2018 ،اہم شخصیات اسمبلی سے آؤٹ ‘ متعدد کی پہلی بار انٹری ‘ ترقی کا سفر شروع

2018 ،اہم شخصیات اسمبلی سے آؤٹ ‘ متعدد کی پہلی بار انٹری ‘ ترقی کا سفر شروع

  

جام پور نامہ نگار دوہزار اٹھارہ میں ملک کے دیگر علاقوں کی طرح راجنپور میں کئی ایک تبدیلیاں واقع ہو ئیں۔ سابق گورنر پنجاب سردار زوالفقار علی کھوسہ نے پارٹی بھی بدلی لیکن شکست سے دوچار ہوئے۔ اسی طرح سابق گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر بھی الیکشن ہار گئے۔ عوامی پارٹی کے سربراہ جمشید خان دستی بھی الیکشن ہار گئے۔ جبکہ سابق وزیر اعلی پنجاب دوست محمد خان کھوسہ الیکشن ہارنے کے بعد(بقیہ نمبر36صفحہ12پر )

پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ سابق نگران وزیر اعظم میر بلغ شیر مزاری پارٹی بدل کرکے اپنے بیٹے اور پوتے کو کامیاب کراکے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی وزارت حاصل کرلی۔ سابق ایم این اے ڈاکٹر حفیظ الرحمان دریشک۔ سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب شیر علی گورچانی مسلم لیگ کو چھوڑ کرکے جیپ کا نشان لینے کے باوجود الیکشن ہار گئے۔ اسی طرح مسلم لیگ نے کے ساتھ رہنے والے سابق صوبائی پارلمانی سیکرٹری تعلیم عاطف مزاری کی ہار مقدر بنی۔ ممبر قومی اسمبلی سردار محمد جعفرخان لغاری اور صوبائی وزیر سردار محسن خان لغاری مسلم لیگ ن کو چھوڑ کرکے تحریک انصاف میں شامل ہو کرکے کامیابی حاصل کرکے وزارت حاصل کر لی جبکہ سابق وفاقی وزیر ایک بار قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے جبکہ ضمنی الیکشن میں ایم پی اے کی سیٹ پر کامیاب ہو گئے۔ اسی طرح فورٹ منرو ڈوپلمنٹ اتھارٹی کی چیرمین شپ بھی نہ بچا سکے۔ ضلع چیرمین عبدالعزیز خان دریشک۔ ضلع وائس چیرمین مرزا شہزاد ہمایوں نے راجنپور میں ریکارڈ تاریخی کام کرائے اور اسمبلی میں قانون سازی کی۔ سابق چیف وہب وممبر قومی اسمبلی نصراللہ دریشک جنوبی پنجاب سرائیکی صوبہ کا نعرہ لے کرکے تحریک انصاف کی حکومت میں شامل ہو ئے ۔ کامیابی کے بعد بیوروکریسی سے تنازعہ لیے رکھا۔ سابق ایم پی اے کے بیٹے کامیابی کے بعد فوت ہو گئے ان کی جگہ ان کے بھائی کامیاب ہو گئے۔ بوسن گینگ کا خاتمہ ہو ا۔ بارہ سال بعد دوہزار اٹھارہ میں سٹیل پل پہلی مرتبہ کوٹلہ مغلان میں جعفرخان لغاری کی کاوشوں سے بنا۔ تعلیم کے شعبہ میں راجن پور نے خاصی ترقی کی ۔ چھتیس اضلاع سے نام نکل کرکے 23نمبر پر ریکنگ میں آگیاہے۔

سیاسی شخصیات

مزید :

ملتان صفحہ آخر -