہد نے بھی علیحدہ تشخص پر اُٹھنے والی آوازوں کو تحریری حوالے سے پذیرائی بخشی۔ اسی طرح دانشور و صحافی مجیب الرحمان شامی بھی اپنے تبصروں میں گاہے بگاہے جنوبی پنجاب کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ بہاولپور صوبے کی بحالی کے لئے تحریک چلانے والے رہنمابھی اپنے مقدمے کو مضبوط سمجھتے ہیں۔ خدایار چنڑ کے علاوہ جو بہاولپور صوبہ بحالی کی تحریک کے روح رواں ہیں، سابق سینیٹر محمد علی درانی ،نواب صلاح الدین عباسی ،سابق ایم این اے فاروق اعظم ،نواب زادی سائرہ عباسی کا موقف بھی واضح ہے کہ اگر بہاولپور کے عوام کو اس کے حق سے محروم کیا گیا تو یہ بہاولپور کے الگ تشخص کی جہاں نفی ہو گی وہاںیہ بات بھی واضح ہے کہ اس خطے کے عوام میں احساس محرومی مزید تقویت پکڑے گا ۔پاکستان تو دو قومی نظریہ کے تحت وجود میں آیا لیکن اسے سول بیوروکریسی ، فیوڈل لارڈز اور سرمایہ داروں کے اشتراک سے نظریہ ضرورت کے تحت چلایا گیا۔

ون یونٹ کا تجربہ ناکام ہوا تو پنجاب ،سندھ ،سرحد بشمول بلوچستان جن کی صوبائی حیثیت میں تھی صوبے بنا دیئے گئے، لیکن اس معاملے پر سب سے زیادہ استحقاق رکھنے والے بہاولپور کو اس کے عوام کی خواہش کے برعکس پنجاب میں ضم کر دیا گیا۔ سقوط ڈھاکہ جیسے المیہ کے بعد بھی سازشوں نے جیسے دم نہیں توڑاوطن عزیزکے خلاف سازشو ں کا یہ سلسلہ جاری رہا پنجاب کو پاکستان کی60فیصد آبادی کا صوبہ بنا دیا گیا،جبکہ پنجاب کی اتنی بڑی آبادی تینوں صوبوں کے لئے قابل قبول نہیں تھی اس وقت جتنی آبادی پنجاب کی ہے۔ کرہ ارض پر کئی ایسے ممالک موجود ہیں، جن کی آبادی پنجاب سے بھی کم ہے مرکز کی ہر سیاسی حکومت کو جب بھی پنجاب کے حکمرانوں نے چاہا ناکام بنا دیا جو 1985ء سے اب تک پنجاب کے حکمرانوں کے سیاسی کردار سے ظاہر ہے بہاول پور کو پنجاب میں شامل کرنے پر بہاولپور کے عوام سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئے احتجاجی جلسے اور جلوس روزانہ کا معمول بن گئے، بالآخر ایک دن حکمرانوں کے حکم پر پرامن جلوس پر گولی چلوا کر دو معصوم ورکرز کو شہید اوردرجنوں کو زخمی کر دیاگیا اور 100سے زیادہ لیڈروں اور ورکرز کو پس دیوار زنداں دھکیلا گیا نہ تو اس معاہدے کا لحاظ رکھا گیا جو قائد اعظم اور نواب آف بہاولپور کے مابین ہوا نہ گورنمنٹ آف پاکستان کے 3اپریل 1951ء کے حکم کا احترام کیا گیا، جس کے تحت بہاولپور کو صوبائی حیثیت ملی تھی اور نہ ہی ون یونٹ میں شمولیت پر جو معاہدہ ہوا تھا اس کا احترام کیا گیا، بہاولپور صوبہ ون یونٹ میں شامل ہوا تھا، نہ کہ پنجاب میں اس لئے یہ تحریک چلانے والے لوگ حق بجانب تھے اور ان کا موقف سچائی پر مبنی تھا، 1970ء کے نتائج ریفرنڈم ثابت ہوئے، جس میں بہاولپور کے عوام نے 85فیصد ووٹ بہاولپور صوبہ بحالی کے امید واروں کے حق میں دیئے۔ 1973ء کے آئین پر احتجاجاًدو ایم این ایز میاں نظام الدین حیدر اور مخدوم نور محمد ہاشمی نے دستخط نہ کئے کاش بہاولپور صوبہ بحالی کی بنیاد پر منتخب ہونے والے قومی اور صوبائی ارکان اسمبلی صوبہ بحال نہ ہونے پر مستعفی ہو کر عوام کی صفوں میں واپس آجاتے تو کوئی مائی کا لال بہاولپور صوبہ بحال نہ کرنے کی جرأت بھی نہ کر سکتا تھا ۔

تقریباًنصف صدی سے بہاولپور کے عوام کا استحصال جاری ہے، حالانکہ اس طویل عرصہ میں پانچ نئے ڈویژن اور 18اضلاع بنائے گئے بہاولپور کا ہر ضلع 185کلو میٹر لمبا ہے ون یونٹ سے پہلے تین اضلاع تھے، آج بھی تین ہی ہیں، جبکہ صوبہ بحالی کے بعدہر نئے ضلع میں ڈسٹرکٹ ہسپتال،لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے ڈگری کالج، ڈسٹرکٹ پولیس لائن اورضلع کے صوبائی اور مرکزی دفاتر کے قیام سے 6شہروں کا نئے ضلعی ہیڈ کوارٹر بننے سے انڈسٹری قائم ہوتی ،ہر ضلع کو سو میل لمبی رابطہ سڑکیں ،ہر گاؤں میں بجلی کی فراہمی، زرعی آلات اور ٹیوب ویلوں پر سبسڈی کے علاوہ دوسری مراعات بھی ملتیں،اگر تین کے بجائے نو اضلاع قائم ہو جاتے تو کتنی ترقی ہوتی، لیکن سازش کے تحت ترقی معکوس ہو ئی ظلم تو یہ ہے کہ بہاولپور کو ترقی یافتہ ظاہر کرکے میڈیکل کالج، یونیورسٹی،انجینئرنگ کالج قیام تو عمل میں لایا گیا، لیکن بہاولپور کے نوجوانوں کا کوٹہ ختم کرکے ان کا مستقبل تاریک کردیا گیا بہاولپور صوبہ کی بحالی اس امر کے پیش نظر بھی ضروری ہے کہ بہاولپور کا بجٹ پنجاب کی آبادی کے لحاظ سے 13فیصدہے، لیکن ان گزرے سالوں میں اوسطاً حصہ اڑھائی فیصد ملا ہے ایسے لگتا ہے کہ بجٹ بہاولپور کے عوام کو محض مستحقین زکوٰۃ سمجھ کرہی دیا جارہا ہے، جہاں تک نوکریوں کا تعلق ہے 13فیصدکے بجائے 1فیصدسے بھی کم دی جا رہی ہیں حیرت ہے کہ آج کے جدید دور میں بہاولپور شہر کی واٹر سپلائی صرف 15فیصد عوام کے لئے میسر ہے بہاولپور کے 51فیصدعوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ باقی ملک میں یہ شرح 26فیصد سے 29فیصدہے۔

پنجاب کا لٹریسی ریٹ 52 فیصدجبکہ بہاولپور کا 34فیصدہے، پانچ سالہ بچوں کی شرح اموات پنجاب بھر کی نسبت بہاولپور میں سب سے زیادہ ہے بہاولپور کی املاک کی لوٹ سیل کا معاملہ سینٹ کی فنکشنل کمیٹی میں پیش ہو چکا ہے، اگر اٹھارویں ترمیم کے ذریعے تیسری بار وزیر اعظم بننے کے خلاف شرط ختم کی جاسکتی ہے، عدالتی فیصلہ کے تحت نااہل ہونے والے شخص کی پارٹی صدارت کی اہلیت کے لئے ترامیم لائی جاسکتی ہیں۔انتظامی بنیادوں پر گلگت بلتستان کو صوبائی خود مختاری دی جاسکتی ہے تو پاکستان کی 60 فیصدآبادی سے بہاولپور صوبہ بحالی اور جنوبی پنجاب کو الگ شناخت دینے میں کیا قباحت ہے، جبکہ بہاولپور صوبہ تو ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت بحال کیا جا سکتا ہے، یعنی جس ایل ایف او کے تحت بہاولپور کی صوبائی خود مختاری کو ختم کیا گیا تھا اس ایل ایف کے خاتمے سے صوبہ بہاولپور بحال ہوسکتا ہے، استحصال جو بہاولپور کے خطہ کے ساتھ ہورہا ہے، وہی جنوبی پنجاب کے دیگر عوام کے ساتھ روا رکھا گیا، جنوبی پنجاب کے الگ تشخص کی بھی یہی کہانی ہے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے علیحدہ تشخص کی بحالی پر ووٹ لینے کا سلسلہ تو جاری رکھا ہوا ہے، لیکن عملاًیہ دونوں پارٹیاں منافقانہ چال چل رہی ہیں، جس کا ایک پس منظر یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی 2012ء میں بہاولپور آمد سے ایک روز قبل ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کے اجلاس میں وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جنرل کونسل کے اجلاس میں متفقہ قرارداد پاس ہوئی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بہاولپور کی صوبائی حیثیت بحال کی جائے۔

وزیراعظم کی آمد پر بہاولپور نیشنل عوامی پارٹی نے بھی احتجاجی جلوس نکالا اور سیاہ جھنڈیوں سے وزیر اعظم کا استقبال کیا قراردادیں،مذمتی بیانات،احتجاجی جلوس کا وزیراعظم کی آمد سے قبل مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے صوبہ کے مخالفانہ بیانات پر غور کریں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے ایک پتہ جاتے جاتے یہ کہہ کر کھیلا کہ ہمیں سرائیکی صوبے کا نام بہاول پور رکھنے اور ہیڈ کوارٹر بھی بہاولپور کو بنانے میں کوئی اعتراض نہیں، اگر مسلم لیگ (ن) بہاولپور صوبہ کی حمایت کرتی ہے تو وہ پنجاب اسمبلی میں قرارداد لائیں،لیکن مسلم لیگ(ن) ایسا نہ کرسکی وہ سرائیکی صوبے اور بہاولپور صوبے کے حامیوں کو لڑانے کی کوشش کرتے رہی تب یوسف رضا گیلانی نے جو پتہ بہاول پور میں کھیلا اس کا کوئی فائدہ نہ تو بہاولپور کے عوام حاصل کر پائے اور نہ ہی جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع کے لوگوں کو طمانیت مل پائی ایئر مارشل اصغرخان نے تحریک استقلال کے منشور میں زیادہ صوبوں کی بات کی، جبکہ پرویز مشرف کے ضلعی نظام میں بھی عوام کو اپنے ضلع کے محصولات سے بھر پور فائدہ اُٹھانے کا موقع ملا جتنے زیادہ صوبے ہوں گے وفاق اتنا ہی مضبوط ہوگا، تحریک انصاف کو بھی ایئر مارشل اصغر خان کے منشور کے تحت زیادہ صوبوں کی بات کرنا ہوگی، کیونکہ پاکستان کی دو بڑی پارٹیاں جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبہ کو الیکشن میں ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرتی رہیں، جس پر وہ عوام میں اپنا اعتماد کھو چکی 

مزید :

رائے -کالم -