سندھ حکومت گرانے کیلئے فائنل راؤنڈ شروع ‘ پی پی ارکان اسمبلی یوٹرن کیلئے تیار

سندھ حکومت گرانے کیلئے فائنل راؤنڈ شروع ‘ پی پی ارکان اسمبلی یوٹرن کیلئے ...

  

ڈہرکی(نامہ نگار )سندھ حکومت کی تبدیلی میں کوئی بھی غیر آئینی اقدام نہیں اٹھایا جائے گا بلکہ پاکستان کے آئین کے دائر ے میں رہ کرہی تمام آپش کو استعمال کیا جائے گا جے آئی ٹی رپورٹ کے بعدوزیر اعلیٰ سندھ کوخودمستعفی ہوجانا چاہئے تھا ۔سندھ اسمبلی میں تبدیلی کیلئے استعمال کرنے والے آپش کا آخری فیصلہ ‘ پیرپگارہ اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کرے گی پی پی مخالف پارٹیاں میرے رابطہ میں(بقیہ نمبر34صفحہ12پر )

ہیں بہت جلدوزیر اعظم عمران خان اورصدر پاکستان عارف علوی میری دعوت پر گھوٹکی آئیں گے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کو گرانے کیلئے کچھ روز سے جی ڈی اے اور پی ٹی آئی کی مرکزی و صوبائی قیادت کے ساتھ ساتھ وفاقی وزرا جی ڈی اے اوردیگرکئی رکن سندھ اسمبلی نے جی ڈی اے کے ایم پی اے اورمہرگروپ کے رہنماء سردار علی گوہر خان مہرکی رہائش گاہ خان گڑھ اورتارگھر کوجوڑ توڑکا مرکزبنالیا ہے سندھ حکومت کو گرانے گورنرراج ان ہاؤس تبدیلی فارورڈ بلاک بنانے سمیت کئی آپشن پر غورکیا جارہا ہے گورنرسندھ اسماعیل،حلیم عادل شیخ وفاقی وزیرعلی محمدخان مہر ، جی ڈی اے کے ایم این اے سردار غوث بخش خان مہر، پی ٹی آئی کا ایم پی اے شہر یارخان شر،ضلعی چیئرمین حاجی خان مہر،چاکرخان بوذدار ،غلام مصطفےٰ ابڑو پی پی پی کے سابق ایم این اے عبدالحق عرف میاں مٹھوسمیت کئی پی پی مخالف سیاسدانوں اور مہرگروپ کے اتحادیوں نے علی گوہرخان کی رہائش گاہ پرڈیرے ڈالے ہوئے سیاسی پنڈتوں سے ملاقاتیں کرکے سندھ حکومت کو گرانے ان ہاؤس تبدیلی لانے یا گورنرراج لاگوکرنے سمیت دیگرآپشن پرغورکرنے کا سلسلہ مذید تیز کردیا ہے جبکہ اس سلسلہ میں عوامی رائے کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل سے علی گوہرخان کے تارگھرمیں متحدہ عرب عمارت کے تعلیمی وزیرشیخ النہیان المبارک کی ملاقات بھی اہمیت کے حامل ہے جبکہ جی ڈی اے کے ایم پی اے سردار علی گوہر خان مہرنے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ سندھ حکومت کو گرا کر ہی دم لیں گے کیونکہ میرے ساتھ پی پی پی کے 22سے زائد ناراض رکن سندھ اسمبلی نے رابطے میں ہیں جنہوں نے مجھے سندھ حکومت گرانے اورفارورڈ بلاک بنانے کا مکمل یقین دلایا ہے جبکہ دوسری جانب سید خورشید شاہ،جام مہتاب حسین ڈہر،سید ناصر حسین شاہ سمیت دیگرمرکزی اورصوبائی پی پی قائدین نے تبدیلی کوڈرامہ قراردیا ہے۔

تیار

مزید :

ملتان صفحہ آخر -