مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی میڈیا کا پرنالہ!

مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی میڈیا کا پرنالہ!
مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی میڈیا کا پرنالہ!

  

مغرب کا میڈیا محبِ وطن بھی ہے اور قوم پرست بھی۔ میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپی ممالک دو صدیوں تک ایک دوسرے سے نبرآزما رہے۔ ایک قوم دوسری قوم کی سخت دشمن رہی اور ایک ملک دوسرے ملک کا جانی دشمن رہا۔ اس دشمنی اور مخاصمت کی وجہ مذہب یا عقیدہ نہیں تھا کہ تمام مغربی ممالک کا مذہب تو ایک تھا حتیٰ کہ عقیدے کے اعتبار سے روس بھی ان میں شامل تھا۔

یہ تو 1917ء میں جب وہاں اشتراکی / کیمونسٹ عقائد کا دور دورہ ہوا تو روس اور باقی مغربی دنیا کے عقائد میں فرق آیا۔ اس فرق کو بہت اچھالا گیا تاآنکہ 1990ء میں جب سوویت یونین کا سقوط ہوا تو روسی اشتراکی عقیدے کے تار و پود بھی بکھر گئے اور صرف قوم پرستی باقی رہ گئی۔ اسی قوم اور وطن پرستی کی مذمت اقبال نے کی تھی اور کہا تھا:

اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور

ساقی نے بِنا کی روشِ لطف و ستم اور

مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور

تہذیب کے آذر نے تر شوائے صنم اور

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

دونوں عالمی جنگوں میں اس وطن و قوم پرستی کا بہت چرچا رہا۔ لیکن میں آج کا کالم وطن پرستی یا قوم دشمنی پر نہیں لکھ رہا۔ آج آپ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ یورپ اور امریکہ نے اپنے ہاں تو مذہب کو وجہِ تنازعہ نہیں بنایا۔ مغرب کا سوادِ اعظم عیسائی مذہب کا پیروکار ہے۔اس مذہب کے بھی ہماری طرح 72فرقے ہیں جن میں رومن کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور پیورٹن، اپنی کثرتِ تعداد کے سبب زیادہ مشہور ہیں۔ تاہم اہلِ مغرب نے اپنی فرقہ بندی سے تو آنکھیں بند کر لیں لیکن اسلام کی فرقہ آرائی کو خوب استعمال کیا۔

نہ صرف مسلم بلکہ غیر مسلم ممالک میں بھی کہ جہاں مسلمان آبادیاں اقلیت میں ہیں، وہاں اس فرقہ آرائی کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات ابھارے گئے اور ایک فرقہ کو دوسرے فرقے کے خلاف اور اقلیت کو اکثریت کے بالمقابل لا کر کشمکش، کشیدگی اور دشمنی کی فضا پیدا کی گئی۔۔۔ میں آپ کو چین کی مثال دینی چاہوں گا!

چین میں اسلام کب پہنچا، چین کی افواج میں کتنے مسلمان جرنیل اور امیر البحر رہے ہیں ، کتنی مساجد تھیں (اور ہیں) قدیم چین کی ہمہ گیر ترقی میں مسلمانوں کا رول کیا رہا ہے، یہ ایک نہایت طویل داستان ہے۔ حالیہ (2017ء) مردم شماری کے مطابق اس وقت چین میں مسلمانوں کی آبادی سوا دو کروڑ ہے۔ یہ تعداد کل آبادی کا 1.6فیصد ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت چین کے مغربی علاقوں میں بستی ہے جس کو صوبہ سنکیانگ کہتے ہیں۔ یہاں سینکڑوں مساجد ہیں، جن میں روز و شب اسلامی تعلیمات کا درس دیا جاتا ہے، عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں، حجاب پر کوئی پابندی نہیں اور نہ ہی اراکینِ اسلام کی بجاآوری پر کوئی قدغن ہے۔ صوبہ سنکیانگ کے مسلمان باسیوں کو ’’یوغر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں اسامہ بن لادن ازم کا اثر و رسوخ بھی کہیں کہیں پایا جاتا ہے۔

لیکن دہشت گردی کی کوئی بڑی واردات دیکھنے یا سننے میں نہیں آئی۔ چین میں بسنے والے مسلمانوں کو معلوم ہے کہ پاکستان اور چین کے روابط، اکتوبر 1962ء کی چین بھارت جنگ کے بعد بڑی تیزی سے پھلے پھولے اور آج چین، پاکستان کا ایک ہمہ موسمی اتحادی ہے۔ چین کسی بھی اسلامی ملک کی تہذیب و ثقافت میں کبھی رکاوٹ نہیں بنا۔

ہاں اکا دکا واقعات ایسے ہوئے ہیں جو دہشت گردی کے زمرے میں شمار کئے جا سکتے ہیں۔ چین نے اپنے ہاں اس لعنت کو پھیلنے سے روکنے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں ان کی پاکستان بھی حمایت کرتا ہے لیکن مغربی دنیا اس مسئلے کو طرح طرح سے اور نمک مرچ لگا کر اچھالتی رہتی ہے۔۔۔

کبھی کہا جاتا ہے کہ چین اپنی مسلم رعایا کے ساتھ مذہبی منافرت کا ارتکاب کرتا رہتا ہے۔ اس ارتکاب کی کئی مثالیں دی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ چین کی قدیم عمارات کا طرزِ تعمیر ایک خاص ڈھنگ کا ہے۔ پاکستان میں بھی کہیں کہیں یہ نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لاہور میں اگر گورنر ہاؤس کے مین گیٹ کے سامنے والی ذیلی سڑک پر جائیں تو ایک چوراہے کا نام چائنا چوک ہے۔

وہاں برلبِ سڑک جو انتظار گاہ بنی ہوئی ہے اس کی چھت کا نمونہ چینی طرزِ تعمیر کا عکاس ہے۔اب اس طرف آیئے کہ مسلمانوں کی مساجد جہاں کہیں بھی ہوں ان کے گنبد گول ہوتے ہیں۔ پاکستان میں فیصل مسجد، اسلام آباد کے علاوہ جتنی بھی قدیم و جدید مساجد بنائی گئی ہیں ان کے گنبد گول رکھے گئے ہیں اور دور سے دیکھنے پر نگاہوں میں کھب جاتے ہیں۔تاجِ محل آگرہ دنیا کے عجائبات میں سے ہے اور اس کے گنبد بھی اُس مدوّر اور دلکش اسلامی طرز تعمیر کے حامل ہیں۔

کہتے ہیں امیر تیمور نے جب دلی برباد کی تو وہاں کی مساجد دیکھ کر کافی متاثر ہوا اور جاتے ہوئے اپنے ساتھ ان معماروں کو بھی لے گیا جنہوں نے دلّی کی مساجد بنائی تھیں۔ اس نے اپنے ہاں سمرقند اور بخارا میں جا کر جو مساجد تعمیر کروائیں اور ان کے علاوہ جو مقبرے بنوائے ان کے گنبد بھی شاہی مسجد لاہور کی طرز کے ہیں جو آج بھی دامنِ نگاہ کھینچتے ہیں۔ چین کا مغربی صوبہ سنکیانگ کہ جس کا ذکر اوپر ہوا وہاں کی مسجدوں کے گنبد بھی سمرقندی ، لاہوری اور دہلوی مساجد و مقابر کی طرز پر بنے ہوئے ہیں۔

نجانے مغربی میڈیا کو کس نے یہ خبر دی کہ چینی حکومت مسلمانوں کی مساجد کے گول گنبدوں کی بناوٹ پر معترض ہے اور چاہتی ہے کہ یہ گنبد،قدیم چینی عمارات کے گنبدوں کی طرز پر تعمیر کئے جائیں۔ یہ ہوائی بھی اڑائی گئی کہ اگر کسی مسجد کی انتظامیہ نے ایک خاص مدت تک اس حکم کی پابندی نہ کی تو حکومت اس مسجد کے گنبدوں کو مسمار کر دے گی۔

یہ پراپیگنڈہ میں نے خود کئی بار امریکی پریس میڈیا میں دیکھا اور پڑھا۔۔۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو چین کے خلاف ابھارا جائے۔۔۔ اس کارِ خیر میں امریکہ کے ساتھ یورپ کے کئی دوسرے ممالک بھی شامل تھے(اور ہیں)

آج بھی مغربی پرنٹ میڈیا میں نہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہوں، رسوم و رواج اور ثقافتی روایات کے خلاف لمبے چوڑے مضامین تحریر کئے جاتے ہیں، بلکہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں سے بھی یہی سلوک کیا جاتا ہے۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ چین میں حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کی آبادی تقریباً 6کروڑ 70لاکھ ہے۔(یہ تازہ ترین اعدادوشمار ہیں) اور یہ تعداد چین کی کل آبادی کا 5فیصد ہے۔۔۔ 27دسمبر 2018ء کا ’’دی نیویارک ٹائمز‘‘ میرے سامنے کھلا ہے۔ اس کے صفحہ نمبر5پر اخبار کے پورے ایک تہائی صفحے پر پھیلا ہوا ایک مضمون چھپا ہوا ہے جس کا عنوان ہے: ’’چین گرجا گھروں کو بند کر رہا ہے جبکہ مسیحی مذہب کے پیروکار سخت مزاحمت کر رہے ہیں‘‘۔۔۔۔ یہاں ایک بات یہ بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ آج کل پوری عیسائی دنیا کرسمس کا عشرہ منا رہی ہے۔ لوگ اپنے ملکوں سے باہر جا کر تفریحی دورے کر رہے ہیں۔ ان ایام و اوقات میں اخبار بینی وہ واحد مشغلہ رہ جاتا ہے جو سیاحوں کو واپس ہوٹلوں میں پہنچ کر دماغی راحت و سکون دیتا ہے۔

ان ایام میں یہ سیاح اپنے مذہب کے بارے میں اگر درج بالا عنوان پڑھیں گے تو اس کی پوری تفصیل بھی جاننا چاہیں گے۔۔۔۔ اور یہی وہ مذموم مقصد ہے جو اس طویل مضمون کو کرسمس کی تعطیلات میں چھاپنے سے مقصودِ نظر ہے۔

اس کالم میں اس طویل مضمون کا خلاصہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ چین کے طول و عرض میں جتنے گھرجا گھر ہیں ان میں آدھے بھی حکومت کی طرف سے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ حکومت نے ان غیر رجسٹرشدہ گرجا گھروں کو بند کرنے کا پروگرام بنایا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لاکھوں عیسائی اپنی عبادت گاہوں کو ’’بچانے‘‘ کی فکر میں ہیں۔

ویسے تو اخبار کی یہ تمام تفصیلات نہایت اشتعال انگیز ہیں۔ لیکن ۔۔۔ ایک فقرہ یہ بھی دیکھ لیجئے: ’’2012ء میں جب سے مسٹرشی نے چین کی باگ ڈور سنبھالی ہے، غیر رجسٹرشدہ گرجا گھروں کے خلاف ایک مسلسل مہم چلائی جا رہی ہے اور مسیحی برادری کی عبادت گاہوں سے 1500صلیبیں زبردستی اتار کر پھینکی جا چکی ہیں!‘‘

قارئینِ محترم! میں نے یہ کالم اس لئے نہیں لکھا کہ آپ کو چین کی مذہب آزاری سے آگاہ کروں۔ نہ ہی یہ مدعا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو چین کی مذہبی ستم کاریوں سے آگاہ کروں ۔۔۔یہ ساری تفصیلات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ لیکن اس جھوٹ کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ اس پر سچ کا گمان گزرتا ہے۔

اس میں مسلمانوں کی مساجد اور عیسائیوں کے کلیساؤں کی جو لوکیشن دی گئی ہے، جن مولوی صاحبان کا ذکر کیا گیا ہے، جن پادریوں کے نام لے لے کر ان سے بیانات منسوب کئے گئے ہیں، بادی النظر میں ان کو پڑھ کر یہ اندازہ نہیں ہو سکتا کہ یہ سب تفصیلات جھوٹ ہوں گی۔۔۔ میں اس کی وجہ پیش کرتا ہوں:

میں ایک طویل عرصے سے مغرب کے انگلش الیکٹرانک میڈیا (مثلا CNN،BBC، Sky News،DWوغیرہ) اور انگلش پرنٹ میڈیا جو آج کل مفت (انٹرنیٹ) پڑھنے کو مل جاتا ہے کا ناظر اور قاری ہوں۔ لیکن شاذ ہی کبھی ایسا ہوا ہو گا کہ کسی نیوز چینل یا نیوز پیپر نے بھارت کے مسلمان کشمیریوں کی حالتِ زار کی کوئی خبر بیان کی ہو، گزشتہ برس جب وانی شہید کا کیس ہوا تھا تو اس وقت کسی ایک آدھ ابلاغی ادارے نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کا ذکر کیا ہو گا۔

آج بھی آپ کو کشمیری مسلمانوں پر بھارت کی طرف سے ظلم و ستم کی انتہاؤں پر شاذ ہی کوئی آرٹیکل یا کالم پڑھنے کو ملے۔۔۔ دوسری طرف کوئی ہی دن جاتا ہے جب مغربی میڈیا میں چین کا کوئی نہ کوئی ایسا پہلو بے نقاب نہیں کیا جاتا جس سے قاری کو کراہت ہونے لگے۔ بات وہی ہے جو میں نے کالم کے آغاز میں لکھی تھی کہ اہلِ مغرب اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔ ان کا گریبان اتنا لمبا چوڑا ہے کہ اس میں ان کے دوستوں کے سارے گریبان مدغم نظر آتے ہیں۔

اگر نظر نہیں آتے تو وہ ایسے گریبان ہوتے ہیں جن کی کوئی الگ حیثیت یا ہئیت نہیں ہوتی۔ وہ دوسروں کے گریبانوں کو اپنے گریبان ہی میں سمیٹ اور لپیٹ لیتے ہیں۔گویا ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔۔۔ امریکہ کے گریبان میں ایک بڑے ایشیائی خطے کا گریبان بھی ہے۔ میری مراد انڈیا سے ہے۔ امریکی میڈیا چین میں طرح طرح کی خرابیاں تو نکالتا رہتا ہے لیکن ایسی درجنوں خرابیاں انڈیا میں بھی بڑی فراوانی سے دستیاب ہیں اور دیکھی اور پائی جاتی ہیں۔ لیکن کیا مجال کہ کوئی ’’نیویارک ٹائمز‘‘ مقبوضہ کشمیر کی طرف بھی آئے۔

گزشٹہ دنوں بڑی مشکل سے ایک امریکی روزنامے میں کشمیر سے متعلق ایک آرٹیکل چھپا تھا جس کا حوالہ میں نے بھی اپنے کسی کالم میں دیا تھا اور سمجھا تھا کہ شائد اب بات آگے چل نکلے۔۔۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔۔۔ جب تک امریکی میڈیا انڈیا کے ان مظالم کی وہ داستان نہیں سناتا یا چھاپتا جو بھارتی حکومت کشمیری مسلمانوں پر ڈھا رہی ہے، تب تک مغربی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا چین اور پاکستان کی بات بات میں کیڑے تو نکالتا رہے گا لیکن انڈیا کو بالکل کلین چٹ دیتا رہے گا!

کئی بار میں نے سوچا ہے کہ اس مرض کا کوئی علاج بھی ہے؟۔۔۔ جواب یہی ملا کہ ہے تو سہی لیکن اس کے لئے روس اور چین کو اسی طرح کا ایک میڈیا نیٹ ورک ایجاد کرنا پڑے گا جس طرح کا امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس وغیرہ کا ہے۔ چین اور روس کا صرف ایک ایک الیکٹرانک چینل CGTNاور RTکے نام سے دو چار برسوں سے چل رہا ہے لیکن یہ دونوں نیٹ ورک ابھی ادھورے ،ناتمام اور ناتجربہ کار ہیں جبکہ مغربی نیٹ ورک وسیع و عریض ،مکمل اور عشروں کے تجربوں سے مالا مال ہیں۔

کیا کسی چینی یا روسی نیوز چینل کے کار پردازوں کی رسائی کشمیر کی گلیوں اور محلوں تک بھی ہے؟۔۔۔ اگر نہیں تو مغربی میڈیا کا توڑ کیسے ممکن ہوگا؟ چین کو اگر پاکستان کے لئے نہیں تو اپنے لئے مغربی پراپیگنڈے کا جواب دینے کے لئے ایک انقلابی ابلاغی نیٹ ورک کی ضرورت ہے جس میں ویسا ہی سٹاف ہو جو بی بی سی اور VOA میں ہے۔۔۔ CPEC کو اب 4،5 برس ہونے کو آئے ہیں لیکن میں نے ابھی تک ویسا کوئی نیٹ ورک معرضِ تشکیل میں نہیں دیکھا جو مستقبل میں مسئلہ کشمیر کے حل میں پاکستان کو ویسی ہی سپورٹ مہیاکر سکے جیسی امریکہ اور اس کے حواری انڈیا کو کر رہے ہیں اور جیسی چین کے خلاف امریکی اور یورپی انگلش ریڈرشپ کو حاصل ہے۔۔۔ اس کا حل جلد نکالئے وگرنہ پرنالہ وہیں کا وہیں رہے گا، اِدھر اُدھر سرکے گا بھی نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -