چیف جسٹس صاحب آپ امتحان میں پاس ہو گئے

چیف جسٹس صاحب آپ امتحان میں پاس ہو گئے
چیف جسٹس صاحب آپ امتحان میں پاس ہو گئے

  

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ میں تین ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، انہوں نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا امتحان شروع ہو چکا ہے۔ نتیجہ ریٹائرمنٹ کے بعد آئے گا۔ میرے نزدیک تو نتیجہ آ چکا ہے اور چیف جسٹس امتحان میں ٹاپ کر گئے ہیں،انہوں نے بڑی عمدہ اننگ کھیلی ہے اور صحیح معنوں میں ایک سٹار بیٹسمین کا کردار ادا کیا ہے، ان پر تنقید بھی بہت ہوئی، وہ ثابت قدم رہے، بڑے بڑے مافیاز کو قانون کی گرفت میں لائے اور عوام کو بنیادی حقوق دلانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ بولے بھی جی بھر کے اور فیصلے بھی جرأت مندی سے کئے۔

آج کتنی ہی چیزیں ٹھیک ہو گئی ہیں اور کتنے ہی پہلو بے نقاب ہو چکے ہیں، جن پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ شاید چیف جسٹس نے امتحان شروع ہونے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ منصب پر بیٹھے شخص کو کوئی کچھ نہیں کہتا۔ سب کی زبانیں اس وقت کھلتی ہیں جب وہ منصب سے اُتر کر عام آدمی بن جاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد نتیجے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ انہیں کس نام سے یاد کرتے ہیں؟ ایک الزام تو ان کے سر ضرور لگے گا کہ وہ عدلیہ کو درست نہیں کر سکے، فوری اور سستے انصاف کے لئے کچھ نہ کر پائے، حالانکہ یہ ان کی براہ راست ذمہ داری تھی، تاہم انہوں نے ایسے بہت سے کام کئے جن سے بالواسطہ طور پر عوام کو ریلیف ملا۔

منشاء بم اور کھوکھر برادران جیسے طاقتوروں سے سرکاری اور نجی اراضی واگزار کرائی۔ کراچی میں قبضہ گروپوں کو نکیل ڈالی اور تاریخی آپریشن کرائے۔ منی لانڈرنگ کیس میں بااثر افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا، پاناما کیس کا فیصلہ تو خیر ایک بہت بڑا قدم تھا، اس کے علاوہ بھی جہاں جہاں قانون کی خلاف ورزی ہو رہی تھی، وہاں وہ پہنچے اور ریلیف دیا۔

وہ سکولوں، میڈیکل کالجوں کی فیس کا معاملہ ہو یا منرل واٹر اور علاج معالجے کے اخراجات کا، چیف جسٹس ثاقب نثار نے آگے بڑھ کر فیصلے کئے سو دیکھا جائے تو چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے اور ریٹائرمنٹ تک آتے آتے، چیف جسٹس ثاقب نثار ایک ایسا محیر العقول کردار بن گئے جو عوام کو حیران کن نتائج دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بحث مباحثہ تو چلتا رہے گا کہ چیف جسٹس کو آئین کی شق 184 کے تحت جو سوموٹو کا اختیار حاصل ہے، وہ رہنا چاہئے یا ختم ہونا چاہئے؟ یہ بات بھی ہوتی رہے گی کہ چیف جسٹس نے جواز خود نوٹس لئے انہیں اس کا اختیار تھا بھی یا نہیں یعنی یہ کہ آئین کی مذکورہ شق نے جو اختیار دیا ہے وہ بے لگام ہے یا اس کی بھی کوئی حدود و قیود ہیں۔ انتظامیہ کے اختیارات میں مداخلت کے الزامات بھی ہمیشہ لگتے رہے ہیں اور پارلیمینٹ کو بے توقیر کرنے کا تذکرہ بھی ہوتا رہا ہے۔ یہ سب باتیں اگر اپنی جگہ درست بھی ہوں، تب بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چیف جسٹس نے جو از خود نوٹسز لئے،وہ صرف اپنی انا کی تسکین کے لئے تھے اور ان کا زمینی ضرورتوں کے حوالے سے کوئی جواز نہیں تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہماری حکومتوں نے اپنی ناقص کارکردگی کے ذریعے ایسے خلاء چھوڑے ،جنہیں پُر کرنے کے لئے کبھی عدلیہ اور کبھی فوج کو آگے آنا پڑا۔ خاص طور پر مُلک کے چیف جسٹس کو آئین میں دی گئی سہولت کے تحت بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس اور تمام اداروں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری نبھانی پڑی۔ یہ آج کا معاملہ نہیں، ہمیشہ ہی اس کشمکش نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لئے رکھا ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ پاکستان میں سیاست، سرمایہ داری نظام اور حکومت باہم شیر و شکر ہو گئے ہیں،ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں،وطن عزیز میں لوگ سیاست کا شعبہ اختیار ہی اس لئے کرتے ہیں کہ اپنے کاروبار اور مفاد کو تحفظ دے سکیں۔

اس لئے کوئی ایسا کام نہیں کرتے جس سے ان کے مفادات پر زد پڑتی ہو۔ مثلاً منرل واٹر کے نام پر پانی اور عوام کے ساتھ جو لوٹ مار کی جاتی رہی، اس کا نوٹس حکومت نے تو کبھی نہیں لینا تھا، کیونکہ اکثر کمپنیاں سیاسی اشرافیہ کی ملکیت ہیں یا ان کے زیر سایہ چل رہی ہیں۔ بڑے سکولوں اور نجی میڈیکل کالجوں کا معاملہ بھی کسی حکومت نے نہیں دیکھنا تھا، کیونکہ حکومت کے ایسے بڑے مافیاز کے سامنے تو پر جلتے ہیں سرکاری و نجی زمینوں پر قبضو ں پر تو حکومتیں آنکھوں پر پٹی باندھ لیتی ہیں، کیونکہ ان میں تو انہی کے لوگ ملوث ہوتے ہیں۔ایسے میں جب سپریم کورٹ سامنے آتی ہے تو اس پر بے جا مداخلت کے الزامات لگائے جاتے ہیں، حالانکہ جن لوگوں کی زمین پر قبضے کئے گئے ہوتے ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے، اگر وہ بھی ذمہ داری پوری نہ کرے تو معاشرہ جنگل بن جائے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار اس لئے بھی امتحان میں پاس ہیں کہ انہوں نے جن کیسوں کو پکڑا انہیں حتمی انجام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ آج کل مختلف کیسوں میں ان کے فیصلے مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ غالباً وہ چاہتے ہیں کہ جن کیسوں کو انہوں نے شروع کیا ہے،وہ انہی کے دور میں اختتام پذیر ہوں اور نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نئے سفر کا آغاز کریں۔

سب کو یاد ہوگا کہ کس طرح آصف علی زرداری اور فریال تالپور نے چیف جسٹس کے نوٹس پر بھی ایف آئی اے کے سامنے پیش ہونے سے انکار جاری رکھا اور شرط رکھی کہ جب تک ڈی جی ایف آئی اے کو تبدیل نہیں کیا جائے گا،وہ پیش نہیں ہوں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نہ ہوتے تو ایف آئی اے تھک ہار کر بیٹھ جاتی اور پیپلزپارٹی سندھ میں اپنی حکومت کے اثر و رسوخ کی وجہ سے اسے بے بس کر دیتی، مگر چیف جسٹس کی وجہ سے آصف علی زرداری اور فریال تالپور ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوئے اور شواہد سامنے آ گئے چیف جسٹس نے مزید تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنا دی۔ اب جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں پیش ہو گئی ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے نہ صرف مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کیا،بلکہ انصاف اور قانون کو بھی کہیں کمزور نہیں پڑنے دیا۔

جسٹس میاں ثاقب نثار ایک اور حوالے سے بھی اعلیٰ نمبر لے گئے ہیں،انہوں نے ڈیم بناؤ تحریک کی بنیاد رکھی اور پھر اسے کامیاب بنانے کے لئے اپنی پوری طاقت صرف کر دی۔

اس مہم کی وجہ سے یہ شعور بیدار ہوا کہ پاکستان کو پانی کی کتنی اشد ضرورت ہے اور ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا پانی کس بے دردی سے ضائع ہوتا ہے۔ ان کی یہ مہم اس قدر موثر ثابت ہوئی کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اس مہم کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان جو پہلے ہی ملک میں پانی کی قلت پر اپنا خاص نظریہ رکھتے ہیں ، اس تحریک کا حصہ بن گئے اور انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے وہ کام کیا ہے جو ان کی ذمہ داری نہیں تھا، لیکن قوم کی اشد ضرورت ضرور تھی، ہم اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس مہم کی پذیرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ڈیم بنانے کے لئے ایک تنظیم بنائی ہے، جس کی سربراہی چیف جسٹس ثاقب نثار کو سونپ دی ہے،جو ریٹائرمنٹ کے بعد دُنیا بھر میں ڈیم کے لئے فنڈ ریزنگ مہم چلائیں گے۔ عہدے اور مناصب ایک خاص مدت کے لئے ملتے ہیں، خوش قسمت وہی ہے،جو اس وقت کو ضائع نہ کرے اور ملک و قوم کے لئے کچھ کر جائے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے دور میں بہت کچھ کر گئے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے مُلک میں اعلیٰ عدلیہ کے فعال کردار کا احساس دلایا، قانون کی حکمرانی کے تصور کو عام کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مُلک میں احتساب کے عمل کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلوں سے تیز رفتار اور یقینی بنایا، جس سے نیب کو بھی تقویت ملی۔ چیف جسٹس بہتر اور اچھی یاد ہی چھوڑ کر جا رہے ہیں اور ان کے دامن پر ندامت کا بظاہر کوئی داغ نظر نہیں آتا۔

مزید :

رائے -کالم -