نئے پاکستان کا خواب اور منصوبہ بندی کا شدید فقدان

نئے پاکستان کا خواب اور منصوبہ بندی کا شدید فقدان
نئے پاکستان کا خواب اور منصوبہ بندی کا شدید فقدان

  

پاکستان میں ہر آنے والی حکومت اس جذبے اور ولولے کے ساتھ آتی ہے کہ ملک سے تمام برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی اور وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیگی۔

کوئی صنعتی انقلاب کا نعرہ لے کر ملک پر قابض ہوا، کسی نے تمام پاکستانیوں کے لئے روٹی کپڑا مکان مہیا کرنے کے نام پر آدھے پاکستان سے ووٹ حاصل کیے، کسی نے اسلام کا جھانسہ دے کر ملک کو ایسی دلدل میں پھینکا کہ ابھی تک ہم نکل نہیں پا رہے۔، کسی نے نئے عمرانی معاہدے کی بات پر عوام کا اعتماد لیا، کسی نے پاکستان کو ایشین ٹائگر بنانے کا وعدہ کر کے اپنی جائیدادوں میں اضافہ کیا تو کوئی بغیر منصوبہ بندی کے پورے پاکستان کو ہی ایک نئے پاکستان سے بدلنے آئے ہیں۔

مگر آج تک کوئی بھی اپنے مشن کو پایہ تکمیل تک لے جانا تو دور کی بات اپنے پروگرام کا آغاز بھی نہ کر سکا۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے۔ کیا سب محض اقتدار حاصل کرنے کے لئے جھوٹے نعروں کا سہارا لیتے اور عوام کو سبز باغ دکھاتے ہیں؟ یا پھر ان سب کو اقتدار میں آنے کے بعد خبر ہوتی ہے۔ کہ یہ اقتدار نمائشی ہے۔؟ بقول سلیم کوثر:

’’ سر آئینہ میرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے‘‘

"ہمارے ہاں ایک عام فرد اور خاندان سے لے کر اعلیٰ ایوانوں تک منصوبہ بندی کا سرے سے کوئی رجحان ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں کسی بھی سطح پر کسی بھی معاملے میں کسی بھی قسم کی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی ہے۔

حکومت کی کوئی منصوبہ بندی ہوتی ہے نہ حزب اختلاف کوئی پروگرام پیش کرتی ہے۔ سوائے ایک دوسرے پر بے ہودہ قسم کے الزامات لگانے کے اور نان ایشوز کے اوپر واویلا کرنے کے۔ اسی طرح ہمارا میڈیا بھی حقیقی مسائل پر بات کرنے سے قاصر ہے۔

موجودہ حکومت نئے پاکستان بنانے میں خواہ کتنی ہی مخلص ہو، لیکن جب تک ہر کام ترتیب اور منصوبہ بندی سے نہ کیا جائے گا اس وقت تک نیا پاکستان کجا نیا محلہ بنانا بھی ناممکن ہوگا۔ نیا پاکستان بنانے کے لئے پرانی روش بدلنا لازم ہے، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہاں پھر سے فارورڈ بلاکس بنائے جانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

دونوں طرف سے نمبرز گیم کھیلی جا رہی ہے۔ اس پرانی روش کے ساتھ نئے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ نئے پاکستان کے لئے نیا انداز اور منصوبہ بندی چاہیے۔ ہمارے وزیراعظم صاحب یورپ کی تاریخ سے واقف ہیں اور حال ہی میں چین کا دورہ کر کے آئے ہیں اور اب ترکی کے دورے پر جا رہے ہیں۔ تو پھر ان دوروں سے ان ممالک کے ماضی قریب میں جھانک کر دیکھیں اور ان کے مستقبل قریب اور دور کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیں ،تاکہ آپ یہ جان سکیں کہ منصوبہ بندی کتنی ضروری ہے۔

بہتر ہوتا کہ آپ اقتدار میں آنے سے پہلے ہی پوری منصوبہ بندی کرتے، لیکن دیر آئے درست آئے کے مصداق اب بھی اس طرف توجہ مبذول فرمائیں۔ ہنگامی طور پر ٹاسک فورس اور تھنک ٹینک ترتیب دے کر شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی کریں۔ اب میں ان شعبوں کی چند جھلکیاں پیش کرتا ہوں جن میں فوری منصوبہ بندی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ہماری آبادی خود رو جھاڑیوں کی طرح بڑھ رہی ہے۔ اور ان کے رہن سہن اور روز گار کی کوئی منصوبہ بندی ہے نہ آبادی کو روکنے کی۔ دیہاتوں میں پچھلے 50 سال میں زرعی زمین کا 40% مکانوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اور تمام بڑے شہروں میں تو اب کہیں بھی زمین کا ٹکڑا خالی نظر نہیں آتا۔ کیا کسی نے سوچا ہے کہ 100 سال کے بعد ہم کہاں ہوں گے؟ قصبوں اور چھوٹے شہروں سے لے کر بڑے شہروں تک بے ہنگم ٹریفک دیکھ کر لگتا ہے کہ اگلے بیس سال تک کوئی باہر نکلے گا تو واپسی کا کوئی پتا نہیں ہوگا۔

دنیا میں آبادی کے لحاظ سے بڑے شہروں میں لاہور کا اٹھارواں نمبر ہے اور یہ دنیا کا واحد اتنا بڑا شہر ہے جس میں رہائش کے لئے بلڈنگز کا نظام نہیں جس کی وجہ سے اس کا پھیلاو اتنا بڑھ چکا ہے کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک 50 کلومیٹر اور گھنٹوں کا سفر بنتا ہے۔ بڑی بڑی کوٹھیوں کے ساتھ ہی جھگیوں کی قطاریں بھی ہیں۔

الغرض کسی بھی طرف کوئی منصوبہ بندی ہے نہ آنے والے وقت کی کوئی سوچ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے خوف طاری ہو جاتا ہے۔ اگر موجودہ حکومت نیا پاکستان بنانا چاہتی ہے تو ان کو پرانی روشوں سے اجتناب کرنا ہوگا اور فی الفور ہر کام کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ اور عوام اور تمام اداروں کو بھی منصوبہ بندی کی عادت ڈالنا ہوگی۔

Back to Conversion Tool

مزید :

رائے -کالم -