پنجاب یونیورسٹی کے جلسہ عطائے اسناد میں وائس چانسلر کا اظہار خیال(2)

پنجاب یونیورسٹی کے جلسہ عطائے اسناد میں وائس چانسلر کا اظہار خیال(2)

  

* عصرِ حاضر کمپیوٹراور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے۔ یونیورسٹیوں کو اس حوالے سے بھی قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس سوچ کے تحت ہم نے کئی اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں سب سے اہم سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک (Software Technology Park) کی تشکیل ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس سے علم اور تحقیقِ علم میں جدت اور برق رفتار ترقی پیدا ہو گی۔

* جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا گیا، شفافیت سے معمور میرٹ کو فروغ دینا میرا عزم ہے۔ میری پالیسی ہے کہ صدورِ شعبہ جات،ڈائریکٹرز، پرنسپلز اور ڈینز کی تقرریاں سنیارٹی (Seniority) اور قابلیت کی بنیاد پر ہوں کیونکہ یہی میرٹ کا تقاضا ہے۔ اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ ایک فرد کے لئے ایک منصب (One Man One Post) کا طریق کار اپنانا چاہیے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف یہ کہ ہر ذمہ دار شخص کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے، بلکہ ادارے کو زیادہ افراد کی صلاحیتوں سے مستفید کیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ تمام ذمہ دار افراد میں شرکت کا احساس (Sence of Participation) پیدا ہوتا ہے۔چنانچہ ہم اس پالیسی پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ یونیورسٹی کو اس کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں۔

* ہمارے ہاں یہ غلط روش راہ پا گئی تھی کہ اساتذہ کو غیر تدریسی انتظامی عہدوں پر فائز کرکے اضافی ذمہ داریاں سونپ دی جاتی تھیں۔ ایسا کرنے سے ایک تو انتظامی افسران کی حق تلفی ہوتی تھی اور دوسرے یہ کہ اساتذہ کرام ترسیل علم کے اعلیٰ منصب سے دور ہو جاتے تھے۔ میں نے یہ سلسلہ ختم کر دیا ہے۔ ایسا کرنے سے اساتذہ کرام اور انتظامی افسران کے دائرہ کار کا تعین بھی ہو گیا ہے اور اس کی کارکردگی بھی بہتر ہوئی ہے۔

* ملکی اور عالمی سطح پر یونیورسٹیوں کی درجہ بندی ((Rankingمقابلے کی صحت مند فضا پیدا کرتی ہے۔ ہم نے بھی اس سلسلے میں اپنی کوششوں کو تیز تر کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایشیا کی یونیورسٹیوں میں پنجاب یونیورسٹی کم و بیش چالیس (40)درجے کی جست لگا کر 234سے ایک سو ترانوے (193) نمبر پر آ گئی ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ہماری یونیورسٹی کا نمبر دو سو (200) درجوں کے اندر اندر رہا ہے۔

* پنجاب یونیورسٹی میں آن کیمپس طلبہ و طالبات کی تعداد چالیس ہزار (40,000) سے متجاوز ہے۔ یہاں داخلوں کے دوران بے تحاشا رش لگا رہتا تھا اور بعض اوقات بدنظمی کے واقعات بھی رونما ہو جاتے تھے۔ رواں سیشن میں ہم نے پہلی بار نہایت کامیابی کے ساتھ طلبہ و طالبات کا آن لائن ایڈمشن کیا ہے۔ اس سے ایک تو طلبہ و طالبات کو گھر بیٹھے داخلہ فارم جمع کروانے کی سہولت میسر آئی اور دوسرے مالی لحاظ سے ان کی بہت بچت ہوئی۔

* پنجاب یونیورسٹی 1882ء میں معرضِ وجود میں آئی لیکن حیرت ہے کہ مادرِ علمی کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے فرزندان و دختران کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے محبت کے لازوال رشتے میں پرونے کی اکّا دکّا جزوی اور سرسری کوششوں سے قطع نظر کبھی کوئی بھرپور اور جامع کاوش نہیں کی گئی۔ الحمدللہ! یہ اعزاز بھی میرے حصے میں آیا ہے کہ میں نے اپنے رفقائے کار کے بھرپور تعاون سے پنجاب یونیورسٹی کے سابقہ طلبہ و طالبات کو عظیم الشان وحدت (Alumni Re-union) میں ڈھالنے کی کامیاب کوشش کے طور پر 8دسمبر 2018ء کو ایک شاندار تقریب منعقد کی ہے۔ اس عالیشان تقریب میں ہزاروں کی تعداد میں سابقہ طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ مجھے یقین ہے کہ دنیا بھر میں مقیم پنجاب یونیورسٹی کے فارغ التحصیل افراد اپنی مادرِ علمی اور اپنے وطن عزیز کی ترقی و خوش حالی کے لئے ہر سطح پر نہایت اہم کردار ادا کریں گے۔

* عصرِ حاضر میں نہ تو کوئی ملک تنہا اور الگ تھلگ رہ سکتا ہے اور نہ کوئی ادارہ دنیا کے اداروں سے لاتعلقی اختیار کر سکتا ہے۔ مبنی بر فائدہ تعلیم (Qutcome Based Education) کے فروغ کے لئے دنیا بھر کے اداروں سے تعلق استوار کرنا ضروری ہے۔ میں نے اس حقیقت کو بھانپتے ہوئے دنیا بھر کی یونیورسٹیوں سے تعلیم و تحقیق کے معاہدے یعنی Memorandum of Understanding کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے اور کثیر تعداد میں دنیا بھر کی یونیورسٹیوں اور ان کے معروف شعبوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔

* ہماری پر خلوص کوشش سے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے پنجاب یونیورسٹی کو فیکلٹی ڈویلپمنٹ کے لئے بیس (20) وظائف جاری کئے ہیں۔

* ہمارا وژن (Vision) ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کو ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ملک و قوم اور حکومتی اداروں کے لئے قائدانہ کردار (Leading Role) ادا کرنا چاہیے۔ ہمارے اساتذہ تھنک ٹینک (Think Tank) کی حیثیت سے سوشل انٹرپری نیور کے لئے نہایت مفید خدمات انجام دے سکتے ہیں اور ہم اس مقصد کے لئے اساتذہ کرام کی ہر ممکن معاونت اور حوصلہ افزائی کرنے کے لئے تیار ہیں۔

*اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے شائق اساتذہ کے لئے خوش خبری ہے کہ عالمی درجہ بندی میں پہلی (100) یونیورسٹیوں میں داخلے کی صورت میں پنجاب یونیورسٹی سکالرشپ فراہم کرے گی۔

یہ اور اسی طرح کے اور بہت سے اقدامات نے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کے لئے سہولت فراہم کرنے اور یونیورسٹی کو ترقی کے نئے نئے راستوں پر گامزن کرنے کے لئے سمت کا تعین کر دیا ہے۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ ہم یونیورسٹی کو منفی سیاست سے پاک تعلیم و تحقیق کا باوقار ادارہ بنائیں اور الحمدللہ ہم اس میں کامیاب رہے ہیں۔

مہمانِ معظم!

اداروں کی ترقی ماضی سے روشنی حاصل کرنے ،حال میں سرگرم عمل ہونے اور مستقبل کے لئے منصوبہ بندی کرنے میں مضمر ہے۔ پنجاب یونیورسٹی پاکستان کا قدیم و عظیم تدریسی و تحقیقی ادارہ ہے۔ ہم اس ادارے کو عظیم تر بنانے کے لئے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ہم کلیہء علوم صحت (Faculty of Health Sciences) کو فعال کرنے اور اس کی تعمیر و ترقی کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی میں ایک نہایت اعلیٰ میڈیکل کالج (Medical College) اور ملحقہ ہسپتال (Allied Hospital) قائم کیا جائے جہاں جدید ترین طبی سہولتیں بھی میسر ہوں اور ا یم بی بی ایس (M.B.B.S) اور طب کی دیگر ڈگریاں بھی دی جائیں۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں محترم وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کی توجہ اس جانب مبذول کرواؤں کہ یہ میگا پراجیکٹ محض ہمارے داخلی وسائل ہی سے مکمل نہیں ہو سکتا بلکہ اس مقصد کے لئے حکومت پنجاب کے فراخ دلانہ مالی تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ طبی تعلیم (Medical Education) اور صحت عامہ (Public Health) کا یہ عظیم الشان منصوبہ آپ کی سرپرستی میں ضرور پایہ ء تکمیل کو پہنچے گا۔ ان شاء اللہ میں اپنے پختہ عزم کے سہارے ، اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور آپ کی سرپرستی اور رہنمائی میں اپنے نیک مقاصد پورے کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گا اور پنجاب یونیورسٹی نہ صرف وطن عزیز میں بلکہ دنیا بھر میں قابل رشک مقام حاصل کر لے گی اور ملک و قوم کی بہبود و ترقی میں انتہائی اہم اور فعال کردار ادا کرے گی۔

عزیز طلبہ و طالبات!

آخر میں ، میں ایک بار پھر آپ کو کامیابی سے ہمکنار ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میرے جذباتِ تہنیت میں آپ کے والدین بھی شامل ہیں، جنہوں نے آپ کا مستقبل سنوارنے کے لئے طرح طرح کی قربانیاں دیں اور آپ کے لئے دعاگو ہوں۔ میری نصیحت ہے کہ آپ پوری دل جمعی اور مسلسل محنت سے اپنے اعلیٰ مقاصد حاصل کریں۔ یاد رکھیں علم و عمل کے میدان میں وہی لوگ آگے بڑھ سکتے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر اپنی معلومات کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ (Update) کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ ایسا کرنے ہی سے آپ کی فکر و دانش میں وسعت اور گہرائی پیدا ہو سکتی ہے۔ میں ایسے بہت سے طالب علموں کو جانتا ہوں جو اپنے سمارٹ فون کے منفی استعمال سے محفوظ رہتے ہوئے اسے برقی کتب خانوں (E-Libraries) تک رسائی کا وسیلہ بنا لیتے ہیں۔ جس سے معلومات کا ایک لامتناہی سلسلہ ان کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ میں آپ سے یہ بھی کہوں گا کہ آپ اپنی زندگی میں اعلیٰ انسانی اقدار کو اپنائیں کیونکہ ایسی تعلیم ادھوری ہے جس میں تربیت کا عنصر شامل نہ ہو۔ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ آپ اپنے قلب و نظر میں اخلاقی و جمالیاتی اور معاشرتی و ثقافتی حیثیت کو پروان چڑھائیں اور ہمہ وقت اعلیٰ سے اعلیٰ ترکی تلاش میں رہیں۔

میری دعا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر آپ سب پر اپنی بے شمار نعمتیں اور رحمتیں نچھاور کرے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ایک روشن متقبل آپ کی راہ دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ پنجاب یونیورسٹی زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔

مزید :

رائے -اداریہ -