بنگلہ دیش میں خونی انتخابات!

بنگلہ دیش میں خونی انتخابات!

  

بنگلہ دیش میں ہونے والے عام انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ نے عام انتخابات بہت ہی بھاری اکثریت سے جیت لئے کہ حزب اختلاف خالدہ ضیاء کی جماعت کو بمشکل پانچ سے سات نشستیں مل سکی ہیں، خالدہ ضیاء کرپشن کے الزام میں قید کاٹ رہی اور جیل میں ہیں۔ غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق یہ خونیں انتخابات تھے جن میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود قریباً 18افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے کہ اپوزیشن نے دھاندلی کا الزام لگا یااور مظاہرے کئے تو بنگلہ دیشی پولیس نے فائرنگ کی۔ یوں یہ انتخابات خونیں ثابت ہوئے ، اپوزیشن نے نتائج مسترد کر دیئے اور دوبارہ عام انتخابات کا مطالبہ کیا ہے، اموات پولیس اور مظاہرین کے درمیان اور برسراقتدار جماعت کے کارکنوں کے ساتھ جھڑپوں میں ہوئیں، پولیس نے سینکڑوں لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے، حسینہ واجد اس سے قبل دوبار انتخابات جیت چکیں اور اب ان کا یہ تیسرا دور ہو گا۔حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم کے طور پر ملک میں اخلاقیات کو نظر انداز کرکے 1971ء کے دور میں بھارتی شہ پر جنگی جرائم کے مقدمات چلا کر متعدد بزرگوں کو سزائے موت سنائی اور وہ پھانسیوں پر جھول گئے یا جیل ہی میں موت سے ہمکنار ہو گئے۔عوامی لیگ نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں اور آئے روز مخالفین پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ انتخابات جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ شفاف ہونے چاہئیں، تاہم یہاں ایسا نہیں ہوتا، ہم بنگلہ دیش میں امن اور جمہوری روایات پر عمل کی دعا کرتے ہیں کہ انسانی خون بہنا کسی طور پر بھی درست اقدام نہیں، اللہ سے دعا ہے کہ مرحومین کی ارواح کو سکون عطا فرمائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -