سردی میں اضافہ ‘ سوئی گیس غائب ‘ شہر شہر احتجاج ‘ دھرنے ‘ صورتحال سنگین

سردی میں اضافہ ‘ سوئی گیس غائب ‘ شہر شہر احتجاج ‘ دھرنے ‘ صورتحال سنگین

  

وہاڑی‘ میلسی ‘ خانپور ‘ رحیم یار خان ‘ باگڑ سرگانہ(نمائندگانپاکستان ) سردی کی شدت میں مزید اضافہ کے ساتھ سوئی گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا.شہر کے اکثر علاقوں میں سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ اورمسلسل عدم دستیابی کے باعث بچوں سمیت بڑے افراد (بقیہ نمبر39صفحہ12پر )

شدید پریشانی کا شکار ہورہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں سوئی گیس کی بدترین لوڈ شیدنگ جاری ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں کے مکین جدید دور میں لکڑیوں پر کھانا پکانے پر مجبور ہیں۔ادھر میلسی میں گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس کے نتیجہ میں خواتین کو صبح کے وقت ناشتہ کی تیاری میں شدیددشواری کا سامنا کرنا پڑرہاہے جس کی وجہ سے سکولزوکالج جانے والے طلباء وطالبات اورمختلف دفاتر سمیت محنت مزدوری کیلئے جانے والے افراد بروقت پہنچنے کیلئے بھوکے ہی چلے جاتے ہیں ستم ظریفی یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ صبح کے وقت تک محدود نہیں بلکہ دوپہروشام کوبھی جاری رہتی ہے جس کی وجہ سے شہری کھانے کا بندوبست کرنے کیلئے ہوٹلوں سے مہنگا کھاناخریدنے پرمجبورہیں جبکہ متعدد شہری متبادل ایندھن کے طورپرمہنگے گیس سلنڈر،لکڑیاں ،کوئلے ،فروٹ کی پیٹیوں کی پھٹیاں اورگوبرکی تھاپیاں خریدکرچولہاجلانے پرمجبورہیں شہریوں نے شدیداحتجاج کرتے ہوئے کہا ہے تبدیلی نے ہمیں پہاڑوں کے زمانے میں دھکیل دیا ہے اگرحکمران عوام کوریلیف نہیں دے سکتے توگیس جیسی بنیادی سہولت بھی نہ چھینیں ۔خان پور کے مقامی سماجی دینی و سیاسی رہنماوَں فرحان کمبوہ ، ساجد انور کمبوہ ، اشرف جٹ ، ڈاکٹر شاہد حنیف ، رانا عبدالغفار راجپوت ، غلام مرتضی ٰ چوہدری اور خان محمد لبانہ نے کہا ہے کہ گیس بحران نے ہر گھر سے گیس کی بجائے دھواں اٹھا دیا ہے ۔ گھریلو صارفین گیس بندش کے بعث نا صرف کھانا تیار کرنے کے حوالے سے مشکلات ودشواریوں سے دو چار ہیں ۔ بلکہ گھر کا بجٹ بھی شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بازاری اشیا ء غیر معیاری کھانے نہ صرف ہیں بلکہ صحت کا بھی نقصان ہے ۔ رحیم یار خان میں شہربھرمیں گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ گھریلوصارفین کے لئے وبال جان بن گئی گھروں میں گیس نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کومشکلات کاسامنادن بھر کچھ وقت کے لئے توگیس ہوتی ہے مگررات گئے گیس نہ ہونے سے ہوٹلز سے مہنگے داموں کھاناخریدنامعمول بن گیاجبکہ گھروں میں اکثروبیشترگیس نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں جھگڑے معمول بن گئے دن بھرتھکے ہارے دکانداراوردفتروں میں کام کرنے کے بعد جب گھرآتے ہیں توگیس نہ ہونے کی وجہ پریشانی میں اضافہ بھی ہوجاتاہے ۔خانیوال میں چار روز سے مکمل بندش کیخلاف خواتین کا احتجاجی مظاہرہ اور دفتر میں دھرنا دے دیا گیس فراہمی کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کردیا تفصیل کے مطابق خانیوال کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ چار روز سے سوئی گیس مکمل طورپر بند ہے جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں کے مکین سخت تکلیف میں مبتلا ہیں گزشتہ روز سینکڑوں خواتین نے گزشتہ چار روز سے سوئی گیس کی بندش کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور بعدازاں انجینئر شہزاد کے دفتر کے باہر احتجاجی دھرنا دے دیا انہوں نے گیس فراہمی کے نعرے لگائے قائمقام آفیسر انجینئر شہزاد، راؤ طارق نے خواتین کو گیس کی فراہمی کا یقین دلایا جس پر دھرنا ختم کردیاگیا دوسری جانب شہر میں سوئی گیس کی بند ش پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کیا جبکہ مارکیٹ میں ایل پی جی گیس کے من مانے نرخ200روپے کلو سے بھی زائد وصول کئے جارہے ہیں انتظامیہ نے چپ کی چادر اُوڑھی ہوئی ہے خواتین نے آج بروز منگل ایک بار پھر جلوس کا اعلان کیا ہے۔گھریلوصارفین کو سوئی گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے کم پریشر اور رات کے اوقا ت میں گیس بندش صارفین پریشان سب سے زیادہ سردی کے سخت ترین موسم میں معصوم بچے متاثر ہورہے ہیں اور مختلف موسمی بیماریوں جن میں نزلہ زکام بخارودیگر کئی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ہیں چھوٹے بچوں کی اکثر یت رات کو دودھ پیتی ہے لیکن گیس سپلائی بند ہونے سے ٹھنڈا دودھ پینے سے معصوم بچے بیمار ہوجاتے ہیں جب کہ اس کے برعکس صنعتی یونٹوں کوبرابر گیس سپلائی جاری رکھی جاتی ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -