کیا سیاسی خلفشار صرف سندھ کی حدود میں رہے گا؟

کیا سیاسی خلفشار صرف سندھ کی حدود میں رہے گا؟

  

وفاقی وزیر ہاؤسنگ چودھری طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ بہاولپور صوبہ بحال نہیں ہوگا تو کوئی اور صوبہ نہیں بن سکے گا، صوبہ بہاولپور کی بحالی ہمارا دیرینہ مطالبہ ہے جو صرف ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت بحال کیا جا سکتا ہے بہاولپور ڈویژن کے عوام نہیں چاہتے کہ انہیں تخت لاہور کی بجائے اب تختِ ملتان کے ماتحت کر دیا جائے۔ اگر حکومت جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانا چاہتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن ایک بات یاد رکھیں جب تک بہاولپور صوبہ بحال نہیں ہوتا کوئی اور صوبہ نہیں بن سکے گا انہوں نے یہ باتیں ہیڈ راجگان میں اخباری نمائندوں سے کہیں۔

تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو تو ان دنوں سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے استعفے کی جلدی ہے گورنر سندھ عمران اسماعیل اندرون سندھ جا کر مہر سرداروں کے ساتھ مستقبل کے لئے تبادلہ خیال کرتے رہے کئی دوسرے وفاقی وزیر اور مشیر بھی نہ صرف مراد علی شاہ کے فوری استعفے پر اصرار کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی آنکھوں میں سندھ کی نئی حکومت بنانے کے خواب بھی سجا لئے ہیں۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ سندھ کا نام ابھی زیادہ سے زیادہ تحقیقاتی رپورٹ میں آیا ہے کوئی الزام ثابت ہوا ہے نہ ان کے خلاف کوئی فیصلہ آیا ہے لیکن وزیر اعلیٰ کا نام ای سی ایل میں ڈال کر جگ ہنسائی کا سامان کیا گیا، دنیا کیا سوچتی ہو گی کہ پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ ملک سے فرار ہونے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا جس کی پیش بندی کے لئے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ویسے اگر یہی ’’میرٹ‘‘ ہے تو اور بھی بہت سے وزیروں وغیرہ کے نام ای سی ایل پر ہونے چاہئیں جن کے خلاف نیب میں یا تو تحقیقات ہو رہی ہیں یا ان پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی کی جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس پر ابھی سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ نہیں آیا اور حکومت کے وزیروں مشیروں اور گورنروں نے میڈیا میں یہ تاثر دینا شروع کر دیا ہے کہ سندھ کی حکومت آج گئی یا کل ۔

تحریک انصاف کی حکومت کو سندھ کے وزیر اعلیٰ کا استعفا مطلوب ہے اور وہ اس سے کم پر ’’رضا مند ‘‘نظر نہیں آتی۔لیکن پنجاب میں جو سیاسی حالات ہیں اس جانب شاید پوری توجہ نہیں دی جا رہی اور ’’تاریخ میں پہلی بار‘‘ پنجاب کابینہ کا اجلاس بہاولپور میں منعقد کر کے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے دل جیت لئے گئے ہیں حالانکہ اس پکنک کے بغیر بھی دل جیتے جا سکتے تھے اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ وعدے کے مطابق جنوبی پنجاب کا صوبہ اقتدار کے ابتدائی سو دنوں میں بنایا جاتا لیکن اب تحریک انصاف کے ذمہ دار عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں اس لئے وہ صوبہ جنوبی پنجاب نہیں بنا سکتے۔ لیکن وفاقی وزیر ہاؤسنگ نے بروقت یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ صوبہ بہاولپور کو بغیر کسی اکثریت کے، محض ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بحال کیا جا سکتا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بہاولپور بطور صوبہ بحال نہ ہوا تو کوئی دوسرا صوبہ نہیں بننے دیا جائے گا یہ وہ موقف ہے جو تحریک انصاف کے معلوم و معروف سیاسی موقف کے مطابق نہیں ہے۔ تحریک انصاف نے تو جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ کیا ہوا ہے، بہاولپور صوبہ بحالی کا کوئی ایجنڈا ہی نہیں ایسے میں چودھری طارق بشیر چیمہ کا مطالبہ کیسے منظور ہوگا اور اگر منظور نہ ہوا تو ان کا ردعمل کیا ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے۔

وزیر ہاؤسنگ کا تعلق مسلم لیگ (ق) سے ہے جو وفاق کی حکومت میں بھی شامل ہے اور پنجاب میں بھی سپیکر چودھری پرویز الٰہی کا تعلق مسلم لیگ (ق) سے ہے کئی صوبائی وزراء بھی ایسے ہیں جو انتخابات سے تھوڑا عرصہ قبل مسلم لیگ (ق) چھوڑ کر تحریک انصاف میں چلے گئے اب وہ بھی وزیر ہیں اور مسلم لیگ (ق) کے سرگرم تعاون کی وجہ سے پنجاب کی حکومت قائم ہے۔ چند ہفتے قبل ایک ویڈیو لیک ہوئی تھی جس میں تحریک انصاف کے جہانگیر ترین، چودھری پرویز الٰہی اور خود طارق بشیر چیمہ شامل تھے جنہوں نے اپنی گفتگو میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی سیاسی امور میں مداخلت کا شکوہ کیا تھا بعد میں اس معاملے پر مٹی ڈال دی گئی لیکن اب چودھری طارق بشیر چیمہ نے بہاولپور صوبے کے معاملے پر جو گفتگو کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی کوشش کی گئی تو حکومتی حلیف جماعت کی جانب سے مثبت رد عمل کی امید نہیں لیکن اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی بجائے وفاقی حکومت کی ساری توانائیاں مراد علی شاہ کو نکالنے پر صرف ہو رہی ہیں جنہیں سندھ اسمبلی کے ایوان میں 99 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور پوری اپوزیشن مل کر بھی حکومت سازی کی پوزیشن میں نہیں آتی۔

حیرت ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتوں نے پلٹ کر تحریک انصاف کی وفاقی اور پنجاب حکومتوں پر جوابی حملہ کر دیا تو کیا ہوگا؟ پہلے ہی ملک میں ایک سیاسی خلفشار، موجود ہے کئی اپوزیشن رہنما یہ کہہ چکے ہیں کہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا سکتی ہے اسی طرح پنجاب کی سیاسی حالت تو لکھنؤ کے بانکوں کی کمر سے بھی پتلی ہے لیکن بعض صوبائی وزیر نہ جانے کس برتے پر مراد علی شاہ کی چھٹی کرانے کی خوش فہمی میں مبتلا ہیں حالانکہ انہیں پہلے پنجاب کی منجی کے نیچے ڈانگ پھیرنی چاہئے جہاں عثمان بزدار کی حکومت محض چند ارکان کی حمایت پر کھڑی ہے۔ ایک وزیر صاحب نے فرمایا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کا وہی حشر ہو گا جو پنجاب میں ن لیگ کا ہوا، انہیں شاید معلوم نہیں کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں۔اس لئے اگر کسی کو یہ خوش فہمی ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے بندے توڑ کر اس کی حکومت ختم کر کے تحریک انصاف کی حامی حکومت بنائی جا سکتی ہے تو کیا پنجاب میں اس طرح کی خوشگوار روایت قائم نہیں کی جا سکتی ہے۔ اگر سندھ میں یہ کام جائز ہے تو پنجاب میں بھی تو درست ہی ہوگا ویسے بھی اس صوبے کی اپوزیشن بھاری بھرکم ہے سندھ میں تو پھر بھی بیس سے زیادہ ارکان توڑنے کی ضرورت ہے جبکہ پنجاب میں صرف سات ارکان ادھر سے ادھر ہو جائیں تو ’’سیاسی وسیم اکرم‘‘ کلین بولڈ ہو جائیں۔

جہاں تک وفاق کا تعلق ہے وہاں بھی آٹھ سیاسی جماعتوں کی بیساکھیوں نے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو سہارا دے رکھا ہے۔ ان بیساکھیوں میں سے صرف ایک ہی کھسک جائے تو وزارت عظمیٰ دھڑام سے گر پڑے گی لیکن نہ جانے کِس زعم میں اس طرف دھیان نہیں دیا جا رہا اور اس مہینے نیا منی بجٹ لایا جا رہا ہے جس میں 155 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی نوید سنائی گئی ہے۔ اس منی بجٹ سے مہنگائی کا جو سونامی آئے گا اس میں بہت کچھ بہہ سکتا ہے۔ اقتدار کے ایوان بھی لرز سکتے ہیں اس لئے دوسروں کی حکومتیں ختم کرنے سے پہلے یہ سوچ لیا جائے کہ سیاسی طوفان کی لہریں یک دم پلٹ کر وفاقی اور پنجاب حکومت کے ایوانوں کو لپیٹ سکتی ہیں اور کچھ نہیں تو طارق بشیر چیمہ کے انتباہ پر ہی غور کر لیا جائے جس کا پیغام یہ ہے کہ وفاقی حکومت میں سب اچھا نہیں ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -