14وارڈز بند 70اسامیاں خالی مشینری غائب،ڈسٹرکٹ ہسپتال لودھراں ’’آئی سی یو ‘‘ میں داخل ،مریضوں کا اللہ حافظ

14وارڈز بند 70اسامیاں خالی مشینری غائب،ڈسٹرکٹ ہسپتال لودھراں ’’آئی سی یو ‘‘ ...

  

گوگڑاں(نمائندہ پاکستان) تین روز قبل ڈسٹرکٹ ہسپتال لودہراں کا اچانک دورہ کرکے ''فقیرانہ دعا '' دے کر(بقیہ نمبر53صفحہ12پر )

رخصت ہونیوالے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ہسپتال کے مسائل سے بے خبر ہونے کی روایت کو برقرار رکھ گئے۔ہسپتال کو تعمیر کے 6 سال بعد بھی 13 ماہرین امراض سمیت گریڈ 17 سے 20 تک کی 70 اسامیوں کی کمی کا سامنا، 14 اہم وارڈز بند، اہم مشینری غائب، 4 ہزار ہیپا ٹائٹس سی کے مریضوں کی پی سی آر رپورٹ 6 ماہ سے لاہور لیبارٹری کے درازوں میں بند پڑی ہے۔او پی ڈی کے مریضوں کیلئے ادویات کا شدید بحران مریضوں کی تکلیف بڑھانے کیلئے تیار کھڑا ہے۔ سروے کے دوران یہ انکشافات سامنے آئے ہیں کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال لودہراں کی 125 بیڈز کی نء عمارت کو 6 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن تاحال ہسپتال میں ماہر امراض ناک کان گلا، نیورو، جلد کی ایک ایک، ماہر امراض بے ہوشی کی 4،جنرل سرجن کی ایک، فزیشن کی تین، ریڈیالوجسٹ اور پتھالو جسٹ کی ایک ایک اسامی خالی پڑی ہے اس کے ساتھ ساتھ میڈیکل آفیسرز کی تین، سینئر میڈیکل آفیسرز کی 32،سینئر وومن میڈیکل آفیسرز کی تمام منظور شدہ 16،اسسٹنٹ پرنسپل میڈیکل آفیسرز کی 8،اسسٹنٹ وومن میڈیکل پرنسپل آفیسرز کی تمام منظور شدہ 6،پرنسپل میڈیکل آفیسرز کی 2 اور وومن میڈیکل آفیسرز کی ایک آسامیاں تاحال بھرتی کی منتظر ہیں۔دماغ اور کینسر جیسی مہلک امراض کی تشخیص کیلئے سی ٹی سکین مشین کا کچھ پتہ نہیں کہ کب ملے گی اسی طرح ایم آر آء مشین کے ملنے کے کوء نزدیک ترین آثار نظر نہیں آرہے۔گردوں کے بڑھتے امراض کا شکار سینکڑوں مریضوں کیلئے ضلعی سطح کے واحد بڑے ہسپتال میں عرصہ دراز سے 4 پرانی مشینیں کام کررہی تھیں جن میں سے ایک اب خراب پڑی ہے جبکہ ہسپتال ذرائع نے ایک سال قبل مریضوں کے تناسب سے 12 مشینوں کا مطالبہ صحت حکام کو بھیجا ہوا ہے۔ری ویمپنگ کے نام پر شعبہ دل، گائنی، فزیو، ڈائلیسز،آپریشن تھیٹرز وغیرہ کے 14 وارڈز کو ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے حوالے اگست 2017 میں کیا تھا اور معاہدے کے تحت کمپنی نے 6 ماہ میں وارڈز کو جدید سہولیات سے آراستہ کرکے جنوری 2018 تک ہسپتال کے حوالے کرنا تھے اور تقریباً ڈیرھ سال سے جاری مرمت کے اس کام کی وجہ سے سی سی یو وارڈز کے مریضوں کیلئے کم وبیش 10 لاکھ روپے فی کس کے حساب سے خریدے گئے جدید 12 الیکٹرونک ریمورٹ کنٹرول بیڈز سٹور روم کی زینت بنے ہوئے بے کار پڑے ہیں۔لودہراں ضلع ہیپا ٹائٹس کے مریضوں کے حوالے سے 3لاکھ 37 ہزار مریضوں کے ساتھ پنجاب میں 20 ویں نمبر پر ہے۔ہسپتال میں مفت پی سی آر ٹیسٹ کا ''شوشہ '' چھوڑ کر 6 ماہ قبل 4 ہزار مریضوں میں ہیپا ٹائٹس سی کی ابتدائی تشخیص کے بعد پی سی آر رپورٹ کیلئے نمونہ جات لاہور بھجوائے گئے جن میں سے کمال تعجب کی بات ہے کہ کسی ایک مریض کی رپورٹ تاحال واپس نہیں آء۔ہسپتال کو ایک ایم پی اے کے اعلان، سیکرٹری ہیلتھ کے وعدے اور وزیر صحت پنجاب کے احکامات کے باوجود ابھی تک واٹر فلٹریشن پلانٹ نہیں دیا گیا۔انتظامیہ کے مطابق ہسپتال کے بجٹ پر کٹوتی کی چھری اس طرح چلاء گء ہے کہ ایک سال قبل ہسپتال کو سوء گیس کی فراہمی کیلئے 8 لاکھ 64 ہزار کا ڈیمانڈ نوٹس بھیجا گیا جو کم وسائل کے باعث ادا نہ کیا جاسکا اور ہسپتال ابھی تک گیس کی سہولت سے عاری ہے۔2 کروڑ 69 لاکھ کے نان سیلری بجٹ میں کٹ لگا لگا کر اب بجلی، لوکل پرچیز اور دیگر مدات کو بھی ڈیڑھ کروڑ میں ایڈجسٹ کرنے کے احکامات موصول ہوچکے ہیں۔مالی مشکلات کی وجہ سے سیکیورٹی پر مامور 40 گارڈز تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر رونا پیٹنا ڈال کر 6 ماہ کے زبردست احتجاج کے بعد نوکریاں چھوڑ کر جاچکے۔بجلی کی آمدورفت اور خرابیاں دور کرنے کیلئے ایم ای پی کے تحت رکھے گئے 25 ملازمین بھی تنخواہیں نہ ملنے پر فراغت پاگئے اور اب حال یہ ہے کہ وسیع و عریض عمارت اور بجلی کی مسلسل فراہمی کی ذمہ داری صرف ایک لائن مین کے سر آن پڑی ہے۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شوکت علی اعجاز نے بتایا کہ او پی ڈی میں روزانہ معمولی امراض کی دوا کیلئے آنے والے ہزاروں مریضوں کیلئے ہمارے پاس صرف دو ماہ کی مزید ادویات ہیں۔ہم نے جولاء 2018 میں محکمہ کو اپنی ڈیمانڈ بھیجی تھی جس پر اکتوبر 2018 تک ادویات بھیجنے کا وعدہ کیا جاتا رہا اور پھر اچانک 31 اکتوبر کو مراسلہ آگیا کہ ضلعی ہسپتال انتظامیہ اپنی ہیلتھ کونسل کی مشاورت سے ادویات کی خریداری لوکل سطح پر ٹینڈرز کے ذریعے کرے اگر اب یہ مراحل طے کرتے ہیں تو تمام تر تیز رفتاری کے بعد بھی ادویات کی سپلائی اپریل 2019 سے پہلے ممکن نہیں۔ان حالات میں انڈور اور آؤٹ ڈور کو چلانا بہت مشکل ہوگا۔واضح رہے کہ 28 دسمبر کی رات 7 بجے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے چیف سیکرٹری اور آء جی پنجاب کے ہمراہ لودہراں ہسپتال کا اچانک دورہ کیا اور ظاہری ٹیپ ٹاپ دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مسائل پوچھے بغیر فقیرانہ انداز میں دعا دے کر رخصت ہوگئے۔اہالیان ضلع لودہراں نے وزیر اعلیٰ سے ڈسٹرکٹ ہسپتال کو درپیش سنگین مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا ہے۔

Back to Conversion Tool

مزید :

ملتان صفحہ آخر -